Sliderجہان کتبشخصیات

مولانا آزادؒ کی تفسیری خصوصیات: ‘ترجمان القرآن’ کے حوالے سے

ایم-ایچ- انصاری

        ‘ترجمان القرآن’ مولانا آزادؒ کی تفسیرہے،جو پہلی بار 1931میں منظر عام پر آئی۔چونکہ مولانا سیاسی میدان میں منہمک تھے اور بار بار گرفتار ہوتے رہے اس لئے مکمل قرآن کی تفسیر نہیں کرسکے تھے،لہذا اس میں سورہ بنی اسرائیل تک کی ہی تفسیرہے۔اس میں زیادہ تر ترجمہ اور حواشی ہیں،حواشی اختصار کے باوجود جامع ہیں البتہ سورہ  فاتحہ کی تفسیر کا حصہ بہت ہی مبسوط اور مفصل ہے۔

        چونکہ مولانا ایک صاحب قلم تھے اس بنا پر ترجمان القرآن ان کے انشاء کا بھر پور مظہر ہے جسے ادبی تخلیق کا درجہ دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے،لیکن ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو اپنے عہد میں ایک زندہ کتاب کے طورپر پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے لئے واحد راہنما ہوسکتی ہے۔اللہ نے قرآن فہمی کے باب میں انہیں خاص ملکہ عطا کیا تھا،وہ زمانے کے تمام مسائل کا واحد حل قرآن کو سمجھتے تھے     اور انسانی معاشرے کو اس کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے۔

        ان کے ترجمہ اور تفسیر کا خاص وصف یہ ہے کہ وہ اپنے اندازِ بیاں میں قرآن کے اسلوب کا پورا خیال رکھتے ہیں، محض الفاظ کے لغوی ترجمہ پر اکتفا  نہ کرکے عربی زبان و ادب اور مقصدِ قرآن کو پیش کرتے ہیں،جس سے قرآن کا شکوہ اور الٰہی کلام کی شان و شوکت برقرار رہتی ہے۔ترجمان القرآن کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں ہر سورت کے ساتھ مطالب کی ایک فہرست بھی دی گئی ہے جس سے اس کے مضامین کا اجمالی تعارف ہوجاتا ہے۔ ان کے علاوہ مولانا کی چند اہم تفسیری خصوصیات درج ذیل ہیں:

٭ سورہ فاتحہ کی تفسیر:مولانا نے سورہ  فاتحہ کا نہایت مفصل اور مطول تفسیر کی ہے جو تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔پھر اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر کرتے ہوئے ”ہدایت“ کے چار درجات:ہدایت وجدانی،ہدایت حواسی،ہدایت عقلی اور وحی الٰہی سے مستنبط ہدایت کا بیان کرنا اور وحی الٰہی کی فوقیت کو مضبوط دلائل سے ثابت کرنا خاصا اہم ہے۔

٭جہاد:مولانا جہاد کی دو قسمیں کرتے ہیں:اقدامی جہاد اور دفاعی جہاد۔ان کے نزدیک اقدامی جہاد فرض کفایہ ہے اور دفاعی جہاد فرض عین ہے۔

٭خلافت میں قرشیت کی شرط:تمام علماء امت کا موقف ہے کہ خلافت میں قرشیت لازم ہے،لیکن مولانا اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

٭ذو القرنین اور یاجوج و ماجوج کی تاریخی تحقیق: مولانا نے جدید جغرافیائی تحقیق اور تاریخی حوالوں سے ذوالقرنین کو فارس کا شہنشاہ ”سائرس“ کہا ہے اور یاجوج و ماجوج کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ در اصل وہ قدیم کاکشین منگول قبائل ہیں۔

٭ناسخ و منسوخ:ناسخ و منسوخ کے سلسلے میں دور جدید کے مستشرقین نے بہت سی تنقیدیں کیں لیکن مولانا نے اس مسئلے کو اتنی خوبی سے صاف کیا ہے کہ کسی ابہام و اشکال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button