شخصیات

محمد بن عبد الوهاب رحمه الله ایک تہمت زدہ مصلح

سمیع اللہ

 

بارہویں صدی ہجری اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز میں دنیائے اسلام کا دینی و اخلاقی انحطاط انتہا کو پہنچ چکا تھا۔اس عہد کے مسلمان قرن اول کے مسلمانوں سے بالکل مختلف تھے۔خود مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی اس تفاوت پر متعجب تھے۔یہ تو تھے وہ حوصلہ شکن حالات جب 1703ء میں محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ پیدا ہوئے۔ان کا خاندان اپنے علم و ورع و تقویٰ کی بنا پر سارے نجد میں مشہور تھا۔چودہ پندرہ برس کی عمر کے تھے کہ ان کا شمار عرب بھی کے ممتاز علماء میں ہونے لگا۔ان کے علم و فضل کی شہرت سن کر طالبان علم دور دور سے آنے لگے لیکن وہ خود بھی علم کے پیاسے تھے چنانچہ وطن سے نکل کھڑے ہوئے پہلے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پہنچے اور پھر ایران میں اپنے عہد کے ممتاز اساتذہ کے آگے زانوئے تلمذتہ کیا۔پھر وطن واپس آئے اور دعوت و ارشاد میں مشغول ہو گئے۔ان کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر علاقے کے حکمران سخت پریشان ہوئے۔انہیں اپنا اقدار خطرے میں نظر آیا چنانچہ ان کے علاقے کے امیر نے مقامی گورنر کو ایک پیغام میں اس طرح کی خبر دیتے ہوئے کہا:
شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے میری مرضی کے خلاف عمل کیا ہے،اس لئے انہیں قتل کردیں ورنہ ہم آپ کو خراج دینا بند کردیں گے۔شیخ نے سنا تو پوری بے خوفی کے ساتھ اپنی دعوت کا اعلان کیا:
میرا موقف لا الہ الا اللہ ہے۔میں اسلام کے بنیادی اصولوں کو اپنانے،نیک کام کرنے اور برے کاموں سے باز رہنے کی دعوت دیتا ہوں۔اگر تم اس دعوت کو قبول کرو گے اور اس پر ثابت قدم رہوگے تو اللہ تعلی تمہیں اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا کرے گا۔
لیکن مقامی گورنر نے اس دعوت کو ٹھکرا دیا اور شیخ کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا چنانچہ شیخ ملک چھوڑنے اور بھٹی کی طرح تپتی ہوئی ریت پر برہنہ پا سفر کرنے پر مجبور ہوگئے۔شیخ ایک مدت تک سرگرداں رہے اسی دوران میں درعیہ کا امیر محمد بن سعود دعوت سے متاثر ہوا،اس نے شیخ کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور عہد کیا کہ وہ دعوے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کرے گا شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ بلند پایہ مجدد اور امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے صحیح معنوں میں جانشین تھے۔شرعی مسائل میں شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ حنبلی مسلک کے پابند تھے تاہم وہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اندھے مقلد نہ تھے۔اپنی کتابوں میں انہوں نے بالصراحت کہا کہ جو مسلمان دیگر فقہی مسالک سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں انہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
مختلف گوشوں سے شیخ کی شدید مخالفت ہوئی،یہ ایک فطری امر تھا۔ان کے دشمنوں نے عامتہ المسلمین کو یقین دلایا کہ شیخ ایک نئے مذہب کی تعلیم دیتے ہیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے شیخ پر گوناگوں الزامات عائد کیے کہ وہ ایک نیا فرقہ بنا رہے ہیں جو لوگ ان کی سیادت تسلیم نہیں کرتے انہیں کافر قرار دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ان الزامات میں رتی بھر بھی صداقت نہ تھی لیکن شیخ کے دشمن اپنے عقیدت مندوں کو اس جھوٹ کے باور کرانے اور شیخ کی دعوت دینی پر لبیک کہنے والوں کو”وہابی” کا نفرت انگیز لقب دینے میں کامیاب ہو گئے۔
امیر عبد العزیز کے انتقال پر اس کا بیٹا جانشیں ہوا۔بدقسمتی سے وہ تدبر اور حکمت عملی دونوں سے عاری تھا۔اس نے شیخ کے متبعین کو ترکوں کی حکومت سے بھڑادیا۔وہ عقل و دانش سے کام لیتا تو مسلمانوں کے مابین اس غیر ضروری خون ریزی کو ٹال سکتا تھا،لیکن اس کے پیروکار مکمل سیاسی اقتدار کے طلب گار تھے اس لیے انہوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کردی۔اس تصادم ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج بھی کسی ترک کے آگے”وہابی تحریک” کا ذکر کرنا اس کی نفرت کو ابھارنے کے لئے کافی ہے۔
اس مہلک غلطی کے نتیجے میں مصر کا البانوی حکمران محمد علی”وہابی تحریک” کا نام و نشان مٹا دینے کے ارادے سے عرب پر چڑھ دوڑا۔1814ء میں طائف کے قریب زبردست جنگ کے بعد وہابیوں کو شکست فاش ہوئی۔اس جنگ کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زائد مارے گئے۔طائف کے گلی کوچے لاشوں سے پٹ گئے پھر ظلم و تشدد کا بازار گرم ہوا۔تمام مشہور و معروف وہابی گروہ در گروہ گرفتار کر لیے گئے اور برسرِ عام ان کی گردن ماردی گئی۔ان کی لاشوں پر کتے چھوڑ دیے گئے،فاتحین جس شہر میں بھی پہنچے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی،کھجور کے باغات تباہ کردیے،مویشی مار ڈالے،مکانات کو آگ لگا دی،بوڑھی بیمار عورتوں اور بچوں کو بڑی بے دردی سے ذبح کر دیا۔
پچیس برس بھی نہ گزرے تھے کہ سلطان عبد العزیز ابن سعود نے محض اپنی سعی و جہد کے بل پر جزیرہ نمائے عرب کا بیشتر علاقہ فتح کر لیا۔ابتداء میں نہ صرف اس کے زیر سایہ بسنے والے عربوں کی بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہیں اس پر موکوز ہوگئیں۔ان کا خیال تھا کہ وہ احیائے اسلام کا پرچم لے کر اٹھے گا چنانچہ وہ بڑی بے چینی سے اس روز سعید کا انتظار کرنے لگے لیکن جب اس نے ملوکیت کے قیام کا اعلان کیا تو ان کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔اب یہ عیاں ہوگیا کہ شاہ سعود نے وہابی تحریک کے مذہبی جوش و خروش کو محض حصول اقتدار کی خاطر بطور حربہ استعمال کیا گیا تھا۔
اگر چہ وہابی تحریک خالص سیاسی معنی میں جزیرہ نمائے عرب تک محدود تھی تاہم روحانی طور سے اس کے قوی اثرات عالم اسلام کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اپنی رو میں بہا لے گئے۔اس تحریک کی قابل تقلید مثال سنوسی تحریک،الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کو حرکت ملی۔اسلام کی نشأة ثانیہ بلکہ اس کی بقا کا دارومدار محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ایسے مجددین کی روحانی اولاد ہی پر ہے۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button