Sliderسماجیات

لا تحزن ان الله معنا

غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

منذرہ بیگم
چپلون ‘رتناگیری

اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے ‘ یقیناً جن لوگوں نے کہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے پھر اس پر جم گئے نہ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
بندہ مومن مصیبت و غم کا مقابلہ صبر و توکل سے کیا کرتا ہے. کیونکہ اللہ کا وعدہ مومنین پر بر حق ہے ‘غم نہ کرو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔

بقول شاعر،
دنیا ہے سکھ سے خالی دکھ چار سو بھرا ہے
غم کے سوا یہاں پر سوچو تو کیا دھرا ہے۔

اللہ پر ایمان اور پختہ یقین ہی وہ چیز ہے جو بندے کے نفس کا تزکیہ و تطہیر کرتی اور بندے کو غم و مایوسی، حزن و ملال سے دور کرتی ہے۔
جس طرح تنگی کے بعد فراغی بھی ہے اسی طرح غم کے بعد خوشحالی بھی ہے.

بقولِ شاعر،
اسی روز و شب میں الجھ کے نہ رہ جا
کہ تیرے زماں و مکاں اور بھی ہیں۔

قرآن و حدیث میں ہے شمار مثالیں اس کی تائید میں ملتی ہیں کہ انبیاء کرام نے مصائب کے دور میں الل کی ذات کی طرف رجوع کیا کرتے تھے.

غارِ ثور میں رسول اللہ صل اللہ علیہ السلام نے اپنے ساتھی ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا تھا،
غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے

فرعون کے بھرے دربار میں جب موسی علیہ السلام تھوڑی دیر کے لیے سہم گئے پھر اللہ نے فرمایا،
اے موسی ڈرو نہیں پھیکو اپنا عصا ہم تمہارے ساتھ ہیں.

حضرت یونس علیہ السلام مسلسل چالیس دن مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے رنج و غم کے بجائے اللہ کی کبریائی میں لگے رہے.

حضرت ایوب علیہ السلام کا اسوہ ہمارے سامنے ہے. شدید بیماری کی حالت میں اللہ کو پکارا. فرمایا,
اے میرے رب مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمين ہے

انبیاء کرام نے پہلے اونٹ کو باندھنے اور اللہ پر توکل کرنے کا معاملہ اختیار کیا۔

بحرحال زندگی مصائبوں، غموں و پریشانیوں میں الجھی ہوئی ہے. مردِ مومن کا یہ شیوہ رہا ہے،

دمِ زندگی، رمِ زندگی، غمِ زندگی، سمِ زندگی
غمِ رم نہ کر سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری

آج حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیں تو آج کا ہر ایک انسان مضطرب ہے، مغموم ہے، رنج و حزن میں مبتلا ہے، تذبذب میں ڈوبا ہوا ہے. ایک طرف اندھی حکومت تو دوسری طرف کرونا وائرس نامی جان لیوا وبا. سوشل میڈیا نے تو چار چاند لگا دیئے ہیں. آئے دن حکومت کے ظالمانہ رویے کی بنا پر حکومت پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا. جب شاہین باغ کو ختم کرنے اور مساجد کو بند کروانے جیسے پیچیدہ مسائل پر سنجیدگی سے غور نہ کیا البتہ اب پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن الجھے ہوئے انسانوں کی نصرت کا سبب بنے گا. انشاءاللہ

آج ملتِ اسلامیہ کو ضرورت اس بات کی ہے کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اللہ پر توکل اختیار کریں۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عہدِ خلافت میں طاعون نامی وبا پھیلی تھی جس کی لپیٹ میں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے جلیل القدر صحابی شہید ہو گئے.

لہذا ہم سب کو چاہیے کہ رنج و غم میں مبتلا ہونے کے بجائے تعلق باللہ کو مضبوط بنائیں.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مہلک بیماری سے اپنے امن و امان میں رکھے
آمین ثم آمین

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button