Sliderمسلم دنیا

موجودہ پر آشوب حالات کا مقابلہ مسلمان کیسے کریں؟

کل کو سنوارنے کیلئے اپنی نسلوں کی بہتری کیلئے والدین کو اپنی اپنی رنجشوں کا خاتمہ کرکے اپنی اولاد بے جاخواہشات کو روک کر ان کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی۔

بشری صدیقی

 (پرنسپل صفیہ اسکول، رائچور)

اللہ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس قوم کو یاخیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

صلاح الدین ایوبی ؒ کا قول ہے:

اگر کسی قوم کو ختم کرنا ہو تو اس قوم کے نوجوانوں میں فحاشی کو عام کردو‘ وہ قوم خود بخود ختم ہوجائے گی۔

مسلمانوں کی 1300سال پہلے کی زندگی کو جب تاریخ کے اوراق میں دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم عزت و عظمت‘ شان وشوکت اور دبدبہ وحشمت کے تنہا مالک اور اجارہ دار تھے‘تمام اقوام کے امام تھے۔ لیکن جب ان اوراق سے نظر ہٹا کر موجودہ حالات کا مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہم انتہائی پسماندگی‘ناخواندگی‘لاپرواہی اور بے حسی میں نظر آتے ہیں۔ نہ زور قوت ہے‘ نہ زور دولت دولت ہے‘ نہ شان وشوکت ہے نہ باہمی اخوت ومحبت‘ نہ عادات اچھے ہیں ‘نہ اخلاق و کردار۔ ہربرائی ہم میں موجود ہے۔ اور ہر بھلائی سے ہم کوسوں دور ہیں۔ اغیار ہماری اس زبوں حالی پر خوش ہیں۔ کیونکہ ہمارے دین کا ہماری شریعت کا علم ہم خو دجاننا نہیں چاہتے۔ اگر ہم شریعت کے اصولوں کے بار ے میں علم رکھتے تو ہمارے مذہبی معاملات ہماری ذاتیات میں دخل دینے کی ہمت اغیار کبھی نہیں کرتے۔ دوسرے اقوام کو ہم نے ہی موقع دیا ہے۔ تین طلاق‘گوماتا اور فجر کی اذان جیسے مسائل کو لے کر ہماری نوجوان نسل کو بہکانے کا ہم نے موقع دیا ہے ورنہ ہمارے پاس مکمل ضابطہ حیات قرآن وحدیث کے طور پر موجود ہے۔

راہنمایانِ قوم نے آج سے بہت پہلے ہماری اس حالت زار کا اندازہ لگایا۔ اورجب مفکر‘ فلسفی‘کسی شئے‘ نظام یا کسی شخص کی خامیوں کا تذکرہ کرتے ہیں توان کا مقصد ان خامیوں کو دور کرنا یا  اصلاح کرنا ہوتا ہے تاکہ قوم کی تصحیح ہو‘ ترقی ہو۔

علم کی اہمیت اور اس کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ہمارے مذہب کی بنیادی تعلیم‘ اقراء (علم) ہے۔ اور امت محمدیہﷺ کو علم کے مقابلے میں دوسری اقوام سے زیادہ فکر مند رینا چاہئے۔

آج ہمارے نوجوانوں کی علمی پسماندگی کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم پھر واپس جہالت کے اس اندھیرے میں ڈوب رہے ہیں جہاں سے ہمارا دین ہمیں نکال لایا تھا۔ وہی جاہلیت کا دور آج نسلوں میں نظر آرہا ہے:

پلٹ کے آیا ہے زمانہ اسی قرون اولی کی طرف

جہاں سے تو نے اپنے سفر کی شروعات کی تھی

امت محمدیہﷺ نے دنیا کو نہ صرف نظم وضبط سکھایا بلکہ علم کی اہمیت سے روشناس کروایا۔ یہ بات آج ساری قوموں کو سمجھ آگئی کہ علم کی دولت سے مالا مال ہوکر ہی دنیا پر حکومت کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہم اپنی نسلوں کو تعلیم کے نام پر ریڈی میڈ کا عادی بنارہے ہیں اور انہیں وجوہات کی بدولت علم سے دور ہورہے ہیں۔ اور اگر تعلیم حاصل بھی کررہے ہیں تو خالص دنیا کوکمانے ہے اور اپنے مقصدحیات سے کوسوں دور ہیں۔

ایک وقت تھا علم سفر کرنے سے حاصل ہوتا تھا‘ علم بیٹھکوں میں بنتا تھا۔ علم بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک میں تھا۔ علم سردیوں کی دھوپ اور نیم کے درخت کی چھاؤں میں تھا۔ علم پریشانی و پشیمانی میں تھا۔ علم بارش کی بوندوں اور مٹی کی خوشبو میں تھا۔ علم والوں کے لئے ان کی زندگی کے ہر گزرتے لمحے میں علم ہی تھا۔ ہرہرقدم سے علم سیکھتے جاتے تھے۔ محدسے لے کر لحد تک تمام سفر علم کے حصول کے لئے کیا جاتا تھا۔

لیکن آج علم ہماری نسلوں کے لئے واٹس اپ‘ ٹک ٹاک‘ فیس بک‘پارٹی‘ برتھ ڈیس‘ حقہ‘ سگریٹ‘قزغ (بال کترنے کا انداز) فلمیں ‘ گوسپس کے علاوہ ہماری نسلوں میں تعلیم کا کوئی تصور ہی باقی نہیں ہے۔ اگر آج ہم مومن اور کافر کو تعلیم کے سمندر میں اتاریں تو صرف وہی بچے گا جسے تیرنا آتا ہے۔ چنانچہ جاہل مسلما ن ڈوب جائے گا اور علم رکھنے والاکافرجیت جائے گا۔ منشیات کی چکاچوند نے عصر حاضر کے نوجوانوں کے حواس چھین لئے ہیں۔ اس لت سے اگر چھٹکارا حاصل نہ کیا گیاتو وہ دن دور نہیں جب ہر گلی‘ ہر چوراہوں میں سیدھے کھڑے لوگ کم اور کٹوں پر بیٹھے لوگ زیادہ نظر آئیں گے۔ کل کو سنوارنے کیلئے اپنی نسلوں کی بہتری کیلئے والدین کو اپنی اپنی رنجشوں کا خاتمہ کرکے اپنی اولاد بے جاخواہشات کو روک کر ان کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی۔ اپنی نسلوں کے اندر یہ سوچ پیدا کرنی ہوگی کہ مسلمانوں کا مقصد حیات کیا ہے؟اور اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم اکیلے کچھ نہیں ‘ہماری پہچان ہماری قوم ہے۔ اپنی نسلوں سے محنت و مشقت کروانی ہوگی۔ کھیل کا میدان ہویاسیاسی میدان‘مساجد کے امام یا علمی معرکے ہو یا ٹیکنالوجی‘ہماری نسلوں کی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ قوم کی اس اور طاقت نوجوان ہی ہیں۔ سرحدوں کی حفاظت کا مسئلہ ہو یا ملک کے داخلی حالات‘اگر نوجوان ان پر معلومات رکھتے ہوں تو مسائل بنیاد سے ہی قابل حل لگنے لگتے ہیں۔ اگر ہم نوجوانوں کی دلچسپی کا مرکزقومی مسائل کو بنادیا جائے تو قومی وسائل کو استعمال کرکے باآسانی چھوٹے بڑے معاملات سے نمٹا جاسکتا ہے۔

زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے

آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے

ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ کوئی ہمارے اختیار میں نہیں مگر ہم تو اپنے اختیار میں ہیں۔ لہذا ہمیں وہ راہ تلاش کرنی ہوگی جس سے نوجوانوں کو اندھیرے سے اجالے کی طرف لاسکیں۔ یعنی نوجوانوں میں ایسا کردار وضع کرنا ہوگا جس کی آنے والی نسل پیروی کرسکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان جس کام کا بیڑہ اٹھاتے ہیں اس کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔

منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل

خیرات میں یہ چاند ستارے نہیں ملتے

Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button