Sliderفکرونظر

قریب آگیا لوگوں کے حساب کا وقت

بے شک آزمائش کی دعا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ لیکن آزمائش پر ثابت قدم رہنا بھی انبیاء کرام علیہم اجمعین،صحابہ،شہدا،صدیقین ،صالحین کی سنت رہی ہے۔۔۔اور اس سنت کوزندہ رکھنا ہمارا فرض عین ہے۔۔۔ دار فانی کے متعلق یہ چیز بھی ہر وقت ذہن میں رہے کہ۔۔۔ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے

قریب آگیا لوگوں کے حساب کا وقت

ازقلم: شازیہ عرش ماہ بنت نقیب خان

(عمرکھیڑ ضلع ایوتمحل مہاراشٹر)

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے،ہم نے زندگی اور موت کو ایجاد کیا تاکہ تمہیں آزما کر دیکھیں کے تم میں بہتر عمل کرنے والا کون ہے؟(سورہ الملک)

   اور یہ سال بھی گزر گیا۔۔دنیا بھی کتنی برف کی طرح پگھل رہی ہے۔کتنے لوگ گذشتہ سال ہمارے درمیان تھے آج نہیں ہے اور کتنے لوگ آج ہے آنے والے سال نہیں رہیں گے شاید ہم بھی۔۔۔۔۔۔

بقول شاعر

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی۔۔۔

    یہ زندگی بس‌ آزمائش کے سوا کچھ نہیں۔۔۔جس شخص کو اللہ کے ہر کام کی حکمت سمجھ آجائے وہ زندگی میں کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے پر شکوہ شکایت نہیں کرتا بلکہ صرف تسلیم کرتا ہے ۔۔۔

مصیبت کا مقابلہ صبر سے کرتا ہے مایوس نہیں ہوتا

 نعمتوں کی حفاظت شکر سے کرتا ہے گھمنڈ اور فخر نہیں جتلاتا

وہ آزمائش ہی تو ہوتی ہےجو کسی کو کندن و ہیرابناتی یا کسی کو محض کوئلہ و راکھ۔۔۔

    بے شک آزمائش کی دعا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ لیکن آزمائش پر ثابت قدم رہنا بھی انبیاء کرام علیہم اجمعین،صحابہ،شہدا،صدیقین ،صالحین کی سنت رہی ہے۔۔۔اور اس سنت کوزندہ رکھنا ہمارا فرض عین ہے۔۔۔ دار فانی کے متعلق یہ چیز بھی ہر وقت ذہن میں رہے کہ۔۔۔ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے۔

         زندگی اتنی عظیم الشان نعمت ہے جو ابدی زندگی کی کھیتی ہے۔۔۔جو یہ چیز سمجھ جائے تو کو ئی دوسری چیز سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔

لیکن!!!

    شیطان بھی کہاں اپنے کام سے باز رہنے والا۔۔۔وہ رب العالمین کے بندوں کو بہکانے میں پیچھے نہیں رہتا وہ صرف گناہ پر اکساتا اور ابھارتا اور دعوت دیتا ہے۔۔۔جس کے باعث ہم آزمائش میں مبتلا ہو کر اسلامی تعلیمات کا علم ہونے کے باوجود اس کو طاق پر رکھ کر ایسے اعمال کر جاتے ہیں ۔۔۔۔ جیسے جنم دن، نئے سال کا جشن، وغیرہ جس کا اسلام میں سرے سے کوئی تذکرہ ہی نہیں۔۔۔پراپنی شان لوگوں پر منوانے کے لیے کوئی کثر باقی نہیں رکھتے۔۔۔ہماری اس حرکت پر۔۔۔

اللہ سبحانۂ و تعالیٰ فرماتا ہے،

یقین جانو جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلا یا ہے اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا ہے ان کے لئے ہرگز نہ کھولے جائیں گےآسمان کے دروازے اور وہ لوگ ہرگز جنت میں نہ جائیں یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے اور ہمارے ہاں مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔۔۔

بے شک رب العالمین کے وعدے برحق ہوتے ہیں۔

لیکن ہم بار بار گناہ کا اعادہ کرتے ہیں اور سترماؤں سےمحبت کر نے والا رب العالمین بار بار کہتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے معافی طلب کرنے والا تاکہ میں اسے معاف کرو۔۔۔

    لہٰذا ہم کو چاہئے کہ ہم اس رب العالمین سے توبہ و استغفار کا معمول بنائیں۔۔۔شیطان سے ہمیشہ پناہ مانگے، فریضہ اقامت دین ادا کرے تاکہ وہ ہماری مدد کریں۔۔۔

کیونکہ کے رب العالمین فرماتا ہے۔۔۔

"تم میری مدد کرو،میں تمھاری مدد کروں گا اور تمہارے قدم کافروں کے مقابلہ میں مضبوط جمادوں گا۔۔۔

آج باطل کتنے بھی منصوبہ سے خوف دلانے کی کوشش کریں لیکن ہم بحیثیت مومن یہ توکل رکھتے ہیں کے غالب ہمیشہ اللہ رب العزت کا دین رہے گا۔

لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم غفلت سے جاگے شیطان افعال سے بچے ۔۔۔اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو بہت دیر ہو جائے گی

ع:

ججتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں

جنت تیری پنہاں ہے تیرے خون و جگر میں

اللہ سبحانۂ و تعالیٰ ہمیں شیطان کی اکساہٹوں ،بہکاوۓ اور اس کے شرر سے پناہ میں رکھے

آمین یارب ذوالجلال

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button