Sliderجہان کتب

محب اللہ قاسمی کی افسانوی کشمکش

محب اللہ قاسمی  کے قلم سے منفرد انداز میں وعظ و نصیحت کی کتاب ’شخصیت کی تعمیر‘ پہلے ہی قبولیت عام حاصل کرچکی ہے۔ ’کشمکش‘ ان کی ایک فنی تخلیق ہے۔ اس میدان میں استقبال ہے اور دعا ہے  اس  کتاب کی بھی خاص و عام میں خوب پذیرائی ہو۔

ڈاکٹر سلیم خان

محب اللہ قاسمی صاحب کے اولین افسانوی مجموعہ کو دیکھ کر معروف شاعر ساحر لدھیانوی کے پہلے مجموعہ کلا م ’تلخیاں‘  میں  احمد ندیم قاسمی کے  تحریر شدہ پیش نامہ کے بعد  درج  یہ  شعربے ساختہ یاد آگیا ہے:

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا وہی لوٹا رہا ہوں میں

ساحر نے اپنے تجربات و حوادث کو بیان کرنے کی خاطر شاعری کو وسیلہ بنایا مگر محب اللہ قاسمی نے کہانیوں کا سہارا لیا۔ یہ مختصر کہانیاں نہایت سہل اور آسان انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ اس کے کردار ہم آپ جیسے عام لوگ ہیں جو معاشرے میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ ہر کہانی کا مرکزی خیال کسی نہ کسی واقعی یا حادثے کا ترجمان ہے۔  خبر کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے اور تبصرے کی عمر تھوڑی سی طویل ہونے کے باوجود مختصر ہی کہلاتی ہے الاّ ماشاء اللہ، لیکن اگر کسی خبر کے تاثر کو کہانی کے اسلوب میں ڈھال دیا جائے تو اس کی معنویت  کو دوام نصیب ہوجاتا ہے ۔ وہ عرصۂ دراز تک   پڑھی جاتی ہے اور اس کو ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔  ایسی کہانیاں اپنے دور کی ترجمان بن جاتی ہیں ۔ واقعات کے ساتھ وابستہ احساسات کی ترجمانی کرنے والے یہ افسانے  زندگی گزارنے کا اہم  پیغام بھی دیتی ہیں۔ انسانیت نامی  کہانی کے ذریعہ دیا جانے والا یہ اخوت ومحبت کا دلنشین اور موثر پیغام دیکھیں:

’’ جیسے ہی اس لائن سے مسلمان الگ ہونے لگے، یہ منظر دوسرے لوگوں سے دیکھا نہیں گیا، اگرچہ سب خاموش تھے، انھیں بہت برا محسوس ہورہا تھا، دھرمندر سے رہا نہیں گیا۔ اس نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا: ”دیکھو صاحب تم کون ہو؟ ہم کا نہیں معلوم، مگر یہ سب ہمرے بھائی ہیں۔ ان کی مجبوری بھی ہمری مجبوری ہے اور ہم ان کا بے بس چھوڑ، چین سے نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہم بھی آپ کا ای سب سامان نہیں لیں گے۔“”ابھی دوئی دن پہلے ان کے بھی لوگ ای گاؤں بہت ساکھانے پہننے کا سامان لے کے آئے تھے۔ مگر ان لوگوں نے تو یہ نہیں کہا کہ جتنے ہندو ہیں، الگ ہوجائیں، بلکہ سبھی کو برابر سامان دیے تھے۔ ہم غریب ہیں۔ اس وقت مجبور بھی ہیں۔ای باڑھ میں ہمرا سب کچھ بہہ گیا، مگر ہمرا آپس کا دوستی نہیں بہا، ہمرا پیار نہیں بہا، وہ ابھی بھی ہمرے پاس ہے۔ ہم نے بھی ان کھایا ہے اور ہم نمک حرام نہیں ہیں بابو جی جو ان کے احسانوں کو بھول جائیں۔“

اپنی دانشوری کے زعم میں عام  لوگوں سے الگ تھلگ ہوجانے والے فنکار خود اپنا سب سے بڑا نقصان کرتے ہیں اور دوسرے بھی ان کے عملی تجربات و مشاہدات سے  فیضیاب نہیں ہوپاتے۔ مولانا محب اللہ قاسمی کا معاملہ مختلف ہے وہ  میدانِ عمل میں سرگرم  نہایت سیدھے سادے انسان ہیں۔ ان سے مل کر کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ یہ فاضل دیوبند ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے ایم اے کیا اور اس کے بعد  بی ایڈ  کی سند حاصل کی گویا آپ تربیت یافتہ معلم ہیں۔ آپ نے ذرائع وسائل کے میدان میں ڈپلومہ بھی کر رکھا ہے اور ساتھ ہی ادیب و شاعر بھی ہیں۔

ان کی سادگی کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کے درمیان رہتے ہیں ان کے دکھ سکھ کو محسوس کرتے ہیں۔ کسی حساس فنکار کو اگر عوام کے جذبات و احساس کا ادراک ہی  نہ ہو تو وہ ان کی ترجمانی نہیں کرسکتا۔  یہی حساسیت محب اللہ قاسمی صاحب کے افسانوں کا خاصہ ہے  اور ان کی کہانی بھات اس کی جیتی جاگتی مثال ہے ۔ اقتباس دیکھیں :

’’جاؤ آدھار کا رڈ سے لنک کراؤ۔ اس کے بغیر راشن نہیں ملے۔‘‘

گیتا دیوی  ڈیلر سے منت سماجت کرنے لگی۔ ’’میری بیٹی بھوک سے بے حال  ہے۔ راشن میں  کچھ چاول ہی دے دو کہ بھات پکا کر بیٹی کو کھلا دوں ، ورنہ میری بیٹی بھوک سے مرجائے گی ۔‘‘ مگر ڈیلر کے دل میں ذرا بھی رحم نہیں آیا۔ اس نے اسے یہ کہتے ہوئے وہا ں سے بھگا دیا: ’’جاؤ ! جب تک یہ راشن کارڈ آدھار سے لنک نہیں ہوگا ،تمہیں راشن کا ایک دانا بھی نہیں نہیں ملے گا۔‘‘بے چاری گیتا دیوی انسانوں کی دنیا سے رحم کی بھیک نہ ملنے پر مایوس گھر لوٹ آئی۔ اپنی بیٹی کو گلے لگا یا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ بولتی اس کی آخری آواز بھات بھات کہتے ہوئے بند ہوگئی۔…..اور گیتا دیوی اسے سینے سے لگائے زور سے چلاتے ہوئے اس ڈیجیٹل بے رحم دنیا پر ماتم کر رہی تھی۔

’کشمکش‘ کی کہانیوں کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اسی طرح کے  تلخ حقیقت کو بیان کرکے درسِ عبرت بنادیتی ہیں۔  عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ حقیقت بیانی کے بجائے بلا واسطہ غیر ضروری جذباتی مسائل اٹھا بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی غلیظ حرکت کر رہا ہے۔ ایسے میں محب اللہ قاسمی کی کہانیاں معاشرے کی تلخ حقائق کی جانب بڑی خوبی سے توجہ مبذول کراتی ہیں۔ اس طرح عصرِ حاضر کے  بنیادی مسائل کو فنکارانہ انداز میں بیان کرنے والی  یہ کتاب اس دور کا  ترجمان بن کر سامنے آتی ہے۔

محب اللہ قاسمی  کے قلم سے منفرد انداز میں وعظ و نصیحت کی کتاب ’شخصیت کی تعمیر‘ پہلے ہی قبولیت عام حاصل کرچکی ہے۔ ’کشمکش‘ ان کی ایک فنی تخلیق ہے۔ اس میدان میں استقبال ہے اور دعا ہے  اس  کتاب کی بھی خاص و عام میں خوب پذیرائی ہو۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

One Comment

  1. ماشاءاللہ
    اچھا تعارف ہے۔ فاضل دیوبند کے ساتھ ساتھ ایم اے بھی۔
    یعنی پڑھے لکھے بھی ہیں۔ صرف عالم نہیں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button