Sliderاسلامی تحقیقاتقرآنیات

قرآن کریم: مصدّق ومہیمن

قرآن وہ کسوٹی ہے جس کے ذریعے بہ خوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اہل کتاب کے کون سے دعاوی ومزعومات باطل ہیں

ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی

آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو وحی بھیجی گئی وہ قرآن مجید کی شکل میں محفوظ ہے۔اس میں ادنیٰ سی بھی کمی بیشی یا تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ دوسری مذہبی کتابوں کے مقابلے میں اس کا ایک امتیاز یہ ہے کہ دوسری کتابیں حوادثِ زمانہ کی نذر ہوگئیں، ان کے اصل نسخے ضائع ہوگئے، بعد میں یادداشتوں کی بنیاد پر انھیں ازسرِ نو مرتب کیا گیا، خود ان کو ماننے والوں نے ان میں تحریفات کرڈالیں، بہت سی باتیں، جو ان کی خواہشاتِ نفسانی سے ٹکراتی تھیں، انھیں خارج کردیا اور بہت سی باتیں، جو ان کی خواہشات سے مطابقت رکھتی تھیں، ان میں داخل کردیں، لیکن قرآن کریم کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ جیسا نازل ہوا تھا، ٹھیک ٹھیک ویسا ہی آج بھی موجود ہے۔ قرآن خود اپنا تعارف ان الفاظ میں کراتا ہے:

 وَإِنَّہُ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ، لَا یَأْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہِ تَنزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ٍ  (حم السجدۃ:۴۱۔۴۲)

’’حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے‘‘۔

’باطل کے سامنے اور پیچھے سے نہ آسکنے‘ کا کیا مطلب ہے؟ مفسرین کرام نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ علامہ طبریؒ نے مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد درج ذیل قول کو ترجیح دی ہے:

’’سامنے سے نہ آسکنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی سازشی اپنی سازش کے ذریعے نہ اس میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے اور نہ اس کے حقیقی معانی سے اسے پھیر سکتا ہے اور پیچھے سے نہ آسکنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں باہر سے کوئی چیز شامل نہیں کی جاسکتی‘‘(۱   )

علامہ زمخشریؒ اس طرزِ تعبیر کو تمثیل قرار دیتے ہیں اور اس کا یہ مطلب بتاتے ہیں :

’’یہ تمثیل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باطل کسی بھی سمت سے اس تک نہیں پہنچ سکتا اور کسی بھی صورت میں اس کی اس تک رسائی نہیں ہوسکتی‘‘۔(۲)

امام رازیؒ نے اس پر تفصیل سے بحث کی ہے اور زمخشریؒ کی توجیہ کے علاوہ درج ذیل توجیہات بھی بیان کی ہیں :

’’اول:نہ کتبِ سابقہ مثلاً توریت، انجیل اور زبور اسے جھٹلاتی ہیں اور نہ اس کے بعد آنے والی کوئی کتاب اسے جھٹلائے گی۔

دوم:جس چیز کو قرآن نے حق کہہ دیا وہ باطل نہیں ہوسکتی اور جس کے بارے میں باطل ہونے کا فیصلہ سنادیا وہ حق نہیں ہوسکتی۔

سوم:   اس کامطلب یہ ہے کہ وہ بالکل محفوظ ہے۔ باطل کے سامنے سے نہ آسکنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کوئی کمی نہیں ہوسکتی اور پیچھے سے نہ آسکنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔

چہارم:اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہوکہ نہ مستقبل میں کوئی ایسی کتاب پائی جاسکتی ہے جو اس کے مدّ مقابل ہو اور نہ ماضی میں کوئی ایسی کتاب پائی گئی ہے جسے اس کے مقابلے میں پیش کیا جاسکتا ہو‘‘ (۳)

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’سامنے سے نہ آسکنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پر براہِ راست حملہ کرکے اگر کوئی شخص اس کی کسی بات کو غلط اور کسی تعلیم کو باطل و فاسد ثابت کرنا چاہے تو اس میں کام یاب نہیں ہوسکتا۔ پیچھے سے نہ آسکنے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک کبھی کوئی حقیقت وصداقت ایسی منکشف نہیں ہوسکتی جو قرآن کے پیش کردہ حقائق کے خلاف ہو، کوئی علم ایسا نہیں آسکتا جو فی الواقع ’علم‘ ہو اور قرآن کے بیان کردہ علم کی تردید کرتا ہو، کوئی تجربہ اور مشاہدہ ایسا نہیں ہوسکتا جو یہ ثابت کردے کہ قرآن نے عقائد، اخلاق، قانون، تہذیب وتمدن، معیشت ومعاشرت اور سیاستِ مُدن کے باب میں انسان کو جو رہ نما ئی دی ہے وہ غلط ہے‘‘ (۴)

قرآن کے زمانۂ نزول ہی میں اس کے مخالفین نے الزام لگایا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ انسانی کاوش کا نتیجہ ہے۔ قرآن نے سختی سے اس الزام کی تردید کی اور اس کی دلیل یہ دی کہ جو تعلیم یہ پیش کرتا ہے وہ بعینہ وہی ہے جو پچھلے انبیاء لاچکے ہیں اور جو سابقہ کتابوں میں درج ہے:

’’وَمَا کَانَ ہٰـذَا الْقُرْآنُ أَن یُفْتَرَیٰ مِن دُونِ اللّہِ وَلَـکِن تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ الْکِتٰبِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ ‘‘ (یونس:۳۷)(۵)

’’اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی وتعلیم کے بغیر تصنیف کرلیا جائے، بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آچکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرماں روائے کائنات کی طرف سے ہے‘‘

قرآن الزام لگانے والوں کو چیلنج کرتا رہا کہ اگر تم اسے اللہ کا کلام نہیں مانتے اور انسانی تصنیف قرار دیتے ہو تو ویسا کلام خود پیش کرکے دکھاؤ۔ کبھی اس نے دس سورتیں پیش کرنے کا چیلنج کیا (ہود:۱۳)تو کبھی ایک سورت کا (یونس:۳۸)۔ یہ چیلنج مکی دور کی سورتوں میں بار بار پیش کیا جاتا رہا، مگر اہل قریش اپنی بے مثل زبان دانی اور اعلیٰ درجے کی فصاحت وبلاغت کے باوجود ویسا کلام پیش کرنے سے عاجز وبے بس رہے۔ بالآخر مدنی دور کے آغاز میں نازل ہونے والی سورۃ البقرۃ میں آخری مرتبہ انھیں چیلنج کیا گیا:

وَإِن کُنتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَۃٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُواْ شُہَدَاء کُم مِّن دُونِ اللّہِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ (البقرۃ:۲۳)

’’اور اگر تمھیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنالاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو۔ اگر تم سچے ہو تو یہ کام کرکے دکھاؤ‘‘

پھر جو کچھ قرآن کی شکل میں نازل ہوتا رہا اس کی حفاظت کا غیر معمولی انتظام کیا گیا۔ خود اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کی ضمانت لی: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحٰفِظُونَ  الحجر:۹(رہا یہ ذکر تو اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں )اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ اس کی حفاظت کے تعلق سے فکر مند اور پریشان نہ ہوں۔ یہ کام ہمارا ہے اور ہم اسے کرکے رہیں گے:

إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہ،فَإِذَا قَرَأْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہ، ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ (القیٰمۃ:۱۶۔۱۹)

’’(اے نبی) اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، اس کو یاد کرادینا اور پڑھوادینا ہمارے ذمے ہے، لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں اس وقت تم اس کی قراء ت کو غور سے سنتے رہو، پھر اس کا مطلب سمجھادینا بھی ہمارے ہی ذمے ہے‘‘۔

جوں جوں قرآن نازل ہوتا رہا، لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہوتا رہا اور تحریری شکل میں بھی اسے محفوظ کیا جاتا رہا۔ باوجود یہ کہ اُس زمانے میں لکھنا پڑھنا جاننے والے انتہائی قلیل تعداد میں تھے، مکہ میں ایسے لوگوں کو انگلیوں پر گنا جاسکتا تھا، تحریری آلات ووسائل کی بھی کمی تھی، لیکن اس کے باوجود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو تحریری شکل میں وحی الٰہی کے مطابق مرتب اور محفوظ کرنے کا  غیرمعمولی اہتمام کیا۔ چناں چہ جب آپؐ کا انتقال ہوا اُس وقت پورا قرآن اسی ترتیب کے مطابق، جس ترتیب سے آج ہمارے درمیان ہے، تحریری شکل میں موجود تھا۔

قرآن مجید کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ گزشتہ مذہبی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ گزشتہ انبیاء کو اللہ تعالی کی جانب سے جو وحی کی گئی تھی اور جو تعلیم دی گئی تھی وہی قرآن میں بھی بیان کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل کی گئی تھی اور حضرت عیسی علیہ السلام کو انجیل دی گئی تھی، اب حضرت محمد ﷺ کو قرآن سے نوازا گیا ہے۔ سب کی بنیادی تعلیم ایک ہی ہے اور چوں کہ سب سے آخر میں قرآن نازل کیا گیا ہے اس لیے وہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا اور ان کی حقیقی تعلیم کی تائید کرتا ہے۔ یہ وصف قرآن کی بہت سی آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں بہ طور مثال چند آیات پیش کی جاتی ہے:

نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَأَنزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالإِنجِیْلَ مِن قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ (آل عمران:۳۔۴)

(’’اے نبی) اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جو حق لے کر آئی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کرچکا ہے اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے (جوحق وباطل کا فرق دکھانے والی ہے)‘‘۔

وَہٰـذَا کِتٰبٌ أَنزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ (الانعام:۹۲)

’’یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی خیر وبرکت والی ہے، اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی‘‘۔

وَالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ  (فاطر:۳۱) (۶)

’’(اے نبی) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعے سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آئی تھیں ‘‘۔

’مُصَدِّق‘ کے دو مفہوم ہیں اور دونوں مراد ہوسکتے ہیں : اس کا ایک مفہوم ہے ’تصدیق کرنے والا‘ اور دوسرا مفہوم ہے ’مصداق‘۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے دونوں پر روشنی ڈالی ہے۔ فرماتے ہیں :

’’قرآن کے مُصَدّقاً لما بین یدیہ ہونے کے ایک مشہور معنیٰ تو یہ ہیں کہ یہ بنیادی طور پر پچھلے صحیفوں کی تمام صحیح تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے۔ صرف ان باتوں کی تردید کرتا ہے جو ان میں ملاوٹ کرنے والوں کی طرف سے ملادی گئی ہیں۔ قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفوں کی یہ ہم آہنگی وہم رنگی اس بات کی صاف شہادت ہے کہ یہ سب ایک ہی آفتابِ حق کی شعاعیں اور ایک ہی منبعِ انوار کے پرتو ہیں۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ قرآن اور اس کے حامل کی صفات پچھلے صحیفوں کی پیشین گوئیوں میں مذکور ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اب تک اپنے مصداق کی منتظر ـتھیں۔ قرآن کے نزول اور محمد ﷺ کی بعثت سے ان کی تصدیق ہوئی۔ یہ قرآن کے حق ہونے کی ایک بہت بڑی شہادت ہے اور ساتھ ہی اس سے ان صحیفوں کی بھی تصدیق ہورہی ہے کہ ان میں جو پیشین گوئیاں وارد تھیں وہ سچی ثابت ہوئیں ‘‘۔ (۷)

قدیم مفسرین میں امام رازیؒ نے آیت مذکور کے دونوں مفہوموں کی نشان دہی کی ہے۔ فرماتے ہیں :

’’اس آیت میں ’مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُم‘  کے دو مفہوم ہیں :

اول:یہ کہ قرآن میں ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام برحق ہیں، تورات وانجیل برحق ہیں، تورات حضرت موسیٰ پر اور انجیل حضرت عیسیٰ پر نازل ہوئی تھی، اس طور پر قرآن پر ایمان تورات وانجیل پر ایمان کو مضبوط کرنے والا ہوگا۔ گویا ان سے کہا گیا: اگر تم توریت وانجیل پر پختہ ایمان رکھنا چاہتے ہو تو قرآن پر ایمان لاؤ، اس لیے کہ قرآن پر ایمان لانے سے توریت وانجیل پر ایمان پختہ ہوتا ہے۔ (۸)

دوم:  یہ کہ تورات وانجیل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی بشارت کی گئی ہے۔ اس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے تورات و انجیل کی تصدیق ہوگی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کو جھٹلانے سے تورات وانجیل کی تکذیب ہوگی۔ (۹)

قرآن کا یہ وصف بیان کرتے ہوئے اہل کتاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب قرآن تمہاری مذہبی کتابوں کی صحیح تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے تو اس پر ایمان لاؤ، اس کا انکار نہ کرو اور ذاتی خواہشات واغراض کی تکمیل کے لیے اس سے روٗگردانی نہ کرو:

یٰآیُّہَا الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتٰبَ آمِنُواْ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُم (النساء:۴۷)

 ’’اے وہ لوگو جنھیں کتاب دی گئی تھی! مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے۔‘‘

دوسری جگہ مزید وضاحت سے کہا گیا ہے:

وَآمِنُواْ بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُمْ وَلاَ تَکُونُواْ أَوَّلَ کَافِرٍ بِہِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیٰتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَإِیَّایَ فَاتَّقُونِ (البقرۃ:۴۱)

 ’’اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی۔ لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اورمیرے غضب سے بچو‘‘۔

قرآن کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ دین کی اصل تعلیمات کا محافظ ہے اور پہلے کے لوگوں نے اس میں جو تحریفات کردی ہیں ان کی اصلاح کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُہَیْمِناً عَلَیْہ          (المائدۃ:۴۸)

 ’’اور (اے نبی) ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ ونگہبان ہے‘‘۔

اس آیت میں ایک لفظ ’مُہَیمِن‘ آیا ہے۔ اس کی اصل یا تو ہیمن یہیمن مہیمن ہے یا آمن یؤمن مؤامن، جس میں تبدیلی ہوکر مہیمن ہوگیا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کے معنیٰ نگہبان، گواہ اور محافظ کے ہیں۔ (۱۰)

علامہ طبریؒ نے اس کے معنیٰ کے سلسلہ میں یہ تمام اقوال نقل کرنے کے بعد ان پر یوں تبصرہ کیا ہے:

’’ان تمام الفاظ کے معانی قریب قریب یکساں ہیں۔ لفظ مہیمن کا ان سب پر اطلاق ہوتا ہے۔ وہ پہلے کی ہر کتاب پر امین، گواہ اور حاکم ہے۔ اللہ نے اس کتابِ عظیم کو، جسے اس نے نازل کیا ہے، سب سے آخری کتاب بنایا ہے۔ اسی طرح اس نے اسے تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جامع، عظیم اور محکم بنایا ہے۔ اس نے اس میں تمام سابقہ کتابوں کے محاسن جمع کردیے ہیں اور بہت سے ایسے کمالات کا اضافہ کردیا ہے جو دوسری کتابوں میں نہیں پائے جاتے۔ اسی لیے اسے تمام کتابوں پر گواہ، محافظ اور حاکم بنایا ہے‘‘۔(۱۱)

اسی طرح مفسّر ابن عطیہؒ نے بھی پہلے مفسرین سے منقول لفظ’ مہیمن‘ کے تمام معانی ذکر کیے ہیں، پھر لکھا ہے:

’’لفظ ’مہیمن‘ میں ان تمام الفاظ کے مقابلے میں زیادہ تخصیص پائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ مہیمن کے معنیٰ ہیں کسی چیز پر توجہ دینے والا،اس کے حقائق کی گواہی دینے والا، اسے اٹھانے والے کی حفاظت کرنے والا، کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے۔ قرآن کو اللہ تعالی نے دوسر ی کتابوں پر مہیمن بنایا ہے۔ وہ گواہی دیتا ہے کہ ان میں کیا صحیح باتیں پائی جاتی ہیں اور تحریف کرنے والوں نے کیا باتیں ان میں شامل کردی ہیں۔ چناں چہ وہ صحیح باتوں کی تائید کرتا ہے اور تحریف کو غلط قرار دیتا ہے‘‘۔(۱۲)

مولانا  سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’اصل میں لفظ ’مہیمن‘ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنیٰ محافظت، نگرانی، شہادت، امانت، تائید اور حمایت کے ہیں۔ پس قرآن کو الکتاب پر مہیمن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان تمام برحق تعلیمات کو، جو پچھلی کتبِ آسمانی میں دی گئی تھیں، اپنے اندر لے کر محفوظ کردیا ہے۔ وہ ان پر نگہبان ہے اس معنیٰ میں کہ اب ان کی تعلیماتِ برحق کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے گا۔ وہ ان کا مؤید ہے، اس معنیٰ میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کا کلام جس حد تک موجود ہے، قرآن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ ان پر گواہ ہے، اس معنیٰ میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کے کلام اور لوگوں کی جو آمیزش ہوگئی ہے، قرآن کی شہادت سے اس کو پھر چھانٹا جاسکتا ہے۔جو کچھ ان میں قرآن کے مطابق ہے وہ خدا کا کلام ہے اور جو قرآن کے خلاف ہے وہ لوگوں کا کلام ہے‘‘۔ (۱۳)

آیتِ زیر بحث کا ایک ٹکڑا ’مُصَدِّقاً لّمَا بَینَ یَدَیہِ مِنَ الکِتٰبِ‘ ہے۔ اس میں لفظ الکتٰب بہ طور جنس آیا ہے۔ یعنی قرآن پچھلی تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے واحد لفظ لائے جانے کی معنویت پر یوں روشنی ڈالی ہے:

’’یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ اس مضمون کو یوں بھی ادا کیا جاسکتا تھا کہ’پچھلی کتابوں ‘ میں سے جو کچھ اپنی اصلی اور صحیح صورت پر باقی ہے، قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے، لیکن اللہ تعالی نے ’پچھلی کتابوں ‘ کے بجائے ’الکتاب‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ قرآن اور تمام وہ کتابیں جو مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں، سب کی سب فی الاصل ایک ہی کتاب ہیں، ایک ہی ان کا مصنف ہے، ایک ہی ان کا مدّعا اور مقصد ہے، ایک ہی ان کی تعلیم ہے اور ایک ہی علم ہے جو ان کے ذریعے سے نوع انسانی کو عطا کیا گیا۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا ہے، جو ایک ہی مقصد کے لیے مختلف مخاطبوں کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے اختیار کی گئیں۔ پس حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ کتابیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں، مؤید ہیں، تردید کرنے والی نہیں، تصدیق کرنے والی ہیں، بلکہ اصل حقیقت اس سے کچھ بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی الکتاب کے مختلف ایڈیشن ہیں ‘‘ (۱۴)

قرآن کریم نے جہاں یہ وضاحت کی کہ دین کی وہ حقیقی تعلیمات کیا ہیں جو گزشتہ کتابوں میں بھی پائی جاتیں تھیں، وہیں بہت سی وہ باتیں بھی صراحت سے بیان کیں جنھیں اہل کتاب نے یا تو چھپالیا تھا یا ان میں تحریفات کردی تھیں :

یٰٓأَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاء کُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْراً مِّمَّا کُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَعْفُو عَن کَثِیْر (المائدۃ:۱۵)

’’اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے، جو کتاب الٰہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے‘‘۔

قرآن کا یہ وصف متعدد آیات میں مذکور ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 إِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ یَقُصُّ عَلَی بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ أَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُونَ (النمل:۷۶)

 ’’یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں ‘‘۔

رسول کو مخاطب کرکے وہ فرماتا ہے:

وَمَا أَنزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ إِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ وَہُدًی وَرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُون          (النحل:۶۴)

’’ہم نے یہ کتاب تم پر اس لیے نازل کی ہے کہ تم ان اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دو جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کتاب رہ نمائی اور رحمت بن کر اتری ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے مان لیں ‘‘۔

قرآن وہ کسوٹی ہے جس کے ذریعے بہ خوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اہل کتاب کے کون سے دعاوی ومزعومات باطل ہیں اور ان کی مذہبی کتابوں میں کیا تحریفات در آئی ہیں۔ بائبل کے جو بیانات قرآن سے ٹکراتے ہیں، یقینی بات ہے کہ وہ تحریفات کا شکار ہوئے ہیں۔ اسی طرح یہود ونصاری میں جن باتوں میں اختلاف ہے ان میں صحیح بات وہ ہے جس کی تائید وتصدیق قرآن سے فراہم ہوتی ہے۔

حوالہ جات:

(1)ابوجعفر محمد بن جریر الطبری، جامع البیان عن تاویل آی القرآن المعروف بتفسیر الطبری، المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر 1328ھ (طبع قدیم) 79/24

(2)ابوالقاسم جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری، الکشاف عن حقائق التنزیل، مصطفی البابی الحلبی واولادہ مصر،1392ھ؍ 1972ءاس توجیہ کو دیگر مفسرین نے بھی کشاف کے حوالہ کے ساتھ یا بغیر حوالہ کے نقل کیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے فخرالدین الرازی، مفاتیح الغیب المعروف بالتفسیر الکبیر، المکتبۃ التوفیقیۃ القاہرۃ، مصر 117/27،ابو حیان الاندلسی، البحر المحیط، داراحیاء التراث العربی بیروت، 1423ھ؍ 2002، 663/7، شہاب الدین الآلوسی، روح المعانی، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر،127/24

(3) تفسیر کبیر، 117/27

(4)سید ابوالاعلی مودودی، تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی،463/4

(5) مخالفین کا الزام اور اس کا جواب قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ ملاحظہ کیجئے: یونس:38،ھود:13، الانبیاء:5، الفرقان:4، السجدۃ:3، الاحقاف:8

(6)قرآن کی صفت ’مُصَدِّق‘ اور بھی متعدد آیتوں میں مذکور ہے۔ ملاحظہ کیجئے: البقرۃ: 41، 89، 91، 97، المائدۃ: 48، الاحقاف:12،30

(7)امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، تاج کمپنی دہلی، 18/2۔ مولانا صدر الدین اصلاحیؒ نے اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک ان آیات میں ’مصداق‘ کا مفہوم ہی صحیح ہے، دوسرا مفہوم نہیں لیا جاسکتا۔ ملاحظہ کیجئے: تیسیر القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی میں بحث ’قرآن کے مصدّقِ تورات ہونے کا مطلب ‘ص:389-398۔

(8)تفسیر کبیر:41/3

(9)امام رازیؒ نے اگرچہ دونوں مفہوم بیان کردیے ہیں، لیکن موخر الذکر مفہوم کو ترجیح دی ہے۔ ان کا کہناہے کہ پہلے مفہوم کو اختیار کرنے کی صورت میں حضرت محمدﷺپر ایمان لازم نہیں ہوتا۔ اس سے صرف تورات وانجیل کے برحق ہونے کا علم ہوتا ہے۔ دوسرے مفہو م میں چوں کہ یہ بات شامل ہے کہ تورات وانجیل میں حضرت محمدﷺ کی پیشین گوئی آئی ہے اس لیے ان پر ایمان کا تقاضا ہے کہ آپ ؐ  کو پیغمبر تسلیم کیا جائے اور یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالی نے اس چیز کو یہود ونصاری پر حجت قرار دیا ہے، اس لیے یہ مفہوم قابل ترجیح ہے۔ تفسیر کبیر، 41/3،مزید ملاحظہ کیجئے:174/3،194

(10)تفسیر کبیر،10/11

(11)ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی، تفسیر القرآن العظیم المعروف بتفسیر ابن کثیر، مؤسسۃ الریان للطباعۃ والنشر والتوزیع بیروت،1428ھ 2007ء، 740/2

(12) المحرر الوجیز، 199/2، بہ حوالہ البحر المحیط، 689/3

(13)تفہیم القرآن، 477/1

(14)تفہیم القرآن، 477-476/1

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button