صحت

موبائیل کا استعمال اور بچوں کی تربیت 

حنا خان

(آکولہ)

عالیہ صوفے پر براجمان اسمارٹ فون میں مشغول تھی، تبھی اس کا 8 سالہ بیٹا خوشی سے دوڑتا ہوا آیا،
اس کے ہاتھ میں اسکول کا رپورٹ کارڈ تھا اس نے اپنی والدہ کے پاس پہنچ کر ایک سانس میں کہنا شروع کر دیا امی دیکھیے!! میں اسکول میں فرسٹ آیا ہوں اور ٹیچرجی نے مجھے انعام میں یہ پین دی ہے!! اس نے اپنی والدہ کو انعام میں ملی ہوئی پین دکھائی اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا, عالیہ نے بھی مختصر خوشی کا اظہار کیا اس کےرپورٹ کارڈ اور انعام میں ملی ہوئی پین  پرسرسری نظریں دوڑائیں اوراسے چینج کرنے کا حکم دے کر دوبارہ اسمارٹ فون میں مشغول ہو گئی۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مندرجہ بالا منظر تقریباً کئی گھروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہے؟؟ ظاہر ہے سب اسمارٹ فون کو ہی ذمہ دار ٹھہرائے گے۔ دراصل اس کی وجہ اسمارٹ فون نہیں، خود انسان ہی ہے۔ اسمارٹ فون یہ ایک مشین جسے ہم جیسے چاہیں،جب چاہیں، استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن انسان اشرف المخلوقات ہے اسے اللہ نے تمام جانوروں سے منفرد بنا کر عقل سلیم سے نوازا ہے تمام قسم کی چیزوں کو اس کے تابع کردیا کہ وہ اسے اپنے مطابق استعمال کریں۔ جب انسان نے کسی چیز کااستعمال حد میں رہ کر کیا ہے تواس سے اسے فائدے ہی ملے ہیں لیکن جب کسی چیز کے استعمال میں حد اعتدال سے بڑھ گیا تو اس نے اپنا نقصان ہی کروایا ہے۔
دنیا بڑی تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے موجودہ وقت کی اہم ایجاد اسمارٹ فون ہے جس نے زندگی کو سہل بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے اس کی مدد سے آپ کسی بھی شعبہ میں اپنی کارکردگی بہتر کر سکتے ہیں مثلاً
تعلیمی میدان، بزنیس، کھیل کود، کوکنگ، معاشی مسائل، کاشتکاری، ڈیزائنگ، غرض کوئی بھی شعبہ اس کی مفید کاریوں سے مثتسنئ نہیں ہے اور ایسا کوئی شخص نہیں جو اس کا استعمال نہ کرتا ہو۔ GSM کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 5.20 بیلین لوگ موبائیل فون استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس سے فائدے والی چیزیں اخذ کرتے ہیں اور اسے حدود میں رہ کر استعمال کرتے ہیں اور کئی لوگوں نے اس کے استعمال کو غلط کاموں میں لگایا ہے، وقت کو بھی بہت برباد کیا ہے۔
اب بات۔۔۔۔۔بچوں کی تربیت کے متعلق، بچے یہ مٹی کا وہ گولا ہے جسے جیسا جس شکل میں ڈھالو ڈھل جاتے ہیں، وہ کورا کاغذ ہوتے ہیں جس پر جو لکھا جائے وہ پرمننٹ مارکر کی طرح لکھا رہ جاتا ہے اور بچوں کی تربیت جیسی اتنی بڑی ذمہ داری اللہ نے والدین کے سپرد کی ہے اور بچوں کی تربیت یہ واقعی دنیا کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے جو اتنی آسان نہیں اس کے لیے والدین کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر دیکھا جائے تو موبائیل فون بھی بچوں کی تربیت میں اہم رول ادا کرسکتا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے استعمال کی تکنیک اور وقت والدین کو پتہ ہو۔اگر وہ وقت ضرورت اسمارٹ فون کو صحیح استعمال کرے تو یقیناً یہ بچوں کی تربیت کے حوالہ سے بھی سود مند ثابت ہوگا۔
مثلاً
آجکل واہٹس ایپ پر والدہ کے لئے ایسے گروپ بنائے گئے ہیں جو انھیں 2 سال سے ٹین ایج تک کے بچوں کے لیے بہتر رہنمائی فراہم کرتے ہیں، بچوں کے کھانے سے لے کر ان کے رویہ تک اور اس رویہ سے کیسا نپٹنا ؟ یہاں تک کی معلومات دی جاتی ہے اس کے علاوہ کئی تعلیمی ویڈیوز یو ٹیوب پر اپلوڈ ہیں۔ جسے ایک مقررہ حد میں بچوں کو دکھایا جا سکتا ہے اس سے ان کی بولنے اور سننے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے اس کے علاوہ اخلاقی قدروں پر بھی چھوٹی چھوٹی کہانیاں موجود ہیں جو بچوں میں بچپن سے اخلاقی قدروں کو پروان چڑھانے میں مدد دیتی ہے_لیکن اس کے غلط طریقہ اور وقت پر استعمال کرنے سے بچوں اور والدین سے تعلقات پر اثرات پڑتے ہیں، مثلاً
*بچوں کے سامنے موبائیل فون لے کر بیٹھ جانا اور ان پر موبائیل فون کو فوقیت دینا انھیں احساس کمتری میں مبتلا کرتا ہے۔
*بچوں کی شرارتوں ان کے ستانے سے بچنے کے لیے ماؤں کا گھنٹوں ان کے ہاتھ میں موبائیل کو کھلونوں کی طرح تھما دینے سے انھیں کم عمر سے ہی موبائیل کی لت لگ جاتی ہے۔
*والدین کو موبائیل فون میں منہمک دیکھ بچے والدین سے دور ہوجاتے ہیں وہ اپنی خوشی اور غم کو والدین سے شئیر نہیں کرپاتے اور جذبات کو شئیر کرنے کے لیے غلط لوگوں پر بھروسہ کرلیتے ہیں جو انھیں بے راہ روی کی طرف راغب کرتے ہیں.
*والدین کا بچوں کو کم عمری میں موبائیل فون سے متعارف کروادینا ان کی صحت کے ساتھ ان کی اخلاقی نشوونما کے لیے بھی مضر ثابت ہوتا ہے۔
*بچے اور والدین اگر ہمہ وقت موبائیل فون میں مصروف ہو تو وہ اخلاقی اقدار نہیں سیکھ پاتے۔
مندرجہ بالا نقصانات سے بچنے کے لیے آپ مندرجہ ذیل طریقے اپنا سکتے ہیں.
*بچوں کو بچپن سے موبائیل فون سےمتعارف ہی نہ ہونے دیں، ان کے سامنے اس کا استعمال ہرگز نہ کرے۔
*جب بچے اس عمر کو پہنچے کہ ان کی بولنے اور سننے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہو تو انھیں ایک حد میں مختصر وقت کے لیے نظمیں وغیرہ سنائی جائے۔
*ان کے ساتھ کھیلا جائے انھیں وقت دیا جائے۔
*ان کے ہر اچھے کام پر مکمل توجہ کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور غلطی پر معمولی سرزنش کی جائے۔
*انھیں بوقت ضرورت اخلاقی اقدار سکھائے جائے۔
*جب بھی  آپ موبائیل فون کو استعمال کرے کوشش کیجئے کہ اس وقت آپ کے بچے  آپ کے آس پاس نہ ہو۔
*اور سب سے بڑی غلطی جو آجکل والدین کر جاتے ہیں وہ یہ کہ بہت کم عمری سے بچوں کے ہاتھ میں ان کا ذاتی موبائیل فون تھما دیتے ہیں تو ایسا ہرگز نہ کریں۔
*موبائیل فون، جسمانی ورزش پڑھائی وغیرہ اس طرح کے دوسرے کاموں کے لیے  وقت مختص کرلے۔
*بچوں سے اپنا تعلق ایک دوست جیسا بنائے تاکہ وہ  آپ سے جذباتی طور سے جڑے رہے۔
*بچوں کے صحبت کی جانچ کرے-
*بچوں کو نہ  مکمل آزادی دے دے اور نہ ہی مکمل طور سے قید کرلے بلکہ انھیں ان کا بچپن جینے دیں۔
یاد رکھیے بچوں کو پالنے کا  کام ایک آیا بھی کرتی ہے لیکن  آپ کو صرف آپ کے بچوں کی کی پرورش نہیں کرنی بلکہ اس کی بہتر طور سے تربیت بھی کرنی ہے،  اور اچھی تربیت کا پہلا اصول یہی ہے کہ آپ جو تبدیلی اپنے بچوں میں  دیکھنا چاہتے ہیں اسے سب سے پہلے اپنے اندر پیدا کیجئےکیونکہ بچے وہ نہیں سیکھتے جو آپ بولتے ہے بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین اور بڑوں کو کرتا ہوا دیکھتے ہیں.
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button