اسلامیات

مضبوط خاندان _ سماج کی تعمیر میں عورت کا کردار

مضبوط خاندان _ سماج کی تعمیر میں عورت کا کردار

راحت پروین شیخ الیاس 

عمر کھیڑ ،ضلع   محل   ایوت

مہاراشٹر

طبیعت بوجھل لگ رہی تھی ۔احساسات کا سمندر لبریز تھا اور سینہ میں ایک راز طوفان مچاۓ ہوۓ تھا ۔بار بار ایک جملہ ذہن میں آرہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔

” مضبوط خا ندان کی _ سماج کی تعمیر میں عورت کا کردار "

"مضبوط خاندان کی تعمیر میں اہم کردار عورت کا ہے_ "

عورت یا تو خاندان کو سنوار دیتی ہے یا بگاڑ دیتی ہے ” _وہ کہتے ہے نہ اگر عورت سنبھل جاۓ تو سارا خاندان سنبھل جاتا ہے_”

پر افسوس ! صد افسوس ! ہمارے معاشرے کی حا لت دیکھ کر دل بہت روتا ہے اور چیخ چیخ کر کہتا ہے _ اتحاد برقرار رکھو ! خاندان کو مضبوط بناؤ تاکہ ہم اپنے نبیﷺ‎ کی طرح اپنے اخلاق کو عروج و اقبال کے تخت پر لے جا سکے ۔اور اپنی حیات میں لوگوں کے لیے مکمل و بہترین نمونہ بنے۔ہر طرف چرچا ہو کہ "خاندان ہو ان جیسا ” جو مضبوطی سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہے۔

اگر عورت نے خاندان کی تربیت کی ذمہ داری لےلی تو ان شاءاللہ !….مضبوط خاندان کی نشونما و ترقی ہوں گی ۔۔

تو چلیے ۔۔دیکھتے ہے ؟؟؟؟۔۔۔

 ماں کا کردار

حکمتوں کی تدبیر کا کاتب تو خدا ہے مگر لوح و کذب پر مستحکم قدم رکھنے والی ماں کہ گود ہے۔۔اسی ہستی کی گود میں گلاب چمیلی موگرہ و یاسمین کی خوشبو ہے۔

ماں ___ ” مدرسہ ہستی کی سب سے بڑی معلمہ "

جو خاندان کو مضبوط کرنے میں اہم کردار عظیم ادا کرتی ہے ۔اگر ماں کی آغوش میں محبت ایکدوسرے سے اخوت سے پلتی رہی تو مضبوط خاندان کی تعمیر ہوگی لیکن اگر ماں کی گود میں ہی ! ماں کی آغوش میں ہی ! اولاد کے ساتھ بھید بھاؤ نفرتیں ہوگی تو خاندان کیا معاشرے کی مضبوطی کو خطرہ رہے گا ۔۔

ماؤں سے مخاطب ہوتے ہوۓ ۔۔۔!

اے محبت و ایثار کی پیکر تجھ پر ہزار جانیں قرباں تونے عبدالقادر جیلانی کو درس صداقت دیا ۔۔اے عفت کی بلند مینار حضرت مریم تو ہے توحید کے لیے بر سر پیکار حضرت آسیہ تو ہے ۔قوم کو غمخواری سے پیدا کرنے والی رابعہ بصری تو ہے ۔تیری گود آمنہ حلیمہ کی گود ہے ۔تجھکو تیرے لال ہونے پر ناز ہے۔

تیرا آغوش ۔۔۔۔۔۔!! حضرت فاطمہ بنت رسول ﷺ‎ کا آغوش ہو تجھکو کربلا کے ذرے ذرے پر فخر تیرا دامن رحمت عالیہ بیگم کا ہو ۔۔صفا و مروہ کے درمیان بار بار چکر لگانے والی حضرت حاجرہ تو ہے۔

مگر اے ماں !!!! ۔۔۔کل تو تیری وہ حالت تھی مگر آج تو تیرے اوصاف کہاں بھو لا بیٹھی ہے۔آج اپنی اولاد کو برائیوں کی تلقین دیتی ہے آس پاس کے گھروں کے حالات معلوم کرنے کے لیے کہتی ہے۔۔۔آج تو سینیما حال جاتی ہے ۔بھائیوں بھائیوں میں اختلاف ڈالتی ہے ۔آج تو اپنے اولاد کو برائیوں کی طرف گامزن کرتی ہو ۔۔

اے ماں !!! اے ماں ۔۔۔تو آج خود کے ہی خاندان کو برباد کر رہی ہوں ۔آج خاندان اتحاد میں نہیں ہے ۔منتشرہے !! منتشرہے!! کیوں آج ہم منتشر ہیں ۔۔۔

مائیں ہماری آج خدیجہ صفات ہو ۔۔۔۔

پھر فاطمہ صفات ہماری بنات ہو۔۔۔

ماؤں غور کرو ۔۔۔۔آسمان سے گرا آوارہ قطرہ جب سیپ کی گود میں پناہ لیتا ہے تو وہ ایک قیمتی موتی بنتا ہے ۔اسی طرح جب کوئی ماں کے گود میں پناہ لیتا ہے تو مضبوط خاندان کا وجود ہوتا ہے ۔

آغوش صدف جنکے زمینوں میں نہیں ۔۔۔۔

وہ قطرہ کبھی بنتا نہیں گوہر ۔۔

ما ں اگر اولاد کو ایکدوسرے کو مدد سکھاۓ ۔۔ہو سکتا ہے گھر میں مختلف معیار اور سطح کے لوگ ہوں حسب و نسب میں فرق ہو ۔۔حسن اور جاہت میں فرق ہو ،تعلیم اور ہنر میں فرق ہوسکتے ہے اور یہ سارے فرق نا ہموار یوں کو جنم دیتے ہے ۔ان نا ہموار یوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔۔

مگر اعلی اخلاق کی چادر سے انھیں خوب صورتی کے ساتھ چھپایا جاسکتا ہے اور یہ کام ایک ماں کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتے ۔۔۔نیک اخلاق دینا ہر ماں کا فرض ہے۔

اگر خاندان مضبوط ہونگے تو گھر کا ماحول خوشگوار محسوس ہوگا۔۔۔ماں کے اگر دو بیٹے ہے ایک بیٹا اگر ہر مقابلہ میں کامیاب و کامران ہوتا ہے۔جبکہ دوسرا بیٹا ہر اعتبار سے اگر کمزور ہو تب ماں کا فرض ہے کہ وہ ایک بیٹے کو عروج نہ دیتے ہوۓ دونوں کے ساتھ اگر مساوی سلوک کرے ۔کمزور بیٹے کی حوصلہ افزائی کرے اور جو کامیاب بچہ ہے اسے بھی تعریف سے نوازے مگر دونوں کے ساتھ یکساں محبت و الفت کو برقرار رکھے تو انشاءاللہ ہم متحد رہے گئے اور ہر کسی میں انتشار نہ پیدا ہوگا۔۔

ماں کی ذمہ دای ہے کہ گھر میں اگر کوئی چیز لائی جاۓ تو وہ ہر گھر کے افراد کو مساوی تقسیم کرنی چاہیے ۔بڑی چیزوں میں مساویانہ تقسیم جتنی اہم ہے چھوٹی چیزوں میں مساویانہ تقسیم اتنی ہی اہم ہے ۔نہ برابری کا دلوں پر گہرا اثر ہوتاہے اور خاندان میں کمزوری کا پروان چڑھتا ہے ۔۔۔۔

اے ماں ! تو اپنی ذمہ داری کو پورا کر ۔۔۔۔

تجھ سے ہی گھروں کی جنت ہے ۔اور تو ہی تو اولاد کی پرورش کی ذمہ داری اپنے سر لیے ہوۓ ہے۔

اے ماں !! اے ماں ۔۔!! تجھ سے مخاطب ہوں ۔۔۔۔

اب اے ماں تجھ سے سوال ہے ؟؟

1)اگر تو خاندان کو مضبوط نہیں کرے گی تو کون کرےگا ؟

2)آج تو کہا ں ہے؟؟

تیرے اخلاق آج کہا ہے؟

4)تیرے کردار کہا ہے؟؟

 بہن کا کردار

اب میں ! امت کی بہنوں سے مخاطب ہوں ۔۔۔۔

اگر خاندان میں بڑی بہن موجود ہو تب ! اس بہن کے سارے بھائی بہن اسکے کردار کو اپناتے ہیں اسکو اپنا طرز سمجھتے ہے ۔بہن کا حق ہے کہ وہ اپنے بھائی اور بہنوں کو مضبوطی کی طرف راغب کرے۔

اگر خاندان میں دو بھائی ہے اور ایک بہن تب ایک امیر اور دوسرا غریب ہے تب بہن کا فرض ہے کہ وہ جب اپنے بھائیوں کے گھر آۓ تو اگر تحائف لاۓ تو دونوں کو مساوی دے ۔۔کیونکہ اگر وہ امیر بھائی کے ہی گھر جاۓ گی اور اسے ہی تحائف دے گی تو اسے اپنے امیری کا فخر محسوس ہوگا ۔اور دو بھائیوں میں اختلافات کا جذبہ رونما ہوگا۔

” ہمارا کردار زمانہ کے نظر میں مثالی ہونا چاہیے ۔۔۔!!

کیونکہ ایک عورت ہی گھر کی زینت ہوتی ہے ۔اور وہی اپنے گھر کو سنوار سکتی ہے اور وہی بگاڑنے کے لیے بھی ذمہ دار ہو تی ہے۔۔

اے بہنوں تم آج اپنے کردار کو صحابیہ کے کردار کی طرح سنواروں ۔۔۔تم اپنے خاندانوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرو ہر طرف یکجہتی قائم کرنے کی کوشش کرو۔۔۔تاکہ پھر سے ہم متحد ہو جاۓ ۔۔۔۔اور اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے کی کوشش کرۓ۔

اگر آج بہنیں اپنے بھائیوں کو نماز فجر سے ان کے دن کی شروعات کرنے کی کوشش کرے اسلام کی تعلیمات کوسمجھا ئیں تب خاندان میں مضبوطی ہوگی لیکن اگر بہن ہی دن کے 12 بجے اٹھتی ہے اور نماز فجر کی تلقین بھائیوں کو دیتی ہے تو کیا وہ مانیں گے؟؟؟

آپ سے سوال ہے کیا وہ اٹھے گے ؟۔۔۔آج مساجد کی صفیں ویران ہے جسکی وجہ سے ہم ہر وقت برائیوں میں ہوتے ہے؟؟اور اسی کی وجہ سے سماج میں انتشار ہے ہر کوئی ایک دوسرے کے لیے دلوں میں بغض ،کینہ ،حسد کو عروج دے رہے ہیں اور ہماری صبح ہی زوال سے ہو رہی ہے تو ہماری زندگی میں زوال رواں دوا ں ہو رہی ہے ۔۔

ساس بہو کا کردار 

ساس بہو کا کردار آج کیا ہے زمانہ میں آپ سبھی بخوبی واقف ہے ۔۔مگر بتاتی چلوں۔۔۔۔

” جھگڑا۔۔۔جھگڑا۔۔۔جھگڑا۔۔۔”

یہی حال آج کی بہو اور ساس کا ہے ایک دوسرے کی چغلیاں تھوڑی تھوڑی باتوں پر انفرادیت یہی آج معاشرے کی کمزوری ہو رہی ہے ۔ساس بہو کے اس طرز عمل سے آج معاشرے کی کمزور ہو رہی ہے ۔ہر ساس اپنی بہو کو اگر بیٹی سمجھے ۔۔۔۔اور ہر بہو ساس کو ماں کا درجہ دے تب۔۔۔۔یہ کمزوری بھی جڑ سے اکھڑ جائیگی ۔۔پر افسوس ! یہ لوگ خاص کر عورتیں کب سمجھے گی ۔۔۔۔

آج کی ساس بہو کے کردار کو دیکھ کر دل بہت رو رہاہے کہ

اے کاش !!! آج خواتین اپنے عظمت کو سمجھ کر خاندان کو مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کرے۔۔بڑے دکھی دل سے آج کے نظاروں کو دیکھ کر لکھنا پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔

قلب میں سوزنہیں روح میں آواز نہیں۔۔۔۔۔

کچھ بھی پیغام محمد ﷺ‎ سا تمھیں پاس نہیں۔۔۔

یہ تو کچھ کرداروں کی وضاحت تھی۔۔۔۔مگر اب۔۔۔۔

 آج کی عورتیں اور بکھرتے ہوۓ خاندان 

عورتیں مختصرا !!! باتوں کی وجہ سے جھگڑوں پر آمادہ ہوجاتی ہے ۔۔اور خاندان میں انتشار پیدا کرنے کے لیے ذمہ دار ہو رہی ہے ۔۔سماج کی بہترین تعمیر ایک عورت بخوبی کر سکتی ہے۔

مگر جب۔۔۔۔جب اسے بے حیائی برے کاموں او ر غلط رسموں رواج سے فرصت ملے تب نا۔۔۔۔۔

آج بے حیائی کا دلدل عام ہو چکا ہے ۔

مضبوط خاندان تب ہی رائج ہوگا جب ۔۔۔رسول ﷺ‎ کی زندگی کو مکمل نمونہ سمجھ کر ان کی سنتوں پر عمل ہوگا ۔۔۔جب ہر طرف اسلام منور ہوگا ۔جب اسلام لوگ سمجھے گے۔

تب ہی مضبوط لوگ وجود میں آۓ گے مضبوط سماج کی تعمیر ہوگی مگر تربیت اگر صحیح ہوگی تو ۔۔۔۔مضبوط خاندان وجود سماج میں آۓگے جی ہاں !! مضبوط خاندان وجود میں آۓگے۔۔۔!!!

مگر عورتوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا ضروری ہے اگر سو تیلے بیویاں بھی ہوتب انھیں حضرت عائشہ ؓ کی زندگی کو بغور مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ سوتیلے خاندان بھی سگے خاندان کی طرح ہو۔۔۔۔۔!

اے کاش۔۔۔۔آج کی مائیں، بہنیں، بیٹیا ں عائشہ ؓ کی زندگی کو پڑھ کر زندگیوں میں نیک کاموں کی طرف راغب ہو جاۓ۔۔

!!!اے کاش اے کاش

اسلام کی شہزادیاں اپنے حقوق کو جان کر اپنی ذمہ داری کو پورا کرے ۔۔۔۔۔

اے عورتوں تم ہی اس اینٹ ، پتھر ، سیمینٹ سے بنے ہوۓ گھر میں محبت الفت کو پیدا کر سکتی ہو۔۔۔۔

نند بھاوج ،ساس بہو ،بھائ بہن ، ماں سب کی ذمہ داری ہے۔۔مگر کیوں ہم اپنی ذمہ داری کو بھلا بیٹھے ہے ؟؟؟

کیوں !!!! ہم کیا کرتے ہے ذرا سوچئے ۔۔۔۔؟؟؟ اور آج ہمارے خاندان کیوں کانچ کے ٹکڑے کی طرح بکھرے رہے ہیں ۔۔ذرا سوچئے ؟؟؟؟

اکر اللہ کے رسول ﷺ‎ کہ اخلاق کا ہم مطالعہ کرے تو سماج مضبوط و پائیدار ہوگا ۔۔اور خاندان مضبوط ہونگے ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔۔

اور اگر ہمارے خاندان مضبوط ہوجاۓ تو ہمیں کوئی نہیں توڑ پاۓ گا کوئی علیحدہ نہ کر پاۓ گے جس طرح کوئی لکڑیوں کہ گچھے کو نہ توڑ نہ سکے ؟ کیونکہ لکڑیو ں کا گچھا مضبوط ہوتاہے ۔اسی طرح کے کو کوئی نہ توڑ پاۓ گا ۔۔۔۔۔ان شاءاللہ۔۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button