Sliderمتفرقات

لوک ڈاؤن میں ہم کیا کریں؟

یاد رکھیں سماجی روابط، دینی کام میں سب سے اولین ذمہ داری اپنے بچوں کی ہے انکی دنیا وآخرت کے ذمہ دار ہم ہی ہیں۔

خان مبشرہ فردوس

 کورونا وائرس کی وجہ سے گھر میں بند رہیں یہ ایک سماجی ذمہ داری ہے اپنا نظام الاوقات تبدیل کرلیں، نماز فجر جب باجماعت پڑھ چکیں تو فیمیلی درس ہو پہلے عجلت میں ہوتا تھا اب بچوں کو سمجھاتا ہوا ہو۔ ناشتے کے بعد ان سے اسکول، دوست اور استاد سےمتعلق رائے لیں۔ بچوں کو وقت دیں انکی صلاحیتوں کو سمجھنے ان پر اچھے برے کیا اثرات پڑے ہیں انہیں جاننے کا بہترین موقع قدرت نے عطا فرمایا یہ سمجھیے۔ بچوں کے اور فیمیلی کے ساتھ مل بیٹھیں کتابوں کی فہرست بچوں سے بنوائیں۔ انہیں اپنی چیزیں ترتیب سے رکھنا سکھائیے کوئی تھیم دیجیے اور ڈرائنگ بنوانے دیجیے جیسے تاریکی میں ” توحید کا جلتا چراغ ” فرعون کے دربار میں موسی ع کا عصاء نماز باجماعت گھر کے افراد کے ساتھ پڑھیں۔ ایک گھنٹہ طے کرلیں کہ وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر دی میسیج، عمر مختار، ( دی لوائن اف ڈیزرٹ ) پیغمبر سیریز، انہیں دکھائیں۔ Teaching kids of holi Quran گوگل کریں اور بچوں کو قران کو دلچسپی کے ساتھ پڑھنے دیجیے محترم تقی عثمانی صاحب نے بچوں کے لیے بہترین کام۔کیا ہے۔ کوئی آیت کا ترجمہ بچوں کو سناکر کہیں کہ اس پر کہانی لکھو۔ قران کی تین آیات حفظ کے لیے دیجیے ہم نے بچی کو پانچ آیات دی ہیں۔

عمر اور بچے کی حفظ کی صلاحیت کے مطابق ایت کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے گھر میں بورڈ پر علامہ اقبال کا شعر لکھ کر یاد کروائیے خلیل جبران اور رومی کے کوٹس لکھ کر روز ایک یاد کرنے دیجیے۔ نصاب میں بچوں کے کمپوٹر پورا ایک مضمون ہے ٹائپ رائٹر پر انکی پریکٹس کروائیے۔ موتی پرونے دینا، آرٹس کی چیزوں بنوانا، بکس ترتیب سے ایک سائز کے اعتبار سے جموانا، کپڑوں کی تہہ بنوانا، لاک کھول کر اپنی جگہ پر رکھنا، ، یہ کام بچوں کے توجہ کے دورانیہ کو بڑھاتا ہے ان سے کام کروائیے۔ پودے لگوائیے مختلف بیج انہیں دیں سالم دالیں، اروی ادرک لہسن پیاز، کریلےکے بیج ٹماٹر، میتھی دھنیہ گملوں میں اگوانے کے لیے کہیے۔ پودے اگانے کا عمل نیکی کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور بچوں فطری تربیت پاتا ہے۔ انکا مشاہدہ بک بنائیے، اپنے خیالات کے اظہار کی عادت ہوگی، وبا کے دنوں میں چاکلیٹ بھی باہر سے نہ خریدیں، کمپاونڈ چاکلیٹ خریدیں ایک بڑی شٹ مل جائے گی کھولنے سے پہلے اسکے ریپر کو دھولیں اب اسے کھولیں اور ایک برتن میں ہلکا گرم کرکے پگھلا لیں اس میں پھلی کی بیج یا ڈرافروٹ کے ٹکڑے ڈال کر المونیم فوائل میں یا سانچے میں ڈال کر فریزر میں رکھوادیں۔بچوں سے ہی بنوائیں تعمیری شغل بھی رہے گا اور باہر کے چاکلیٹ سے بچے بچ بھی جائیں گے۔

 شام ہوجائے تو ٹی وی موبائیل لیپ ٹاپ کے بجائے چھت پر لیجائیے اور چاند تاروں کامشاہدہ کرنے دیجیے۔ درمیان میں ہاتھ دھونے وبا پھیلنے کی وجہ سے گھر سے نہ نکلنے کی تاکید کیجیے کہ ہم سماجی ذمہ داری کبھی اجتماعات جاکر ادا کرتےتھے وقت آنے پر اس طرح رک کر بھی ہم ذمہ داری اور فریضہ ادا کررہے مومن وقت شناس ہوتا اور تقوی کی بنیاد پر معاملات روارکھتا ہے۔ انہیں سمجھائیں کہ اجتماعات، دروس، محافل، انسان کے روحانی فائدے کے لیے ہیں لیکن جب احساس ہوا کہ ہماری ذات سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو ہم اس وجہ سے اپنا رویہ بدل رہے ہیں۔ رات جب سونے لگیں تو بچوں سے کہیں دن بھر کی کارکردگی اپنی ڈائری میں لکھیں۔ سونے سے پہلے ماں کسی صحابیہ کا واقعہ سنائے اور والد کسی صحابی کا قصہ سنائے۔

 یاد رکھیں سماجی روابط، دینی کام میں سب سے اولین ذمہ داری اپنے بچوں کی ہے انکی دنیا وآخرت کے ذمہ دار ہم ہی ہیں۔ جن کے دل سماجی روابط کی لذت میں اب بھی اپنے بچوں کے ذاتی مسائل سے انہیں نہیں جوڑتے سمجھ لیں ان کا علاج کرونا بھی نہیں۔ بچے سوجائیں تو کچھ دیر احتساب کریں کہ گھر اتنے دن رکنے پر کس قدر دل چاہ رہا ہے کہ باہر جائیں فلاں سے ملیں۔ گھر کے حصار میں آج ہم انٹرنیٹ کے ساتھ ہونے کے باوجود بے چین ہیں کیونکہ انسان فطرتا سماجی ہے پوری دنیا اج اس حصار میں ہے کہیں یہ پوری دنیا کو کشمیریوں کے محصور ہونے پر مجرمانہ خاموشی کی سزا ہی تو نہیں جو بغیر نیٹ کےمحصور کردئیے گئے تھے حالت بھی یہ کہ سولہ بچے کی حراست پر ماں کو چیخنے کی اجازت تھی نہ سسکنے کی۔ گھر میں پڑی لاشوں کو دفنانے کی بھی اجازت نہ تھی، جب ظلم حد سے گزرے تو عذاب اجتماعی شکل میں وارد ہوتا ہے اور ایسا ہوتا ہے محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اللہ سے ہم اس خاموشی پر معافی طلب کریں اور مصیبت سے نجات کی دعائیں کریں۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button