Sliderفکرونظر

لوٹ آئیں رب کائنات کی طرف

شازیہ عرش ماہ بنت نقیب خان

(عمرکھیڑ ضلع ایوتمحل مہاراشٹر)

 

ہر دور نشیب وفراز،عروج و زوال،کامیابی و ناکامی کا ہوتا ہے ترقیوں کے دور میں دنیا کی رفتار اچانک تھم گئی،ترقی کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوگۓ، فلک تک رسائی حاصل کرنے والےمحض ایک وائرس کے سامنے گھٹنوں کے بل آکر گھروں میں محصور ہو گئے جس کے اثرات تادیر قائم رہے گے جس میں معیشت کا بحران،سطح غربت بڑھنا‌وغیرہ شامل ہیں اور تاریخ گواہ ہے جب طاقتور قومیں ظلم پر اتر آئیں،مظلوم دبا کر ذلیل کیۓ جاۓ،جب رب کائنات کے قوانین کھلم کھلا توڑے جائیں،جب غریبوں کے حق چھیننے جائیں،جب برائیاں عروج پر ہو اور نیکیاں کرنے والوں کا تمسخر اڑایا جائیں تو رحمت خداوندی جوش میں آ کر سب کو لاجواب کر دیتی ہیں۔جیسے پچھلی قومیں لاجواب ہوئی۔آج دنیا بھی لاجواب ہوگئ۔‌جب معاشرے میں کوئی وبا یا آفات رونما ہوتی ہے تو وہ رب کے نافرمان بندوں پر عذاب اور اس کے فرمانبرداروں پر آزمائش ہو تی ہے۔

♦️اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
مَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ سَيِّئَةٍ فَمِنۡ نَّـفۡسِكَ‌ ؕ٧٩(النساء)
اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے۔

کتنی ملعون ہے وہ نعمت جو رب سے غافل کردے اس کے بالمقابل بہترین ہے وہ غم، وہ مصیبت جو انسان کو رب سے جوڑ دےاور جو بھی اللہ سے ڈرکر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کے لئے معجزات ہوتے ہیں۔یہ معجزے کے سوا کچھ نہیں جس وقت covid.19 وبا سارے عالم کو زد میں لےچکی ہے ہر طرف افراتفری،خوف، موت سے وحشت کا ماحول پسرا ہوا ۔ایسے حالات میں رمضان المبارک کا امت مسلمہ پر سایۂ فگن ہوناکسی معجزے سے کم نہیں۔ہو سکتا تھا اس با برکت مہینے کے بعد یہ وبا آتی پر رب العالمین کے منصوبے دنیا کے تمام منصوبوں پر حاوی ہیں بس اس نظریہ سے عمل درآمد کرکے رب کائنات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ماہ رمضان المبارک نہ صرف نیکیوں کے حصول کاذریعہ ہے بلکہ تقوی اختیار کرنے اور خوف خدا کی آبیاری کا بہترین موقع ہے۔ایک ماہ کی تربیت آئندہ گیارہ ماہ کے لیۓ زادراہ کا سامان فراہم کرتا ہے۔اس رمضان المبارک میں بازاروں میں رونقیں نہیں ہے تاکہ ہم دل کی دنیا کو منور کر سکے۔مسجدیں خالی ہے تاکہ ہمارے گھر مسجدوں کے مثل بن سکے۔رب کی عنایات کے بعدہم وہی روش پر چلے جو پہلے تھی کہ رمضان المبارک میں تو خوب عبادات کی پر رمضان المبارک جاتے ہی عبادات کو الوداع کہہ دیا۔

♦️ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے۔۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَـغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَـهۡدِيَهُمۡ سَبِيۡلًا ۞١٣٧(النساء)

ترجمہ:
رہے وہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے، تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی اُن کو راہ راست دکھائے گا ۞

♦️لہذا ہمارے دلوں کی کجی دور کرنے کیلئے ذیل کی دعاؤں کا اہتمام کریں:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ﴿٨﴾سورة آل عمران

’’ اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ

’’ اے دلوں کو الٹنے پلٹنے والے ! میرے دل کو تو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ ۔‘‘

♦️رب کائنات کی طرف جانے کے دروازے کھلے ہیں۔ پس لوٹ آئیں رب کائنات کی طرف:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿٥٣﴾ سورة الزمر

(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے

🔰 حدیث قدسی ۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے: جب میرا بندہ میری جانب ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کی جانب ایک ہاتھ آتا ہوں‘ اور جب وہ میری جانب ایک ہاتھ آتا ہے تو میں اس کی جانب دو ہاتھ آتا ہوں ‘ اور جب وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔

قوموں کو عروج بھی تب ہی ممکن ہوتا ہے۔ جب ان کا تعلق‌اللہ سے مضبوط ہو، اللہ کے احکام کا پاس و لحاظ رکھے ،اسی کا خوف رکھے۔حقوق اللہ،حقوق العباد کو ادا کرتے رہیں اور صبر واستقامت کا مظاہرہ کرتے رہیں۔

♦️اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے
اتَّقَوا وَّاٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّاٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوا وَّاَحۡسَنُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞٩٣(المائدہ)

ترجمہ: ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۞

اللہ سبحانہ و تعالٰی تمام عالم انسانیت کو اس وبا سے محفوظ و مامون رکھے اور اس رمضان المبارک کو ہماری تربیت کا ذریعہ بنائیں ۔۔آمین یارب ذوالجلال والاکرام

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button