Uncategorized

من الظلمات إلى النور-اندھیرے روشنی کی طرف

 

حمساء عفاف صدیقی

بنت عبد القوی صدیقی
جی آئی او اورنگ آباد

کفر و شرک اور بد اعمالیوں کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں کو چیر کر اجالا پھیلانے والی صدات
من الظلمات النور ہے
ہم جانتے ہے کہ آج انسانی سماج کے باطل نظریات اور باطل نظامِ حیات کے تحت عذاب اور گمراہی میں مبتلا ہے۔
جدید تمدن کی چکاچوند
مغربی تہذیب کے پرفریب مظاہر اور جھوٹے مناظر
فیشن پرستی اور عریانیت اخلاقی بحران نے نوجوانوں کو بے راہ رو بنا دیا ہے ۔
خواتین بچوں کا استحصال ،بندھوا مزدور اور کسان سب ظلم کی چکی میں پسے جا رہے ہیں،
لوٹ کھسوٹ فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
رشوت بے ایمانی اور ظلم و زیادتی عام ہیں اور انسانی سماج سے عدل و انصاف ختم ہوتا جارہا ہے اور خود کشیاں بڑھتی جا رہی ہے، انسانیت تھک چکی ہے اور شقاوت اور بدبختی کا شکار ہے اور یہ بھی واقع ہے کہ
فساد و زوال اعصابی و نفسیاتی امراض
ذہنی و جنسی بے راہ روی اور اس کے سارے آثار نئی تہذیب کے جسم میں پیوست ہو چکے ہیں
غرض یہ کہ تری و خشکی میں فساد برپا ہے اور ساری دنیا ظلمت کدہ بنی ہوئی ہے ان سب کے باوجود اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا اسی پس منظر میں جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر کی جانب سے ریاستی سطح کی ایک دعوتی مہم بعنوان

” من الظلمات إلى النور”

اندھیروں سے اجالوں کی طرف
مہم منائی جارہی ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت ملک میں پھیلے ہوئے اندھیروں کو مٹانا مایوسی کی تاریکیوں کو دور کرنا اور انسانیت کے روشن مستقبل کے لئے نورِ حقیقی سے روشناس کرانا۔
بحثیت داعی امت
( امتِ وسط) ہماری اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے ،ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا میں عدل و انصاف اور امن و امان کی بر قراری کے ساتھ ساتھ آخرت کی کامیابی اور نجات کے لئے نسخہ کیمیا رکھنے والی اس امت کے لئے فکر مند ہونا زیادہ ضروری ہے اسی لیے جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر نے
( ٢٢/ جنوری تا ٣١ جنوری ٢٠٢١) کا یہ عشرہ "دعوتی مہم” کے بطور منانا طۓ کیا ہے
اس کے لیے ضروری ہے کہ سماج کے ہر طبقہ کو اس مہم میں شامل کیا جائے ۔
جماعت اسلامی ہند کی اس مہم
"من الظلمات إلى النور”
کا مقصد امتِ مسلمہ کو اس کے منصب کی یاد دہانی کروانا ہے کہ ہر شخص دعوت کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرے اسی لیے کہ اسلام آج ایک انقلابی جدوجہد میں مصروف ہے اور اسلام کا یہ حق ہے کہ اس کے ماننے والوں اور اس کی راہ پر چلنے والے افراد اپنی فکری مادّی اور معنوی توانائیوں. ۔صلاحیتوں اور قوتوں سے کام لے کر اسلام کی دعوت اور اس کی حمایت کرے ہم لوگوں کو اس حقیقت سے واقف کروانا چاہتے ہیں کہ اسلام ہی غلامی کے مقابلے میں آزادی کی مدُھر پکار ہے۔
اونچ نیچ ،بھید بھاؤ کے ماحول میں مساوات اور برابری کی محبت بھری آواز ہے
اور نفرتوں اور سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کے مقابلے میں اجتماعی انصاف کا دلنواز پیغام ہے۔
اور اۓ کاش کہ لوگوں کو اس حقیقت کا شعور ہوجائے کہ اسلام کی یہ یہ خوبیاں اور خصوصیات ہیں تو انسانی سماج باطل نظریات اور پُر فریب و گمراہ کن نعروں کی منڈی نہیں بنے گا۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button