Sliderمسلم دنیا

مدارس کی افادیت کا دائرہ کیسے وسیع کیا جائے؟

مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے چند پہلوؤں میں کام کرنے کی ضرورت ہے

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

  ہندوستان میں مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا تو اس کے ساتھ وہ فکری اور تہذیبی میدان میں بھی شکست خوردہ  ہو گئے۔ انگریزوں نے ملک کی زمام اقتدار کو اپنے قبضے میں لیا تو یہاں کے باشندوں کے قلب و دماغ اور ذہن و فکر کو بھی اپنا غلام بنا لیا۔ انگریز فوجوں کے جلو میں عیسائیت کے پرچارک بھی آگئے۔ انھوں نے جی جان سے عیسائیت کی تبلیغ کی۔ مناظرانہ ماحول میں عیسائی مشنریز نے اسلامی عقائد، شعائر اور احکام و تعلیمات کو نشانہ بنایا اور انھیں فرسودہ قرار دیا۔ انگریزوں نے ملک میں نیا نظامِ تعلیم جاری کیا، جو انھیں حکومت چلانے کے لیے کُل پرزے فراہم کرے اور جس کے پروردہ صورت وشکل سے تو ہندوستانی ہوں ، لیکن ان کے ذہن و دماغ، چال ڈھال، عادت و اطوار، رہن سہن سب مغرب میں رنگ چکے ہوں۔

  اس صورتِ حال میں علماء نے ارتداد کا خطرہ محسوس کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ نئی نسل کا ایمان و اعتقاد اسلامی عقائد و مسلّمات سے اٹھتا جا رہا ہے۔ جدید تہذیب کی چمک دمک نے ان کی نگاہوں کو خیرہ کر دیا ہے۔ نئی تعلیم سے ان کی معاشی  مشکلات تو کسی حد تک دور ہو رہی ہیں ، لیکن ساتھ ہی وہ اپنے دین سے بھی بیگانہ ہو رہے ہیں اور اس سے ان کا رشتہ کم زور سے کم زور ہوتا جا رہا ہے۔

اس صورتِ حال نے علماء کو بے چین کر دیا۔ انھوں نے مسلم بچوں کے ایمان و عقیدہ اور دینی تشخص کی حفاظت کے لیے منصوبہ بندی کی۔ اس کا نتیجہ دار العلوم دیو بند کے قیام کی صورت میں سامنے آیا۔ پھر دیوبند کے طرز پر  اور اس کے زیر اثر ملک کے دوسرے حصوں میں بھی بہت سے مدارس قائم ہوئے اور دینی تعلیم کا جال بچھا دیا گیا۔ ان مدارس نے ملکی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر غیر معمولی خدمت انجام دی ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کو فکری ارتداد سے بچایا اور اسلام پر ان کے اعتماد و یقین کو راسخ کیا۔ یہ ان مدارس کی عظیم الشان خدمت ہے، جسے عمومی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

دینی مدارس نے اپنے مقصد وجود کے مطابق خدمت انجام دی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ وہ حالاتِ زمانہ سے مطابقت پیدا کریں اور عصری ضرورتوں کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن افسوس کہ بیش تر مدارس نے اس پہلو سے تغافل برتا ہے، اس بنا پر انھوں نے اپنی افادیت کھو دی ہے اور وہ اپنا مطلوبہ کردار انجام نہیں دے    پا رہے ہیں۔

                مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے چند پہلوؤں میں کام کرنے کی ضرورت ہے:

1۔ نصاب تعلیم پر نظر ثانی

 بیش تر مدارس میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ ’درسِ نظامی‘ کہلاتا ہے۔ جس زمانے میں یہ نصاب تیار ہوا تھا وہ اپنے زمانے کے مطابق تھا اور اس دور کی ضرورتوں کو پوار کرتا تھا۔ مختلف زمانوں میں حسب ضرورت اس میں تبدیلیاں کی جاتی رہیں ، لیکن پھر ایک زمانہ ایسا آیا جب نظر ثانی کا عمل موقوف ہو گیا۔ اس میں بعض مضامین ایسے شامل ہیں جن کی موجودہ زمانے میں کوئی افادیت نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کی جگہ سماجی و سیاسی علوم اور دیگر ایسے جدید مضامین شامل کیے جائیں جن سے واقفیت ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔

2۔ تقابل ادیان کے مضمون کی شمولیت

 ہندوستان کثیر مذہبی معاشرہ کا ملک ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے بستے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مذہب کے ماننے والوں کو دوسرے مذہب کے بارے میں بنیادی معلومات بھی نہیں ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ وہ بہت سی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کے لیے دیگر مذاہب سے واقفیت اور بھی ضروری ہے، اس لیے کہ وہ داعی قوم ہیں۔ مدعو قوم کی نفسیات، عقائد و افکار، رسوم  و روایات اور عادت و اطوار کو جاننا ضروری ہے، بلکہ ان کا دینی فریضہ بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ مدارس نے اس پہلو پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ضرورت ہے کہ مدارس میں تقابل ادیان کے مضمون کی تدریس ہو اور معروضی انداز میں دیگر  مذاہب کا مطالعہ کروایا جائے۔

3۔ فقہ ِمقارن کی تدریس

  ہندوستان میں فقہ حنفی کا غلبہ رہا ہے۔ اس لیے یہاں کے مدارس میں فقہ کے نام پر فقہ حنفی ہی کی تدریس ہوتی رہی ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ بھی نہ تھا، لیکن افسوس کہ اس کی تدریس کا جو طریقہ اختیار کیا گیا، وہ درست نہ تھا۔ اساتذہ نے یہ مضمون اس طرح پڑھایا، جیسے فقہ حنفی ہی برحق ہے اور دیگر فقہی مسالک باطل ہیں۔ نقلی اور عقلی دلائل سے فقہ حنفی کو راجح اور دیگر مسالک کو مرجوح قرار دیا جاتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف مسالک پر عمل پیرا لوگوں کے درمیان خلیج اور منافرت پیدا ہوئی اور اس کے اثرات سماجی زندگی میں بھی ظاہر ہوئے۔ ضرورت ہے کہ مدارس میں ’فقہ مقارن‘ کو رواج دیا جائے۔ اس سے ذہنی توسع پیدا ہوگا اور فکر کے دریچے کھلیں گے۔ علامہ ابن رشد کی ہدایۃ المجتھد اس مضمون کی بہترین کتاب ہے۔ بعض مدارس نے اس کو اپنے یہاں داخل نصاب کیا ہے۔ بہ ہرحال اس پہلو پر مدارس کی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

4۔ زبانوں سے واقفیت

  مدارس کا ذریعہئ تعلیم اردو زبان ہے۔ دینی مصادر کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے بعض مدارس میں بھی عربی زبان پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس طرح فارغین مدارس کو عموماً عربی اور اردو پر قدرت حاصل ہوتی ہے، لیکن دیگر زبانوں سے وہ تقریباً نا بلد ہوتے ہیں۔ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے، اس سے اچھی واقفیت تسلیم شدہ ہے، علمی ترقی اور سماجی ضرورت کا تقاضا ہے کہ طلبہئ مدارس انگریزی زبان سمجھنے، بولنے اور لکھنے پر قادر ہوں۔ اسی طرح ہندی ملک کی قومی زبان ہے۔ اس سے نہ صرف واقفیت ضروری ہے، بلکہ اس میں اتنی مہارت مطلوب ہے کہ اس کے ذریعہ باشندگان ملک کو مخاطب کیا جاسکے اور ان کے سامنے اسلام کاپیغام پہنچایا جا سکے۔

5۔ صحافت اور میڈیا کا تجربہ

 موجودہ دور میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے ذریعہ سماج پر اثرا ڈالا جاتا ہے، افکار و نظریات کی ترسیل کی جاتی ہے، دوسروں کے افکار بدلے جاتے ہیں اور اپنے افکار کی چھاپ ڈالی جاتی ہے۔ گویا جس کے قبضے میں میڈیا ہوتا ہے، حکم رانی کا مقام اصلاً اسی کو حاصل ہوتا ہے۔

 ملک کے تمام مدرسوں میں مجلس صحافت و نشریات ہوتی ہے۔ مدرسہ کا ترجمان پندرہ روزہ یا ماہانہ رسالہ نکلتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ شعبہ بالکل بے جان ہوتا ہے۔ اس میں نہ زندگی کی رمق پائی جاتی ہے نہ رسالے کے مشتملات موجودہ دور کے ذہن کو اپیل کرنے والے اور اس کی ضروریات کی تکمیل کرنے والے ہوتے ہیں۔

 صحافت اور میڈیا ایک ترقی یافتہ فن بن چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ مدارس میں اس کی تعلیم و تربیت ایک فن کی حیثیت سے ہو اور طلبہ کو اس کا عملی تجربہ بھی کرایا جائے، تاکہ کوئی وہ عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد سماج کی قابل قدر خدمت کر سکیں۔

6۔ جدید موضوعات پر لیکچرس کا اہتمام

  دینی علوم میں اختصاص پیدا کرنا مدارس کا نصب العین ہے۔ اس بنا پر ممکن نہیں کہ دیگر مضامین تفصیل کے ساتھ طلبہ کو پڑھائے جا سکیں۔ دوسری طرف بدلتے ہوئے حالات کا شدید تقاضا ہے کہ طلبہ کو جدید موضوعات اور نئی معلومات سے بھی رو شناس کرایا جائے، اس لیے اس سے بالکلیہ محرومی طلبہ کو سماج میں نکو بنا کر رکھ دے گی۔

 اس کی تلافی اس طرح کی جا سکتی ہے کہ مدارس میں وقتاً فوقتاً جدید علوم کے ماہرین کو مدعو کیا جائے اور مختلف عصری موضوعات پر ان کے لیکچر کرائے جائیں۔ اس طرح طلبہ کا ذہنی افق وسیع ہوگا اور وہ نئے حالات سے خود کو ہم آہنگ کر سکیں گے۔

 یہ چند تجاویز اور مشورے ہیں، جو مدارس کی افادیت کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ ان پر عمل کیا جائے تو امید ہے کہ ان مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ سماج میں اپنا قائدانہ کردار ادا کر سکیں گے۔

٭٭٭

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button