Sliderسیرت رسولؐ

محمد ﷺ کے اخلاق کریمانہ

ام حمیدہ انصاری

ملاڈ مالونی، ممبئ
راہ چلتے اکثر ایسے مناظر دیکھنے کوملتے ھیں کہ کسی امیر زادے کی Bulletسے کسی آٹو to رکشہ کا ٹکراو ھو جاۓ بات بحث سے بڑھ کر گالی گلوچ اور مارا ماری تک پھنچ جاتی ھےزرا سی دیر میں تربیت کرنے والوں کوپرورش کرنے والوں کو تعلیم دینے والوں کو تھذیب کو مذھب کوبرا بھلا کھنے سے گریز نھیں کرتے۔ نوجوان نسل میں غصہ اور تشددان کی پوری شخصیت پر حاوی ھو جاتا ھےکہ” غصہ حرام” ھونے کے بہ وجودھر وہ قدم اٹھا لیتا ھےجو نہ اسے مسلمان رکھتا ھے نہ انسان۔’انﷲ مع الصابرین’ کے معنی و مطلب کو کھو دیتا ھے۔اخلاقی گراوٹ کےجواز میں ٹیلیویژن انٹرنیٹ موبائل بھی پیچھے نھیں ھیں۔دور جدید میں ان دجالوں کو گھروں میں داخلے کا راستہ ھم نے دکھایا۔نئ نسل کو بربادی کی طرف ڈھکیلنے کے ھم خود ذمہ دار ھیں۔آئۓ ھم احتساب کریں۔ ھم نے اپنے لاڈلوں کوحضرت محمدؐکے اسوہ حسنہ سےمتعارف کرایا ھوتا توآج کف افسوس نہ ملنا پڑتا۔ سورت الاحزاب آیت نمبر 21لقد کان لکم فی رسولﷲ اسوہ حسنت لمن کان یرجواﷲوالیوم الاخرہ ذکرﷲ کثیرا۔البتہ تمھارے لۓ ھیںﷲ کے رسولؐ ایک اچھا نمونہ۔ھر اس شخص کے لۓ جو ﷲ جل شانہ اور روز آخرت پر امید رکھتا ھے اورﷲ تعالی کو بکثرت یاد کرتا ھے حسن سلوک رحم دلی عفو در گزر جیسے الفاظ کتابی معلوم ھوتے ھیں۔تیز رفتار زمانہ ترقی کر رھا ھے بشمول نئ نسل کے مزاج و کردار کے۔حضرت محمدؐ کے اسوہ حسنہ سے ناواقفیت نئ نسل کے کردار کے بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ ھے۔بتانا چاھۓ تھا کہ حضرت محمد ؐ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز تھے۔سورت القلم آیت نمبر 4″ وانک لعلی خلق عظیم” آپؐ نے عملا” وقولا” ھر شعبہ جات زندگی میں رھنمائ فرمائ ھے۔ھم اخلاقیات کی پھلی سیڑھی پر بھی نھیں ھیں۔ھم ﷲ والے ھیں ھم قرآن والے ھیں ھم حضرت محمدؐ کے امتی ھیں جن کے ذمہ ھے کہ دین اسلام کو آگے پھنچائیں۔اپنے کردار سےحسن سلوک سے ۔ھمارا آئیڈئل کوئ ھیرو نھیں بلکہ حضرت محمد ؐکی زندگی ھے قرآن وسنت پر عمل کر کے ایک اچھا انسان سچا مسلمان اور پکا وطن پرست بن سکتے ھیں۔سورت ممتحنہ آیت نمبر 4 اور آیت نمبر 6یقینا” تمھارے لۓ ان میں بھترین نمونہ ھے یعنی اس کے لۓ جوامید رکھتا ھےﷲ جل شانہ سےملاقات کی اور آخرت کے دن کی اور جس نےروگردانی کی تو بے شک ﷲ تعالی بے نیاز ستودہ صفات ھے۔ ( تحریر سے ممکن ھے نہ تقریر سے ممکن ۔وہ کام جو انسان کا کردار کرے ھے) طائف کا واقعہ کہ پتھروں سے مار کر جسم اطھر کو لھو لھان کر دیا پھاڑکے فرشتے نے کھا آپؐ حکم دیں تو دونوں پھاڑوں کو ملا کر قوم کو ختم کر دوں۔بارش کے فرشتے نے کھا آپؐ حکم کریں تو سیلاب لا کر قوم کو غرقاب کر دوں آپؐ نے فرمایا نھیں ۔یہ لوگ نھیں تو ان کی آنے والی نسل میں سے کوئ ھدایت پا لے گا ۔میں رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا ھوں ۔خانہ کعبہ میں نماز ادا کرتے وقت پیٹھ پر اوجھڑی رکھی گئ۔ گردن مبارک پر تلوار رکھی گئ۔یھودی عورت نے کچرا پھینکا معاف فر ما دیا ۔ھر ظلم کے بدلے میں دعائیں دیں۔جنگ میں ھاتھ آۓ قیدیوں کو عام معافی کا اعلان کیا۔( کرو مھربانی تم اھل زمیں پر ۔خدا مھرباں ھو گا عرش بریں پر ) ھم نے قرآن وحدیث سے رھنمائ حاصل کرنا چھوڑ دی ھے آپؐ کو آئیڈئل مان کر قرآن کا عملی نمونہ بن سکتے ھیں۔اصل کامیابی اسی میں ھے سورت الحدیدآیت 20 سورت فاطر آیت 5 سورت لقمان آیت نمبر 33 دنیا کی زندگی ایک دھوکہ ھے ۔آدمی مادیت ھے اور مسلمان ھونا انسانیت کی معراج ھے۔ یہ باور کرانے کے لۓ صدیوں لگیں گے کہ سب سے اچھا مذھب اسلام اور سب سے اچھی قوم مسلمان ھے ۔دنیا کی رنگینی میں کھو کر آخرت کی تیاری کو نہ بھول جائیں شیطانی وسوسے نے دنیا کو خوبصورت بنا کر پیش کیا ھے تاکہ انسان ﷲ کی یاد سے غافل ھو جاۓ ۔ﷲ جل شانہ ھمیں آخرت کی تیاری کرنے والا بناۓ اور دنیا سے بے رغبتی پیدا فر ماے ء۔آمین
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button