اسلامیات

محبت نام ہے قربانی کا 

صائمہ صدف بنت محمد شکیل احمد

 جی آئی او ممبرا یونٹ

وہ صبح سے نوٹس کر رہی تھی لبنیٰ کچھ اپ سیٹ سی تھی’ کلاس میں جب جاوید سر نے اس سے سوال پوچھا تھا ‘وہ بس چپ چاپ سی کھڑی رہ گئی جیسے کہیں اور ہی گم ہو۔ عجیب تو تھا کیونکہ لبنیٰ جیسی ہونہار اسٹوڈنٹ کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتاتھا۔ اور آج وہ اتنے آسان سوال کا  جواب نہ دے سکی.  ابھی ابھی لنچ بریک ہوا تھا۔ اوروہ اپنی سہیلیوں سے معذرت کر رہی تھی کہ آج وہ کینٹین نہیں جائے گی وہ لوگ چلی جائیں ۔  وہ لڑکیاں چلی گئیں اور لبنیٰ اپنی بیچ پر اکیلی بیٹھی رہی ۔
انعم کو وہ بہت اچھی لگتی تھی اسمارٹ پر اعتماد اور ذہین ۔انعم کا ایڈمیشن ڈیڑھ ماہ لیٹ ہوا تھا اور لبنی نے نوٹس اور کتابوں کے سلسلے میں اس کی بہت مدد کی تھی لیکن ان کی دوستی بس رسمی سی تھی۔ کبھی کبھار اسٹڈی سے متعلق بات کر لیتے یا صبح مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوجاتا بس۔ انعم نے کئی بار چاہا کہ لبنیٰ سے دوستی کرے مگر وہ ایک جھجک سی محسوس کرتی دراصل لبنیٰ کا اپنا ایک گروپ تھا. وہ چار پانچ لڑکیاں ہر وقت ایک ساتھ ہوتی اور انعم  خود کو ان میں فٹ نہیں پاتی ۔
سویٹ سی انعم پڑھائی میں تیز تھی ساتھ ہی خوش مزاج بھی۔ لیکن اس کی سہیلیاں لا پروا تھی۔ ان کا پڑھائی میں بھی کچھ خاص دل نہیں لگتا تھا.
"کیا میں یہاں بیٹھ جاؤں؟”  انعم لبنیٰ کی بیچ کے پاس  کھڑی  مسکرا کر پوچھ رہی تھی
 "ہاں ہاں  بیٹھو نا۔.. !”لبنی نے جگہ بناتے ہوئے کہا۔  "کیسی ہو ؟”
 "الحمدللہ میں ٹھیک ہوں تم کہاں گم ہو سب خیریت ہے نا۔”آخر انعم نے پوچھ ہی لیا ۔
"ٹھیک ہوں بس تھوڑا ڈسٹرب تھی۔”
 "جی وہ تو میں نے نوٹس کر لیا تھا ‘ کیا بات ہے مجھ سے شئیر کرنا چاہو  تو کر لو”
 لبنیٰ کچھ لمحے اسے دیکھے گئی۔ پھر مسکرا کر کہا
"ہاں ۔ تم سے شیئر کر سکتی ہوں”
 انعم کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی "تو بتاؤ پھر”
” یہ قربانی کیوں کرتے ہیں ہم آئی مین ۔۔اللہ نے جانور کی قربانی کو فرض کیوں کیا ہے?”
 "یہ ہمارے فادرحضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے”
"اوھو۔۔یہ تو مجھے پتا ہے کہ کس طرح اللہ نے ابراہیم علیہ السلام سے ان کی  سب سے محبوب متاع ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی مانگی تھی۔آپ اور آپ کے بیٹے نے سر تسلیم خم کردیا۔ مگر اللہ نے اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا جو ذبح ہوا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے قربانی کیوں مانگتے ہیں۔کیاضرورت ہے۔”
وہ الجھی ہوئی جلدی جلدی بول رہی تھی.
 انعم نے قدر توقف سے کہا۔
” اللہ ہم سے قربانی اس لیے چاہتے ہے کہ دیکھے ہم اس سے کتنے قریب ہیں۔ ہم اپنے رب سے کتنی محبت کرتے ہیں۔کیا ہم اس کی خاطر ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہیں؟”
 ” دراصل  میری دوست ہے نا پریا اس نے  مجھ سے کہا کہ تمہارے دھرم میں سب اچھا ہے بس تم لوگ جانور کی بلی دیتے ہو  یہ بہت برا لگتا ہے۔ میں جواب ہی نہ دے سکی ۔تب سے اس کی بات اور اس کا لہجہ میرے ذہن میں گھوم رہا ہے. ” لبنیٰ نے بالآخر جھجکتے ہوئےکہ دیا۔
انعم اب  پورا معاملہ سمجھ چکی تھی کہ لبنیٰ اتنی اپ سیٹ کیوں تھی۔
” اچھا تو یہ بات ہے.  جانور کی بلی تو ہم نہیں دیتے ہیں مسلمان قربانی کرتے ہیں دونوں میں فرق ہے بلی دینے کا جو تصور ہے اس میں جانور کومار کے پھینک دیا جاتا ہے یا ایشور کی بیھنٹ چڑھا دیا جاتا ہے مگر اسلام میں یہ منع ہے ہم جانور کی گوشت خود بھی کھاتے ہیں اور لوگوں میں تقسیم بھی کرتے ہیں. رہی بات گوشت کھانے کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور گوشت میں کتنی غذاعیت اور فائدے ہےہم سب جانتے ہیں ۔”
 "تم ٹھیک کہ رہی ہو اسلام میں کتنا خوبصورت تصور پایا جاتاہے ۔قربانی کے گوشت میں ہمارے علاوہ رشتے داروں اور غریبوں  کا بھی حصہ ہے.  اسی عید کے بہانے کتنوں کو گوشت کھانانصیب ہو جاتا ہے ورنہ غریب لوگ اتنا مہنگا گوشت خرید کر  نہیں کھاتے پاتے ۔”
  "ہاں بالکل قربانی کا عمل اپنے اندر بہت فائدے رکھتا  ہے۔اس دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں ڈھیر سارا اجر و ثواب ہے۔” انعم نے سر ہلا کر کہا.
 ",وہ کیسے?”  لبنانےفورا پوچھا
” قربانی کرنے والا اپنے رب کی محبت کا حق دار ہو جاتا ہے جب ہم اللہ کے لئے کچھ قربان کرتے ہیں تو اللہ پر ہمارا ایمان مضبوط ھوتا چلا جاتا ہے اور دیگر  خوبصورت صفات بھی پیدا ہوتی ہے جیسے صبر و استقامت بردباری ‘سخاوت وغیرہ جو ہماری زندگی کو بہتر بنا دیتی ہیں.جانتی ہو قربانی کے لئے محبت لازم ہے جس سے جتنی محبت ہو تی ہے انسان اس کے لیے اتنی زیادہ قربانیاں دیتا ہے. جتنی محبوب چیزیں آپ اللہ کی راہ میں قربان کریں گے اتنی زیادہ اللہ کی محبت آپ کو حاصل ہوگی اور جتنی زیادہ اللہ سے محبت ہو گی اتنی  محبوب چیزیں آپ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے.  محبت اور قربانی دونوں ایک دوسرے  کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔”
 "یہ بہت پیارا نکتہ بتایا تم نے  ۔” لبنی نے خوش دلی سے کہا.
"عید الاضحی پر جانور کی قربانی اسلام کے شعائر میں سے ہے. قربانی ایک عبادت ہے۔ ہر عبادت کی ایک حقیقت اور اس کا ایک مقصد ہوتا ہے جو اس عبادت کو بعینہٖ ادا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ قربانی کی حقیقت اپنے وجود کو اپنے خالق کے حوالے کردینے کا نام ہے اور اس کا مقصد اس جذبہ کا اظہار ہے کہ مالک کے لیے کبھی جان بھی دینی پڑی تو قربانی کے جانور کی طرح ہم بھی بے دریغ اپنا خون بہا دیں گے۔ اورسچ کہوں تو ہمارا ایمان قدم قدم پر قربانی چاہتا  ہے ۔ خواہشات نفس کی قربانی’ اپنی انا کی قربانی ‘مال کی قربانی’ جان کی قربانی’ وقت کی قربانی "
 انعم مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
” ہاں صحیح کہا,  یہ مسلمان ہونا اتنا آسان تھوڑی ہے اپنے نفس کو مارنا پڑتا ہے اللہ کی خاطر ‘ جو بات اسلام سے ٹکرائے اسے بے چوں چراں کیےچھوڑ دیا جائے !”
"اور جو یہ کرنے میں کامیاب ہوجائے پھر اس سے  رب راضی ہوجاتا ہے ایسے ہی بندوں کے لئے پھر دنیا اور آخرت میں کامیاب ہے۔” انعم نے مسکراتے ہوئے اس کی بات مکمل کی.
” اللہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے جو ہر آزمائش پر پورا اترتے ہیں, جو اللہ کی خاطر ہر قربانی دے سکتے ہیں.” لبنیٰ نے بے اختیار دعا مانگی۔
 آمین یا ربّی ! ۔ انعم نے بہت خلوص سے کہا.
لنچ بریک اب ختم ہو چکا تھا. اور ایک نئی دوستی کی خوبصورت شروعات ہو گئی تھی.
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button