سیاست

لاک ڈاؤن سے رام راج تک

شہاب مرزا

پانے کی بات تو درکنار لیکن اس بد بختانہ سرمایہ دارانہ نظام نے وہ بھی چھینا جو ہمارے آخری ساعتوں کے لیے بچا کر رکھا تھا مزید وہ بھی چھین لینے کی کوشش جاری ہے جو ہماری قوت استطاعت سے باہر ہے ہماری صنعت، تجارت، روزگار، صحت نفسیات، تعلیم، مستقبل اور وہ سانسیں جو کل کی امید کر سکتی تھی وہ بھی چھین لی گئی آج اس سوال کا کسی کے پاس جواب نہیں ہے کہ کل کیا ہوگا؟
سب سے پہلے تو پورے ملک کو یرغمال بنا کر بری طرح سے قید کیا گیا اس کے بعد ان کی گردنوں پر کورونا کا خوف بٹھا کر گلا گھونٹ دیا گیا سانسیں بند ہوئی دھڑکنوں کا پتہ ہی نہیں چلتا اس دوران میں وہ مناظر بھی دیکھنے کو ملے جس کا تصور  تاریخ انسانیت میں کسی نے نہیں کیا  شاید فرعون نمرود کو بھی  انسانوں پر جبرا حکمرانی کا یہ فن حاصل نہ ہوگا ورنہ دنیا کے مقدس کتابوں میں اس کا تذکرہ ضرور ملتا – بیرون ملک میں برسر روزگار ملک کے لوگوں کے لیے "وندے ماترم مشن” کے تحت ہوائی جہازوں کا ایئر کنڈیشنر انتظام کیا گیا لیکن وہ مزدور طبقہ  جن کا اس ملک کی معیشت میں 68 فیصد حصہ ہے ان بیچاروں کے لیے ” آتم نربھر اسکیم” کی بیڑیاں تیار کی گئی اور انھیں گھسیٹ گھسیٹ کر اپنے وطن منہ  چھپانے کے لیے مجبور کیا گیا
اس دوران میں ہزاروں کلومیٹر بھوک، پیاس ، گرمی، سردی، بارش، جیسی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے اپنے اہل عیال کو لیے غریب بے یارو مددگار مزدوروں کو پیدل سفر طے کرنا پڑا اور اس دوران کئی معصوم بچے اپنے والدین کی گود میں دم توڑ چکے لیکن اڈانی امبانی کے ہزارہا گناہ دولت میں اضافہ کرنے والی حکومت کو ان پر ترس نہ آیا لوگ  ٹرین سے کٹ کر مر گئے اور ان مزدوروں کے کٹنے کے بعد انکی لاشوں کو ٹرین اور ہوائی جہاز کے ذریعے لیجایا گیا –
مزید یہ کہ صنعت، تجارت بند ہونے کے سبب کروڑوں لوگ بھکمری کا شکار ہوئے عجیب بات یہ ہے کہ حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ بھارت کے 27 کروڑ عوام خط غربت باہر ہوئے اگر اس کا تقابلی جائزہ لیا گیا تو یہ طے کرنا ممکن نہیں ہے کہ سورج رات میں طلوع ہوتا ہے یا دن میں ستارے چمکتے ہے اگر 27 کروڑ عوام اس لاک ڈاؤن کے دور میں خط غربت سے باہر آئے تو ایسے لاک ڈاؤن اور پانچ مرتبہ لگائے  جائے تاکہ اس ملک سے غربت کا صد فیصد خاتمہ ہوجائے _
یہی وہ لاک ڈاؤن کا زمانہ ہے جس میں دہلی منصوبہ بند فسادات کے بھگوا دھاری مجرموں کو بچایا گیا اور کالے قانون کی مخالفت کرنے والے شاہین باغ کے  پروٹیسٹر پر مظالم کے پہاڑ لڑکائے گئے اور اس پنجرہ توڑ تحریک سے جڑے ڈاکٹر کفیل خان، صفورہ زرگر، شرجیل عثمانی، خالد سیفی، سمیت تمام احتجاجی اور یوگیندر یادو جیسے متحرک عوام بوس افراد کی گردنوں کا ناپ لیا گیا تا کہ گرفتار مظلومین کے لیے احتجاجی اکٹھا نہ ہو سکے
افسوس کے اب وہ تعلیم جس نے شاہین باغ احتجاجیوں کو جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی تک پہنچا کر باطل کے لیے نشتر کا کام کیا اب اس نشتر کو ختم کرنے کیلئے تعلیم کو بھی لاک ڈاؤن کے نام پر قید کر دیا گیا اور آن لائن تعلیم کے نام پر صرف اور صرف صاحب دولت مٹھی بھر افراد ہی کو تعلیم کے حصول کا اختیار دیا گیا اور 90 فیصد عوام کی روزی روٹی چھین لینے کے بعد ان کی سانسیں مقید کرنے کے بعد اب ان سے انکی قلم اور تختیاں بھی چھین لی گئی تاکہ ظلم کے خلاف آئندہ کوئی صفورہ زرگر کھڑی نہ ہوسکے اور نہ کوئی پنجرہ توڑ تحریک سر اٹھا سکے معاملہ یہی پر بس نہیں ہوا بلکہ لاک ڈاؤن کے بہانے اول تو تعلیمی نصاب کو نصف ایسے تبدیل  کرنے کا فیصلہ لیا گیا اور اس لاک ڈاؤن کا مقصد ایک یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ تعلیمی نصاب میں تخفیف کے بہانے اس نصاب ہی کو  ایسے تبدیل کیا جائے تاکہ آئندہ کی کورونا چھاپ تعلیم  ایسی ہو جو طلبہ کو حکومت کے اندھے بھکت بنائے اور حکومت کی سرمایہ دارانہ پالیسی کے خلاف آف بھی کرنے کا شعور باقی نہ رہے ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ مرکزی حکومت ملکی سطح پر اعلی تعلیم کا ایک نیا نصاب دینے کی غرض سے بھگوی تعلیم کے ماہرین کی میٹنگ طلب کرچکی ہیں- جس میں اس ملک کے سیکولر دستور کو گنگا نہلا کر اس کا شدھی کرن کیا جائے اور اس کو بھگوا لباس پہنایا جائے اور سائنس و تحقیق کو کچرے کی طرح نکال کر پھینک دیا جائے اور اس کی جگہ گنپتی کو پلاسٹک سرجری اور کوروں  کی پیدائش کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طور پر پیش کیا جائے اور بابا رام دیو کی کورونیل دوا پر حق ہونے کی مہر ثبت کی جائے اور سب سے بڑی بات یہ کہ وزیراعظم کے ہاتھوں غیر آئینی طور پر رام مندر بھومی پوجن خیر خوبی کے ساتھ ہو جائے اور اسی ملک میں بابا رام دیو کی سائنس کے ساتھ "رام راج ” کا قیام عمل میں آیے
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button