Sliderادب اسلامی

قلب سلیم

ثمرین فردوس علی یار خان

پوسد مہاراشٹر
کہتے ہیں دل ایک ایسی شئے ہے جس کے ٹوٹنے پر آواز نہیں آتی اور نہ ہی اس کے ٹوٹے ٹکڑوں کو دیکھا جاسکتا ہے ۔
لیکن جب دل ٹوٹتا ہے تو پورا انسانی وجود ہل جاتا ہے ۔تب انسان ساری دنیا سے بے نیاز اور ہر غم و خوشی، ہردرد، و تکلیف اور ہر احساس سے خالی ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک انسان پر لطف مجالس سے بھی بے زار ہوجاتا ہے ۔ وہ ان محفلوں میں جسمانی طور پر تو موجود ہوتا ہے لیکن ذہنی طور پر وہ کہیں اور ہی ہوتا ہے اور انسان پوری انسانیت سے بد ظن ہوجاتا ہے ۔
دل ایسے اچانک نہیں ٹوٹتے بلکہ اسکا ایک کمال درجہ ترتیب وار مرحلہ ہے ۔ دل پر سب سے پہلے غلط فہمی کا داغ لگتا ہے پھر اس پر غلط بیانی اور طعنوں کی ضربیں پڑتی ہیں پھر دل میں بد گمانی پیدا ہوتی ہے جو بعد میں بغض میں تبدیل ہوتی ہے اور اسی بغض کی وجہ سے دل میں کدورت آتی ہے یہی کدورت بڑھتے بڑھتے نفرت میں بدل جاتی ہے جس سے دل سخت ہوجاتے ہیں ۔پھر اس دل میں دراڑیں آتی ہے کیونکہ دراڑ تو سخت چیز میں ہی آتی ہے ۔دراڑیں مزید بڑھنے سے دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہے جس کے سبب دل بہت بری طرح ٹوٹ جاتا ہے ۔
ایک بے حد اہم بات دل صرف عشق و عاشقی میں نہیں ٹوٹتے بلکہ دل رشتہ داری،تعلقات ،دوستی ،
وابستگی ،محبت، جدائی اور امیدوں میں بھی ٹوٹا کرتے ہیں ۔خیالات و نظریات میں تضاد کی بنا پر بھی دل ٹوٹتے ہیں ۔ جب انسان دوسرے انسانوں سے زیادہ امیدیں لگا لیں تب بھی دل ٹوٹ جاتے ہیں ۔
صرف ایک مرتبہ ہی دل ٹوٹنے سے انسان محتاط و نا امید ہوکر سبھی سے فاصلہ بنا لیتا ہے اور کسی پر بھروسہ و اعتبار نہیں کرتا اور نوع انسانی کو یکساں نظر سے دیکھتا ہے ۔بعض کمزور دل تو ٹوٹنے کے بعد اپنے اندر صرف حرص و ہوس ،بغض ،کینہ، شک و شبہات ،اور بدگمانی جیسے گناہوں کو جگہ دیتے ہے جس کی بنا پر انسان کبھی با کردار نہیں بن سکتا اور انسان ذہنی تناؤ کی وجہ سے Depration میں تک چلا جاتا ہے ۔
دنیا میں ایک بے انتہا خاص طبقہ ایسے افراد کا بھی ہے جن کے دل صرف دوسروں کی بے جا باتوں، بے کار تبصروں اور بے وجہ لعن طعن سے ٹوٹتے ہیں ۔یہ طبقہ ہے ان صالح افراد کا جو صراط مستقیم پر چلتے ہیں جو قرآن مجید کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں، جو محمد صلی اللہ علیہ و کو اپنا رہبر مانتے ہیں اور جو رضائے الٰہی کو اپنا مقصد حیات جانتے ہیں ۔ ایسے افراد کے دل تو بہت شدت و قوت سے ٹوٹتے ہیں کیونکہ جاہل لوگ انھیں آزمانے کے لئے، ان کا صبر جانچنے کے لیے انھیں سیدھے راستے سے گمراہ کرنے کے لیے ان کے دل توڑتے ہیں لیکن وہ لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ انسان کو آزمائش میں ڈالنے،امتحان لینے اور ایمان جانچنے والی واحد ذات اللہ سبحان و تعالٰی کی ہے ۔ یہ افراد مشکل حالات میں صبر و تحمل اور خالص توکل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے ایمان کو ہمیشہ ترو تازہ رکھنے کی کوشش کرتے ہے اسی لیے یہ افراد اہل ایمان کہلاتے ہیں۔
اہل ایمان کی خاصیت ہی یہ ہے کہ جب ان کے دل ٹوٹتے ہیں تو وہ غیروں کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے ، ساری دنیا کو برا کہنے، لوگوں کو بد دعا دینے کے بجائے اپنے رب کے سامنے توبہ کرتے ہیں۔ یہ اپنی عبادات، دعاؤں، سجدوں، آنسوؤں، ذکر وازکار، نیک اعمال اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کے ذریعے اپنے دلوں کو جوڑنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ حق کے علمبرداروں اور انصاف پسندوں کے جب دل ٹوٹ کر بکھرنے لگتے ہیں تب یہ اپنے ایمان کی حرارت اور توکل کی تپش سے اپنےدلوں کو جوڑتے ہیں ۔کیونکہ یہ افراد جانتے ہیں کہ اللہ سبحان و تعالٰی کو ٹوٹے دل بہت پسند ہے ۔یہی وہ بہترین طبقہ ہے جو ٹوٹے دل کو بھی اپنے علم و فہم اور بصیرت کی بنا پر ایک عام دل سے قلب السلیم بناتے ہیں۔ ایسا دل جس کا ذکر خود اللہ سبحان و تعالٰی نے قرآن مجید کی سورت الشعراء میں کیا ہے ۔
ہمیشہ اس بات کا خیال رکھے کہ آپ کے قول و فعل، عمل، لہجہ، اور باتوں سے کبھی کسی کا دل نہ دکھے اور نہ ہی آپ کسی کے ٹوٹے دل کے قصوروار ٹھہرے کیونکہ جب دل ٹوٹتا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ کوشش کیجیئے اگر کبھی آپ کا دل ٹوٹ بھی جائے تو وہ صرف اپنے رب کے سامنے ہی جڑے ۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قلب سلیم عطا کرے ۔
(آمین یا رب العالمین )
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button