Sliderاسلامی معاشرہ

مسلمان اپنے کردار کو اسلامی بنائیں۔ 

آج اس کام کا زیادہ مزا لیتے نظر آتے ہیں جو کام اللہ کے احکامات کی اور نبی کی سنتوں کی مخالفت میں ہو ۔ جیسے اللہ کے رسول نے اپنی امت کے لئے یہ پیغام دیا ہے کہ جو نکاح کم خرچ میں کیا جائے وہ نکاح زیادہ معتبر ہے ۔مگر نبی کے امتی کہتے تو یہ ہیں کہ میری رگ رگ میں ہے نبی نبی اور شادیوں کے وقت نبی کے دئے گئے پیغام کو جانتے بوجھتے ہوئے بھلا کر مخالفت کرتے ہیں

مسلمان اپنے کردار کو اسلامی بنائیں۔

فیروزہ تسبیح بنت لالا میاں۔
چپلون ‘ رتنا گیری
مہاراشٹر

شریک حال جب تک شان اسلامی نہیں ہوتی
مسلماں پیدا ہونے سے مسلمانی نہیں ہوتی۔

آج مسلمانوں میں سب سے بڑا مسئلہ  یہ ہے کہ آج  زیادہ تر مسلمانوں کا کردار اسلامی نہیں ہے ۔کردار مسلمانی ہو جائے پھر دیکھئے اللہ کیسے ہم پر مہربان ہوتا ہے اور غیب سے ہماری مدد فرماتا ہے۔
دوسری بات لوگ آج اس کام کا زیادہ مزا لیتے نظر آتے ہیں جو کام اللہ کے احکامات کی اور نبی کی سنتوں کی مخالفت میں ہو ۔
جیسے اللہ کے رسول نے اپنی امت کے لئے یہ پیغام دیا ہے کہ جو نکاح کم خرچ میں کیا جائے وہ نکاح زیادہ معتبر ہے ۔مگر نبی کے امتی کہتے تو یہ ہیں کہ میری رگ رگ میں ہے نبی نبی اور شادیوں کے وقت نبی کے دئے گئے پیغام کو جانتے بوجھتے ہوئے بھلا کر مخالفت کرتے ہیں اور کروڑوں روپئے پانی کی طرح بہا کر خود کو اپنی سوسائٹی میں اعلی اور اولی ظاہر کرتے ہیں، احساس برتری کے غرور میں وہ یہ تک بھول جاتے ہیں کہ سب سے برتر ذات صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات ہے۔ بڑے بڑے شامیانے، قیمتی لباس، لاکھوں کی لاغت سے آرڈر کئے گئے پکوان، گاجا باجا، سہرا اور ہزاروں کی تعداد میں مہمان یہ سارے خرافات جس کا بعد شادی کے نام و نشان تک ملتا نہیں یہ ان کی آن بان اور شان ہوتی ہے۔ ایسے وقت ظاہر تو یہ ہی ہوتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر جتلا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو ہم نے نبی کے حکم کو نہیں مانا اور شیطان کو خوش کر دیا ۔نعوذوباللہ۔ پھر آپ ہی بتایئے اللہ کے سب سے بڑے دشمن شیطان کو گر مسلمان خوش کریں گے تو کیا اللہ کا عذاب نازل نہیں ہوگا؟
یہ تو صرف ایک مشال ہے ایسی کئیں مثالیں ہیں جسے یاد کر کہ یہ ہی بات ذہن میں آتی ہے کہ اللہ سچ میں بڑا مہربان ہے جو  اپنے بندوں کے اتنے گناہوں  کے با وجود بھی ان کی خوشیوں کا  خیال رکھتا ہے ۔ آج بے حیائی اور عریانیت کا تو ایسا حال ہے کہ شیطان بھی اس حال پر شرم محسوس کرتا ہو گا۔
دوسرے فرعون کا ہر عمل آج کئی خاندانوں میں جھلکتا نظر آتا ہے جس میں سب سے بڑا عمل برتھ ڈے پر کیک کاٹ کر خود کے ہاتھوں میں اپنی عمر کا خزانہ قید کرنے کی خوشی منانا ہے۔ فرعون نے نعو ذوباللہ خدائی کا دعوی کیا تھا اور ہمارے لوگ اپنی برتھ ڈے پر بڑی بڑی پارٹیاں کر کے ناچ گانے کر کے مجمع میں کیک کاٹ کر یہ ہی دعوی کرتے نظر آتے ہیں ۔ جیسے دیکھو آج میں اپنی عمر جی گیا ہوں ۔ اپنی برتھ ڈے پر کیک کے دو حصے کر کہ آخر کیا جتلایا جاتا ہے؟ ظاہر تو یہ ہی ہوتا ہے کہ اپنی جی گئی  عمر کو اور آنے والی زندگی کو (جو صرف اللہ کو پتہ ہوتی ہے) دو حصوں میں کر کہ گزری زندگی کو پیچھے ڈھکیل کر اگلی زندگی جینے کے لئے آگے بڑھنے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اور یہ لت بڑے یعنی والدین  اپنی نسل کو دے کر آگے پھیلا تے نظر آ رہے ہیں۔
میرے اس اظہار خیال سے شائدکچھ  میں اصلاح کا خیال آجائے الحمداللہ ۔ پر کچھ  کیک کاٹنے والے مسلمان میری اس سوچ سے نالاں ہوکر شائد یہ کہے کہ ایسا کچھ ہم سو چتے نہیں ہیں۔ بس اپنی خوشی کو مناتے ہیں۔ ٹھیک ہے آپ کی بات درست ہو پر آپ صرف  اتنا بتا دیں کہ کیا کیک کانٹے کا ذکر اللہ کے احکامات میں یا نبی کی سنتوں میں کہی شامل ہے؟  اگر اس کیک کا ذکر دینی کتابوں میں کہی بھی نظر نا آئے تو قبول کر لیں کہ آپ نبی کی سنتوں کی مخالفت میں کھڑے ہو۔ اللہ اکبر۔ جب کہ برتھ ڈے کے دن یہ ہی باتیں ذہن میں ہونی چاہئے اور ہر نیک صفت ذہن میں  یہ باتیں ہوتی ہی ہیں کہ بندہ اللہ کا دل سے شکر گزار ہوتا ہے کہ اللہ نے اسے عزت اور ایمان کی خوشحالی کے ساتھ اب تک کی زندگی عطا کی ہے۔ الحمداللہ  اور بعد وہ بارگاہ یزدی میں دعا گو ہوتا ہے کہ اللہ آگے کی زندگی بھی جو تو نے مجھے عطا کر رکھی ہوگی وہ بھی اسی طرح عزت اور ایمان کے ساتھ عافیت والی زندگی ہو اور اب تک جانے کتنی ہی مجھ سے غلطیاں اور گناہ ہوئے ہو گے اسے اللہ تو اپنے رحم و کرم سے بخش دے اور مجھے گناہوں سے محفوظ رکھ۔
ٓ

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button