Sliderفکرونظر

مطالعہ ادیان کیوں اور کیسے؟

مطالعہ ادیان کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مذاہب اور ادیان کے بنیادی عقائد،عبادات اور رسومات کاایسا ناقدانہ اور عادلانہ جائزہ لینا کہ ہر مذہب کی قدر وقیمت،خوبیاں اور خامیاں پوری طرح روشن ہو جائیں۔

ایم-ایچ-انصاری

 

عصر حاضر میں ابلاغ و ترسیل کے ترقی پذیر ذرائع نے تمام انسانی جماعتوں کو ایک دوسرے سے بہت قریب کردیا ہے، ایسی صورت حال میں ایک دوسرے سے میل جول رکھنے،بہتر سے بہتر معاشرہ تشکیل دینے اور آپسی تعلقات کومستحکم کرنے کے لئے ایک دوسرے کو جاننا،سمجھنا اور ایک دوسرے کے جذبات سے واقف ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر مذہب محسوس یا غیرمحسوس طریقہ سے دوسرے مذاہب سے جڑا ہوا ہے،اس لئے اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کا سنجیدہ مطالعہ ناگزیر ہے۔

مطالعہ ادیان کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مذاہب اور ادیان کے بنیادی عقائد،عبادات اور رسومات کاایسا ناقدانہ اور عادلانہ جائزہ لینا کہ ہر مذہب کی قدر وقیمت،خوبیاں اور خامیاں پوری طرح روشن ہو جائیں۔لہذا ادیان کا مطالعہ کرنے والا خاص طور پر ان امور کا جائزہ لے کہ کسی بھی مذہب کا حقیقی محور کیا ہے؟اس کی بنیادی تعلیمات کس نوعیت کی ہیں؟اس کی تسلیم شدہ کتب لفظی ومعنوی لحاظ سے محفوظ ہیں یا ان میں تبدیلی کی گئی ہے؟وہ کتب انسانی زندگی کے ہر شعبہ کی رہنمائی کرتی ہیں یا مخصوص شعبوں کی رہنمائی کرتی ہیں؟اور بانیان مذاہب کے حالات زندگی کہاں تک تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں؟

مطالعہ ادیان کے بڑے فوائد ہیں مثلاًاس سے انسانی موضوعات اور مشترک مسائل کو حل کرنے میں آسانی ہوتی ہے،اس سے مختلف تہذیبی و تمدنی روایات کی انفرادی خصوصیات سامنے آتی ہیں اور کسی نوع کے اجزاء کا باہم مطالعہ کرنے سے اس نوع کو سمجھنے میں سہولت ہوتی ہے۔مذہب کا مطالعہ کرنے والا داعی مخاطب اقوام کی نفسیات،تاریخ،تمدن وثقافت اور ان کے عقائد و شریعت کی خوبیوں اور خامیوں کو نمایاں کر کے ان کے سامنے غور و فکر اور تحقیق کی راہیں ہموار کرتا ہے جس سے تمام انسانوں کو حق تک پہونچنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ اکثر لوگ حق تک راہ یاب ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ تمام فوائد اور دیگر مقاصد اسی وقت پورے ہو سکتے ہیں جب مذاہب کا مطالعہ کرنے والا اپنے مطالعہ میں معروضی اورغیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرے،اگر وہ پہلے سے ہی کسی تسلیم شدہ نظریہ کو اپنا معیار بنالے تو پھر وہ جو بھی بات اپنے نظریہ کے مطابق پائے گا اسے صحیح اور جس بات کو اپنے مخالف محسوس کرے گا اسے غلط سمجھے گا اور اپنے مذہب کی خامیوں کو دیدہ و دانستہ چھپانے کی کو شش کرے گا،نیز اپنی پوری کوشش اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے اور دوسرے مذاہب کے رد و ابطال پر صرف کردے گا،جس سے دوسرے مذاہب کی وہ تصویر سامنے نہیں آئے گی جو کہ اس کے ماننے والوں کے نزدیک ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے مقصد مطالعہ فوت ہو جائے گا۔

مطالعہ کے دوران ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ حالیہ مذہب کے ماننے والوں سے زیادہ ان کے مذہب اور ان کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ ان کی مذہبی تصویر ان کے ماننے والوں سے نہیں بلکہ ان کی مذہبی کتابوں سے ہوگی۔ رہی بات یہ کہ ان کی مذہبی کتابیں تحریف سے محفوظ ہیں یا پھر محرف ہیں یہ ثابت کرنے کے لئے ان کتابوں کی تاریخی حیثیت سے واقف ہونا ضروری ہے۔اور دیگر مذاہب کی تعلیمات کا جائزہ لینے میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایک مذہب کی تعلیمات کو درست ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ دوسرے مذاہب کی تعلیمات کو کلیۃً غلط ثابت کیا جائے بلکہ حق،حق ہوتا ہے خواہ کسی بھی مذہب میں ہو،لہذا جب حق سامنے آجائے تو دل سے اس کا اعتراف کرنا چاہیے اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا ہے بلکہ تعصب کی بنیاد پر کسی دوسرے مذہب میں پائے جانے والے حق کا انکار کرتا ہے تو وہ دراصل ظالم ہے اور حق کا ہی منکر ہے۔لہذا جب حق سامنے آجائے تو اسے بلااتکلف سراہے اور اگر کوئی خامی نظر آئے تو دلیل و برہان کے ذریعہ اس کا رد کرے تاکہ حق تک رسائی ممکن ہو۔

مطالعہ ادیان میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہمارے تعلقات دیگر ادیان و مذاہب والوں سے استوار ہوں اور ہم ایک دوسرے سے قریب ہوں،ورنہ بہت سی غلط فہمیاں فاصلوں اور دوریوں کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں۔اگر ہم سب سے میل جول رکھیں گے تو حقیقت تک رسائی ممکن ہوگی اور مطالعہ ادیان سود مند ہوگا۔

اخیر میں ایک مرتبہ پھر اس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مطالعہ ادیان میں اگر اس کے اصول و ضوابط کا خیال نہیں رکھاگیا تو یہ مطالعہ اپنی افادیت کھو دے گا۔لہذا ہمیں چاہیے کہ اس کے تمام اصولوں کے پابند ہو کر اپنے علمی سفر کا آغاز کریں۔ویسے تو مطالعہ ادیان کے بہت سے اصول ہیں مگر بحیثیت اصل چند بنیادی اصول درج ذیل ہیں:

(۱)تعصب یا مرعوبیت سے بالا تر ہو کر غیر جانبدار انہ انداز میں مطالعہ و تحقیق کرنا۔

(۲)غیرجانبدارانہ اندازمیں جو حقائق سامنے آئیں ان کی تعبیر کرتے وقت اپنے مزعومہ تصورات اور خواہشات سے بالا تر رہنا۔

(۳)کسی بھی مذہب کی خوبیوں اور خامیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنا۔

(۴)اختلافات کو دلائل سے رد کرنااور کسی بھی پیشگی فیصلے سے گریز کرنا۔

(۵)ادیان کے مطالعہ کے لئے مذہب کی تاریخ،نفسیات،فلسفہ اور ان کی زبان و ادب سے واقف ہونا۔

(۶)کسی مذہب کے متعصب مخالفین اور مخلص متبعین دونوں کی تصنیفات سے گریز کرنا۔کیونکہ اس سے صحیح نتیجہ تک پہونچنے میں دشواری ہوتی ہے۔

ہم اپنے رب سے دعا گو ہیں کہ وہ حق کی تلاش وجستجو اور اس کی تحقیق میں ہماری مددفرماے اور ہمارے لئے حق کے راستے کھول دے۔آمین۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button