Sliderشخصیات

مولانا سید محمد علی مونگیریؒ: فکر اسلامی کے شارح و ترجمان

مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ نے علمی و عملی طور پر فکر اسلامی کی بالادستی کی مساعی زندگی بھر فرمائی۔

ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علیگڑھ)

ناظم و بانی اول ندوۃ العلماء مولانا سید محمد علی مونگیریؒ (۱۸۴۶۔۱۹۴۳)  علمی و فکری، اصلاحی و تعمیری اور اجتہادی و تخلیقی رجحانات کے امین و ترجمان تھے۔علم وفکر میں نافعیت اور تعقل پروری، مدرسی نصاب و نظام میں عصری حسیت، معیار بندی، توازن اور جدت طرازی، افکار میں مقصدیت، اسلامی تہذیب و ثقافت کی حمایت و محافظت، معروضیت و علمیت اور جامعیت کی تلاش و جستجو وہ عناصر اور خصوصیات ہیں جن کی کثرت و رعایت انہیں برصغیر کے نمایاں شارحین فکر اسلامی کی صف میں لا کھڑا کرتی  ہیں۔ ۱

سطور ذیل میں ہندوستانی مسلم اقلیت کے عروج و ترقی میں مولانا محمد علی مونگیریؒ کے کردار کا مطالعہ کیا گیا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تعلیم و تربیت،دعوت وارشاد اور ابطال باطل کے میدانوں میں انہوں نے کس جواں مردی، حکمت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا تھا اور ان کی خصوصیات کن اسباب کی بنیاد پر فکر اسلامی کی شارح وترجمان ہیں :

 فکراسلامی کو محور بناکر مسلم اقلیت کی ترقی کا نسخہ سب سے پہلے مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ(و:۱۶۲۴) نے پیش کیا تھا ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ(و:۱۷۶۲)، شاہ اسماعیل شہیدؒ(و:۱۸۳۱) و سید احمد شہیدؒ(و:۱۸۳۱)، سرسید احمد خانؒ(و:۱۸۹۸)، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ(و:۱۸۳۲)، علامہ محمد اقبالؒ (و:۱۹۳۸)، سید امیر علیؒ(و:۱۹۲۸)،علامہ حمیدالدین فراہیؒ(و:۱۹۳۰)،ابوالکلام آزادؒ(و:۱۹۵۸)، مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ (و:۱۹۷۹)،مولانا سیدابولحسن علی ندویؒ(و:۱۹۹۹) وغیرہ نے اپنی تحریروں میں عروج وزوال کے مختلف نسخے تجویز کیے اور امت اسلامی کی مادی وروحانی بیماریوں کے ازالہ کے لئے مختلف نسخے تجویزکئے۔ ۲

 امام سید محمد علی مونگیریؒ کی تعلیمی واصلاحی کوششیں فکر اسلامی کی اساسیات اور عناصر پر استوار نظر آتی ہیں جن کی بنیاد پر راقم انہیں فکر اسلامی کا شارح اورترجمان قرار دیتا ہے ہے اور ان کی مفکرانہ شان کو سلام پیش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ درس و تدریس‘ تعلیم و تعلم اور تحقیق و تصنیف وہ ہتھیار ہیں جوپوری امت کے عرو ج وترقی کی ضمانت ہیں مولانا سید محمد علی مونگیریؒ نے سرسید احمد خانؒ  کے مدرسۃ العلوم علی گڑھ اور مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒکے دارالعلوم دیوبند کا تجزیاتی و ناقدانہ جائزہ لیا اور اپنی عبقری، روحانی اور اجتہادی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے’’ قدیم صالح اور جدید نافع‘‘  کاآوازہ بلند کیا۔انکی آواز ہندوستان کی مسلم اقلیت کے  لئے تعلیم کے فروغ میں سنگ میل ثابت  ہوئی۔معاصر علما و فضلا، روساء اور شیوخ سب کی انہیں تائید حاصل ہوئی۳۔ اس میں شک نہیں کہ ہمیشہ کی طرح ہندوستانی امت اسلامی کے اس باوقار مشن کے خلاف بھی حاسدین کا ایک مخصوص ٹولہ سرگرم عمل ہو گیا۔ مولا نے انہیں صبر اور نیک نیتی کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی اور افسوس کا اظہاربھی کیا۔۴

مولانا محمد علی مونگیری ؒاجتہاد و بصیرت کے اس مقام بلند تک کس طرح پہنچے؟ ان کی شخصیت کی مقناطیسیت کا راز کیا تھا؟ اور حالات کی واقعیت کا ادراک انہوں نے کس طرح کیا؟یہ اور اس طرح متعدد سوالات کو بھی اس مقالے میں حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 سید محمد الحسنی نے تین اسباب کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعے ان سوالات  کے جوابات باآسانی تلاش کیے جا سکتے۔کہتے ہیں کہ پہلا سبب یہ تھا کہ مولانا محمد علی مونگیری مسلمانوں کے درمیان جاری اختلافات ونزاعات (سرد جنگ) سے ہمیشہ کنارہ کش رہے۔ دوسری طرف ان کے اساتذہ،خاندان اور رفقاء کو بھی نہ اختلافات میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ وہ غلو کا شکار ہوئے۔ان کے استاذ مفتی عنایت احمد کاکورویؒ(و:۱۸۶۳)اور مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ (و: ۱۹۱۶)کو افادہ عام اور علمی  مصروفیت سے الگ ہوکر کبھی غیر ضروری اور لایعنی دلچسپیوں میں داخل ہونے کی فرصت ہی نہیں ملی اور مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ(و: ۱۸۹۵)کی ارادت و بیعت نے غیر ضروری مسائل میں الجھنے کی انہیں اجازت ہی نہیں دی۔ تیسری طرف مختلف المزاج علماء سے رابطہ کے نتیجے میں علماء کے ذہنی پس منظر، ان کے اشکالات، سوالات اور اضطرابات سے بخوبی واقف ہوگئے۔

 دوسرا سبب یہ تھا کے برصغیر میں احقاق حق( توحید، رسالت، آخرت کااثبات) اور ابطال باطل( عیسائیت، قادیانیت اور شیعیت کارد)کے میدان میں مولانا محمد علی مونگیری نے نمایاں کردار ادا کیا۔ مشنریوں کا مقابلہ کرنے کے نتیجہ میں جدید طریقہ کار اور جدید  ذہن و مزاج نیزبدلتی دنیا کے مسائل سے واقفیت پیدا ہوئی۔جن کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا مشینریوں کا خاص حربہ تھا اس  کا علم ہوا اور ان کمزوریوں کو دور کرنے کی طرف توجہ ہوئی۔ مشنریوں کے باہمی اتفاق, نرم رویہ,جذبہ اتحاد اور دلآویز طرزعمل کا اندازہ ہوا.اس کے مقابلہ میں علماء کے درشت رویہ اور باہمی کشمکش کا منظر بھی سامنے آیاا۔ رفتار زمانہ اور عصری مسائل سے مشنریوں کی واقفیت کے مقابلہ میں علماء کی علاحدگی پسندی، قدامت پرستی اور بے خبری ظاہر ہوئی اور انہیں یہ اندازہ ہوا کہ ہمارے نظام تعلیم میں ایک انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے اور جب تک یہ تبدیلی عمل میں نہیں آئے گی مدارس کی موجودہ فضا اور حالات کے رخ میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی۔

 تیسرا سبب یہ تھا کہ خوش قسمتی سے مولانا کو فضل الرحمن گنج مرادآبادیؒ جیسا وسیع و کشادہ ظرف شیخ ملا جو منطق اور فلسفہ کی موشگافیوں سے دور تھا، جو سرسید کے لیے بھی تعریفی کلمات کہتا تھا اور اہل تشیع کے ساتھ بھی حسن سلوک کوروا رکھتا تھا۔ چنانچہ ان سے تعلیمی اور تدریسی  استفادے کا کا اثر یہ ہوا کہ مولانا مونگیری نے ایک نئے نصاب درس اور طریقہ تعلیم کا مکمل خاکہ پیش کیا جو اس عہد کی سب سے بڑی ضرورت ثابت ہوا۔ اور دوسری طرف وہ ایک مرشد  روحانی اور مصلح و مر بی خلائق کی حیثیت میں دنیا کے سامنے آئے اور عقل وقلب کا ایک متوازن اور صحت مند اجتماع منظرعام پر پیش کیا۔ ان کی ذات نے باطنی کیفیات و حالات اور فکر و نظر کی بلندی کا ایک کامیاب نمونہ ہندوستان کی مسلم ثقافت کے حوالے کیا ۵۔مولانا  محمد الحسنی نے اس دور میں مولانا مونگیریؒ کی ضرورت کو ان الفاظ میں واضح کیا ہے:

’’اس عہد انقلاب کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جس میں نہ حلقہ مدارس کی طرح ہر جدید سے نفرت اور ہر قدیم سے محبت ہو اور نہ جدید طبقہ کی طرح وہ مغرب کی ذہنی غلامی میں مبتلا اور اندھی تقلید کا شکار ہو،نہ اس میں جزئیات اور غیر ضروری اشیاء پر بے جا اصرار ہو اور نہ دین کے بنیادی اور ضروری اجزا میں نرمی اور مداہنت۔ وہ ایک طرف زمانے کا نبض شناس، ملک کے سماجی اور عقلی تغیرات اورنئی نسل کی نفسیات سے بخوبی واقف ہو۔ دوسری طرف ایمان و یقین کا حامل و داعی ہو،معرفت الہی کا محرم اسرار اور رشد و ہدایت اور اصلاح و تربیت کا قافلہ سالار ہو، عقائد اور اصول کے معاملہ میں فولاد کی مانند سخت ہو اور اجتہادی مسائل اور فروعی اختلافات کے شعبہ میں ریشم کی طرح نرم۔ اس میں مفید خیالات و تجربات سے فائدہ اٹھانے کی پوری صلاحیت اور قابلیت موجود ہو اور قرآن وحدیث کی رہنمائی اور روشنی میں نیز اپنے اجتہاد  وبصیرت، ایمانی فراست، علم و مطالعہ اور فہم و تدبر سے کام لیتے ہوئے ان افکار و خیالات و تجربات میں حسب ضرورت ترمیم و اضافہ کر سکے اور ان کو اپنے اصولوں کے مطابق اور اپنے ماحول کے موافق بنا سکے۔یہ شخصیت انیسویں صدی کے اواخر میں مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کی صورت میں جلوہ گر ہوئی‘‘ ۶

۱۔درس نظامیہ کی اصلاح اور جدید  نصاب کا اعلان

برصغیر ہندوپاک میں تعلیمی سرگرمیوں کی تاریخ روشن اور تابناک  ہے۔ درس و تدریس، تعلم و تعلیم،تصنیف و تالیف اورتحقیق و تعبیر کے یہ رویے اپنے اندر عہداقبال اور دور زوال کی علمی، فنی، فکری اور اصلاحی کوششوں کی تاریخ رکھتے ہیں۔ عہد وسطی، نوآبادیاتی دور اور عصر حاضر میں مدارس اسلامیہ کی تاریخ کے مطالعہ سے یقین ہوتا ہے کہ مسلم سلاطین، صوفیاء کرام اور علماء عظام نے مدارس اور علوم اسلامیہ کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی اپنے اپنے دائروں میں کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

 یہ بات معروف ہے کہ خلجی اور تغلق سلاطین کا دور علم پروری اور علماء گری کے لیے جانا جاتا ہے لیکن عہد اکبری (۱۵۵۶۔ ۱۶۰۵ )میں ہندوستان کے پہلے نصاب ساز میر فتح اللہ شیرازیؒ (و:۱۵۸۸) نے ایران کی معقولات کو ہندوستان کے نصاب کا حصہ بنانے کی پہل کی۔ یہی میر فتح اللہ شیرازیؒ درس نظامی کے بانی ملا نظام الدین فرنگی محلیؒ (و؎:۱۷۴۸) کے استاذ الاساتذہ ہیں۔ حکیم عبدالحئی نے اپنے مضمون بعنوان: ہندوستان کا نصاب درس اور اس کے تغیرات میں میر فتح اللہ شیرازی کی نصابی کوششوں کا ذکر کیا ہے۔۷

درس نظامیہ جس میں علوم آلیہ (صرف، نحو اور منطق )پر کتابوں کا طومار تھا، ندوۃ العلماء میں پہلی بار غورو فکراورتحلیل و تجزیہ کے نتیجے میں اصلاح و تنویر سے شادکام ہوا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مولانا محمد اسلم جیراجپوری (و: ۱۸۸۲)نے درس نظامیہ کو ایک مقدس غلاف سے تعبیر کیا جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد (و:۱۹۵۸)نے مسلمانوں کی ذہنی ترقی کا مزا حم اس نصاب کو قرار دیا تیسری طرف شیخ محمداکرام (و:۱۹۷۳) نے اس کو دینی نہیں بلکہ دنیوی  نظام تعلیم قرار دیا اور شبلی نعمانی (و:۱۹۱۴)نے آٹھ نکات میں اس کی خامیاں گنائیں  نیز اس کا متبادل فراہم کیا جسے اپنے زمانہ معتمدی،ندوۃالعلماء (۱۹۰۵۔ ۱۹۱۳) میں نافذ بھی کیا۔۸

 مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد علی مونگیریؒ کی تعلیمی تحریک کی بابت کہتے ہیں :

’’جس قلیل اثاثہ پر ایک ایسی عالمگیر اور انقلاب انگیز تعلیمی تحریک کی بنیاد رکھی جس کے آگے مصر و ترکی کے مصلحین بھی اس دور میں نا جا سکے وہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ ۔۔انیسویں صدی کے آخر میں انہوں نے ندوۃ العلماء کا جو وسیع ورفیع تخیل  پیش کیا، جس طرح مقاصد و وسائل کی تنقیح کی، جس طرح جدید نصاب میں علوم آلیہ کے غلبہ اور کتب معقولات کی بیجا کثرت پر جرائتمندانہ تنقید کی، جس طرح عربیت میں کمال اور علوم اسلامیہ میں مہا رت پر خصوصی زور دیا، جس طرح فقہ کی تدوین جدید اور جدید مسائل اور ضروریات پر نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت بیان کی، جس طرح مفید علوم اور انگریزی زبان اور تقریر و تحریر کی مشق کی برملا ترغیب دی، بیگانگی و بدگمانی کے دور میں مدارس اسلامیہ کے وفاق کی دعوت دی، جس طرح انہوں نے مدارس اور انجمنوں کے سالانہ جلسوں میں ملت اسلامیہ کی فکرمندی کے لیے جدید تعلیم یافتہ اصحا ب کو دعوت دی اور انکو علماء و مشائخ کے پہلو میں بٹھایا اور ان کی طرف اعتمادو تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ جس طرح انہوں نے علماء و فضلاء مدارس کو حالات زمانہ سے باخبری اور عملی زندگی میں شرکت اور خیرالقرون کی طرح مسلمانوں کی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالنے کی دعوت دی، جس طرح انہوں نے تمدن، معیشت اور دین کی خدمت کے لیے اسلام کی عطا کی ہوئی آزادی  اور فقہ کی دی ہوئی گنجائش سے فائدہ اٹھانے کو جائز قرار دیا بلکہ ضروری قرار دیا۔ یہ اور ایسے بہت سے اولیات و امتیازات ہیں جن میں اگرچہ آج کوئی ندرت و جدت نظر نہ آتی ہو مگر ان میں بہت سی چیزیں اپنے زمانہ سے آگے کی تھیں اور ان کی جرأت وہی کر سکتا تھا جس کا اخلاص، جس کا فہم دین اور جس کا ورع اور تقوی ہر شبہ سے بالاتر ہو اور جس کو خود رسوخ فی العلم کی دولت اور اپنے فہم وبصیرت پر اعتماد کی قوت حاصل ہو‘‘۹۔

ترمیم و تجدید نصاب اور مولانا سید محمد علی مونگیری کی کوششیں

ندوہ کے دوسرے اجلاس لکھنؤ منعقدہ اپریل ۱۸۹۵میں مولانا مونگیریؒ نے کہا کہ اصلاح نصاب کے متعلق ہمارے دوست مولانا محمد حسین الہ آبادی اور مولوی عبدالعلی مدراسی نے بہت تفصیل کے ساتھ رائے دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو نصاب ۲۰۰ برسوں سے معمول بہ ہو اس کی اصلاح وترمیم ایک برس کا کام نہیں۔ تاہم اس امر کے بیان کرنے میں مجھ کو نہایت خوشی ہے کے اس تحریک سے اکثر علمائے ہندوستان کا خیال، اصلاح نصاب کی طرف مائل ہوگیا ہے اور اس امر کو کہ نصاب موجودہ میں فن ادب اور تفسیر کے متعلق نہایت کمی ہے اور جدید علم کلام کی نہایت ضرورت ہے، اکثر تسلیم کرتے جاتے ہیں۔ ۱۰

 اس مقام پر یہ تذکرہ بھی مفید مطلب ہے کہ مولانا محمد علی مونگیری کے دوست مولانا محمد حسین الہ آبادی نے’’   التنظیم لنظام التعلم والتعلیم‘‘کے نام سے ۱۷۵صفحہ کا ایک مستقل رسالہ اصلاح نصاب پر لکھا جس میں انہوں نے بہت سی مفید تجاویز پیش کیں اور کئی اہم امور پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ یہ رسالہ انہوں نے مولانا محمد علی مونگیری کی درخواست پر لکھا تھا ۱۱۔

 چونکہ دارالعلوم کے قیام کی تجویز سب سے پہلے مولانا کے ذہن میں آئی تھی ا س لئے  اس کا پہلا خاکہ مولانا نے ۱۲/ محرم الحرام ۱۳۱۳ہجری کے جلسہ میں پہلی بار پیش کیا جو بعد میں ’’ مسودہ دارالعلوم‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور استصواب رائے کے لیے ممتاز علماء، اکابرین اور اہل علم حضرات کو ارسال کیا گیا۔ اس مسودہ میں علوم دینیہ، فقہ اور علم کلام میں ملکہ تام پر زور دیا گیا۔ دوسری طرف دنیا کے حالات سے واقفیت کو علماء کے لئے ضروری اور لازمی قرار دیا۔ اس مسودے میں علماء کو مشورہ دیتے ہیں کہ جس سلطنت میں وہ زندگی بسر کرتے ہیں اس کے اصول سلطنت، مسلمانوں کی دنیوی  حالت، ان کی ضروریات، سلطنت کے انتظامات میں کی جانے والی تبدیلیاں، ان کے مسلمانوں پر  اثرات وغیرہ سے انہیں باخبر رہنا ضروری ہے۔ ۔۔کہتے ہیں کہ بلاشبہہ اصحاب صفہ کی مانند ایک گروہ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے ساتھ نہایت ضروری ہے کہ ایک جماعت کثیر ایسی بھی موجود ہوجو واقفیت واطلاع، انتظام و تدبیر،حزم و مصلحت اندیشی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، ابوعبیدہ امین رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر ہو۔۱۲

مسودہ د  ارالعلوم میں مولانا نے درجات، طریقہ تعلیم، مدت تعلیم، ترتیب علوم اور نظام الاوقات پر جامع نقشہ پیش کیا ہے۔ انہوں میں رہائش کے طور و اطوار، اسلامی لباس اور سواری اور نشانہ بازی کے ہنر سیکھنے کو طالب علم کی شخصیت کے ارتقاء کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ تہذیب اخلاق اور تزکیہ نفس کے لئے’’ احیاء العلوم‘‘ اور’’    عوارف المعارف‘‘ کے منتخب اور متعینہ حصوں اور تفسیر و حدیث کے مطالعہ پر زور دیا ہے۔ عربی زبان کی مشق کی بابت کہتے ہیں کہ آجکل طلبہ بلکہ اکثر علماء کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی عرب آجائے اور اس سے پانچ منٹ تک محاورہ عربی میں بات چیت پیش کرنے کی ضرورت پیش آئے تو یہ ٹک نہیں سکتے۔ اس خا کہ کے آخر میں لکھتے ہیں :  ان تجاویز کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ لڑکے ایسے مہذب اور پابند مذہب ہوں کہ دوسروں پر اپنا اثر ڈال سکیں۔ طالبعلموں میں دلیری و بلند ہمتی و اعلی ظرفی پیدا ہو جو بغیر اس قسم کے دارالعلوم کے جس میں تمام باتیں نہایت شان و شوکت کے ساتھ ہوں، حاصل نہیں ہوسکتیں۔ علوم دینیہ خصوصا علم کلام میں جس کی اس وقت نہایت ضرورت ہے، نہایت اعلی درجہ کا کمال پیدا کیا جائے تاکہ الحاد و دہریت کا مقابلہ پورے زور و قوت سے ہو سکے۔ آخرمیں مولانا نے اس منصوبے کے مصارف کا تخمینہ  دس لاکھ روپیہ لگایا جس کو آجکل (اپریل ۱۹۴۶)کے بیس ااورپچیس لاکھ روپے کے برابر سمجھنا چاہئے۔ اس طرح یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مولانا کا خاکہ مقصدیت،حساسیت،وسعت نظر،دور اندیشی اور زمانہ شناسی سے پوری طرح ہم  و آہنگ تھا۔۱۳

سطور ذیل میں بعض مضامین کی اہمیت و ضرورت  پر مولانا مونگیری کہ خیالات پیش کیے جاتے  ہیں :

 تاریخ کی اہمیت:

 مولانا نے  قصہ  قدیم وجدید کو’’ قدیم صالح اور جدید نافع‘‘ کے ذریعے حل کرنے کی انتہائی کامیاب کوشش کی۔ تاریخ کی اہمیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ مسلمانوں  کو اس کے نہ جاننے سے بہت حقارت سے دیکھا جاتا  ہے۔ ادنی ادنی شخص علماء کو تاریخی واقعات میں اپنے سامنے نابلد خیال کرکے بہت بے وقعتی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی بے توجہی سے آبنائے اسلام کی نظروں میں حقیر ہونا خلاف شان اسلام ہے اور بہت سبکی کی بات ہے۔۱۴

اسراراحکام کی ضرورت:

 اسرار احکام کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ وہ علم ہے جس سے ایمان تقلید سے تحقیق کے مرتبہ کو پہنچتا ہے۔ اطمینان قلب کامل  درجہ کا ہو جاتا ہے، مخالفین دین کے جواب میں بہت کچھ اس سے اعانت ملتی ہے۔ اس وقت اس کی نہایت ضرورت ہے، کیونکہ آزادی بڑھتی جاتی ہے اور بغیر وجہ معلوم ہوئے لوگ کسی امر کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لئے اس کا داخل درس کرنا بہت ضرور ہے۔۱۵

علم کلام کا ذکر کرتے ہوئے  لکھتے ہیں کہ ہمیں علم کلام جن کے لئے پڑھانا ہے وہ سب نئے فرقے ہیں ان کے لیے نئے علم کلام کی ضرورت ہے،مگر میری یہ غرض نہیں کہ پہلے علم کلام کی کتابیں بالکل بیکار ہوگئیں، بلکہ بہت سی باتیں ان میں مفید ہیں، البتہ اس امر کی ضرورت ہے کہ وہ مفید باتیں لے کر کچھ اضافی باتیں  کی جائیں جو اس وقت کے لیے ضروری ہیں۔ ۱۶

فلسفہ جدیدہ کی بابت لکھتے ہیں کہ فلسفہ جدیدہ کے رد کرنے کے لئے انگریزی زبان کا جاننا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ فلسفہ زبان انگریزی میں ہے اور ترجمہ کرکے اس کا جواب دینا جیسا کہ ابتدائے اسلام میں فلسفہ یونانی کے ساتھ کیا گیا،کافی نہیں ہے۔ فلسفہ جدید کے اصول و فروع ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ نئے نئے تحقیقات ہمیشہ اضافہ ہوتے رہتے ہیں، پھر ان کا ترجمہ ہونا اور جواب لکھا جانا سخت دشواری کے سوا  بعض وقت بے سود ہوگا کیونکہ جب تک ترجمہ ہو اور جواب دیکر شائع کیا جائے وہاں کچھ اور ہی ہوگا۔ اب ہمارا جواب ان کے روبرو فضول ٹھہرا۔ ۱۷

فراغت کے بعد تکمیل کا جو نصاب مولانانے مرتب کیا اس میں اختصاص و مہارت پر زور دیا گیا، اور ہر فن کے ساتھ تفسیر، حدیث اور فقہ کی ایک  منتخب کتاب لازمی قرار دی گئی ہے،مثلا اگر کوئی ادب یا تاریخ کی تکمیل کرنا چاہتا ہے ہے تو اس کو اپنے خاص موضوع کے ساتھ ان مذکورہ بالا کتابوں میں سے ایک ایک کتاب بھی پڑھنی ہوگی، تاکہ ان علوم سے جن پر اسلامی نظام کا دارومدار ہے، اس کا براہِ راست تعلق قائم رہے اورذوق و مناسبت میں اضافہ ہو۔۱۸

خلاصہ یہ کہ مروجہ درس نظامی اور شروح و حواشی کے کتب خانہ کے مقابلہ میں مولانا سید محمد علی مونگیری، بانی ندوۃالعلماء کا تجویز کردہ نصاب، انقلاب انگیز کہلانے کا مستحق ہے۔ انہوں نے اپنے نصاب میں زندگی کے عناصر خمسہ یعنی دین،علم، اخلاق,صحت اور دماغی شگفتگی کو شامل کرکے اپنی عبقریت کا اظہار بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں کیا ہے اورمولانا نے طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے علم کے ساتھ توازن واعتدال، دینداری اور خوش خلقی کو ضروری اور لازمی قرار دیا۔ انہوں نے صحت جسمانی اور ورزش پر خصوصی توجہ دی۔ لکھتے ہیں :

 ’’طلبہ کی ورزش کا بھی بہت خیال رکھیے،قوت اور صحت جسمانی اگر نہ ہوگی تو وہ کیا پڑھیں گے اور محنت کیوں کر سکیں گے۔ اس میں آپ شرم نہ کریں، مشورہ کرکے کوئی ورزش کروائیں۔ ہر وقت ان پر ایسا دباؤ نہ رہے کہ ان کے دماغ کی شگفتگی جاتی رہے۔حاصل یہ ہے کہ نہ تو ایسے غیرمہذب ہو جائیں جیسے اسکول کے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں کہ کسی بزرگ کو کچھ سمجھتے ہی نہیں اور نہ ایسے خائف اور پژمردہ ہو جائیں کہ بشاشت اور طباعی جاتی رہے، بلکہ شرع و تہذیب کے ساتھ ہشاش بشاش رہیں ۱۹۔مولانا کے ندوہ سے مستعفی ہوجانے کے بعد،جس کے اسباب کی وضاحت کا یہ موقع ہے اورنہ محل، مولانا حکیم سید عبد الحی اور علامہ شبلی نعمانی نے مولانا مونگیری کے نقشے کے مطابق ندوۃ العلماء لکھنؤ کے تعلیمی سفر کو آگے بڑھایا‘‘۲۰

۲۔عیسائیت کا رد و ابطال، فکر اسلامی کی محافظت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے تحفظ دوسرا میدان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں مصلحین، مجتہدین اور مجددین نے علمی وفکری سطحوں پر امت اسلامی کی رہنمائی کی ہے۔ مولانا سید محمد علی مونگیری نے بھی اس فرض کفایہ کی ادائیگی میں مومنانہ کردار اداکیا ہے۔مولانا کی ذات گرامی میں اسلامی حمیت اور نقدو احتساب کی زبردست صلاحیت موجود تھی۔ان  صلاحیتوں کا استعمال فرما کر وہ اپنے وقت کے عظیم مناظر اسلام نظر آتے ہیں۔ انہوں نے رد عیسائیت کے سلسلے میں خود عیسائی مبلغین کے طریقہ کار سے انہیں شکست فاش دی۔ صفدر علی اور عماد الدین جو ۱۸۱۳ میں عیسائی بنانے کے بل کی منظوری کے بعد سرگرم عمل نظر آتے  ہیں، ان کی تلبیسات کا جواب دینے کے لیے البرہان بحفاظۃ القرآن،مراۃالیقین، آئینہ اسلام، پیغام محمدی، ترانہ حجازی اور دفع التلبیسات تحریر کرتے ہیں۔ مولانا نے عیسائیت کے رد میں خود عیسائیت کے مآخذ کے حوالے سے ان کا ابطال کیا ہے اور اسلام کے اعمال ظاہری کی روح کو عقلی انداز میں ثابت کیا۔ مولانا محمد علی مونگیری، عیسائیت کے رد میں تبحر  علمی کی بنیاد پر فکر اسلامی کے قابل ذکر شارح و ترجمان قرار پاتے ہیں۔ ۲۱

اس تاریخی حقیقت کا ذکر یہاں بے جا نہ ہوگا کہ ندوہ کے اجلاس بریلی منعقدہ شوال ۱۳۱۳ہجری میں ایک فاضلانہ مقالہ پڑھا گیا جس کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی فرقوں نے آپس کی رضامندی سے اپنے اپنے مقدور واستطاعت کے مطابق کل ہندوستان اور برہما کو اپنے دین کی اشاعت کے لئے تقسیم کرلیا ہے اور کوئی قصبہ اور قریہ ہندوستان میں باقی نہیں رہا، جہاں اس فرقے کا مشن نہ پایا جاتا ہو۔ درحقیقت ہر مشن کے متعلق نئے گرجے اور شفا خانے اور چھاپے خانے اور زمینداریاں اور گرانٹ اور صنعت و حرفت اور تجارت و زراعت کے کارخانے اور مذہبی تعلیم کے مدارس ہیں، جن کے شمار سے عقل حیران ہے۔۲۲

۳۔مولانا محمد علی مونگیری کی اصلاحی سرگرمیوں کا تیسرا ایوان قادیانیت کا رد  اور اس سے مقابلہ و مباہلہ ہے۔تاریخی طور پر یہ بات معلوم ہے کہ قادیانیت پوری دنیا میں ایک متوازی نبوت اور متوازی امت کی حیثیت میں نمایاں ہوتی رہی ہے۔ ہندوستان میں قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کا عروج ۱۹۰۱ میں ہوا جبکہ مرزا صاحب نے اپنے رسالہ’’ اربعین‘‘ کے ذریعے  منصب تجدید کے اعلانات وتصریحات شروع کردیے۔ مولانا محمد علی مونگیری نے قادیانیت کے رد و ابطال کو غیرت ووفاداری کا امتحان قرار دیا۔ انہوں نے ۱۹۱۱کے تاریخی مناظرہ منعقدہ بہار میں پورے ہندوستان کے کم وبیش چالیس جید علماء کو مدعو کیا جن میں مرتضی حسن، انور شاہ کشمیریؒ، شبیراحمدعثمانیؒ، عبدالوہاب بہاریؒ اورابراہیم سیالکوٹیؒ  بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مولانا مونگیری کے صاحبزادے مولانا منت اللہ رحمانیؒ(پ:۱۹۴۳) کہتے ہیں کہ ان علماء کی آمد سے معلوم ہوتا تھا کہ خانقاہ رحمانی مونگیر میں علماء کی ایک بارات ٹھہری ہوئی ہے۔ وہ نقشہ کھینچتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’مولانا مرتضی صاحب کی ایک ہی تقریر کے بعد جب قادیانیوں سے جواب طلب کیا گیا تو مرزا صاحب کے نمائندے جواب دینے کے بجائے انتہائی بد حواسی  اور گھبراہٹ میں کرسیاں اپنے سروں پر لیے یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ ہم جواب نہیں دے سکتے‘‘۲۳

 مولانا مونگیری نے اس کام کے لیے خانقاہ میں ایک پریس قائم کیا اور سو سے زائد کتابیں شائع کیں۔ اپنے جلسوں، تقریروں اور میلادوں کے ذریعے انہوں نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو قادیانیت کے چنگل میں جانے سے محفوظ رکھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اتنا لکھو اور اس قدر طبع کرو اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب ہر صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے  رد قادیانی کی کتاب پا ئے۔۲۴

مولانا نے اپنے مریدین،خلفاء اور اہل تعلق کو قادیانیت کے استیصال پر ابھارا۔ ان کے نزدیک اس فتنہ کا مقابلہ اس وقت جہاد بالسیف سے کم نہ تھا۔ مولانا کی اہم تصانیف میں فیصلہ آسمانی،شہادت آسمانی، چشمہ ہدایت، چیلنج محمدیہ، معیار صداقت، معیار المسیح، حقیقت المسیح، تنزیہ ربانی، آئینہ کمالات مرزا، نامہ حقانی زیادہ مشہور ہیں۔ ان تصنیفات کا اثر یہ ہوا کہ بعض اوقات قادیانی مبلغ کو جوں ہی معلوم ہو جاتا کہ فلاں مقام پر مولانا کے رسائل کی اشاعت ہورہی ہے، وہ جگہ چھوڑ کر دوسرے مقام کی طرف منتقل ہوجاتے۔ یہاں تک نوبت آئی کہ مولانا کا نام ہی قادیانیوں کی شکست کا رمز بن گیا۔ رد قادیانیت کی معرکہ آرائی کے ذریعے مولانا نے رسالت کا اثبات و تیقن مسلمانوں کے ذہن ودماغ  اور قلب شعور میں بٹھا دیا۔فکر اسلامی کی یہ عظیم خدمت انہیں ہندوستان کے مصلحین کی صف میں اہم مقام عطا کرتی ہے۔رد قادیانیت پر مولانا محمد علی مونگیری کا اردو لٹریچر اسلامی ادب میں گراں قدر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

۴۔سلوک وارشاد اور اصلاح عوام کیلئے فکری و عملی  توازن:

مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کے سلوک و ارشاد میں اسلامی تصوف کی صاف جھلک محسوس ہوتی ہے۔ تصوف کی عملیات میں شعوری اورغیر شعوری طور پر کجرویوں کا یہاں گزر نظر نہیں ہوسکا۔انہوں نے اپنی خانقاہ کو اسلامی تزکیہ نفس کے لیے اس معیار پر قائم کیا جو اہل صفہ کی شان تھی، جہاں رہبانیت،وصل،حبس دوام،تجرد، چلہ کشی، جیسی غیر عقلی وغیر فطری اور غیر اسلامی عملیات کا چرچہ نہیں تھا۔ ان کی اقلیم تصوف میں لاکھوں  افراد نے حیات تازہ حاصل کی۔ ندوۃ العلماء لکھنوکے ۱۱گیارہ سالہ دور نظامت بلکہ اس سے قبل مولانا محمد علی مونگیری تعلیم و تدریس  میں انقلابی تبدیلیوں کے خواہشمند رہے۔آپ اس پورے علمی اور تعلیمی سفر میں  ہندوستان کی مسلم اقلیت کے روحانی پیشوا بھی تصور کئے جاتے رہے بلکہ صحیح بات یہی ہے کہ ندوہ کا تخیل بلاشبہ مولانا کی روحانیت کا ہی ثمر ہے۔ ندوہ سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے مونگیر (بہار)کو اپنا مستقل مستقر بنایا۔ انہوں نے تقریبا چار لاکھ مریدین کی تربیت کی جن کا تعلق ہندوستان، عرب اور افریقہ سے تھا ۲۵۔سوانح قاسمی میں مولانا مناظر احسن گیلانی نے مولانا سید محمد علی مونگیری کو درویشی اور سلطانی کا سنگم   قرار دیا ہے۔ احکام شرعیہ میں فرض و واجب اور نوافل کے درمیان فرق مراتب کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ شریعت میں جو چیز جس درجہ کی ہو اس کو وہی مقام دیا جائے اور اس میں اپنے مذاق اور رجحان بیجا کو مداخلت کی اجازت نہ دی جائے۔ بلکہ شریعت کی حکمت و مصلحت اور اس کے حکم کو مقدم رکھا جائے۔ انہوں  نے وحدت الوجود کے فلسفہ کو ہرخاص و عام کے لئے بلکہ علماء اور عرفاء کے لیے سخت دشوار بتایا  اور اس طرح کے مسائل کو غیر ضروری عقائد میں شمار کیا۔انہوں نے محبت اور اطاعت کو اصول تربیت کی اہم قدر قرار دیا۔ وہ کہتے تھے کہ مایوسی سے بچنے کاطریقہ یہ ہے کہ حقیقی طلب ہو، کیونکہ ہوس کے نتیجے میں تھکان اور مایوسی آتی ہے۔ مشاہدہ ذات و صفات کی بابت کہتے ہیں کہ تارکین  دنیا نے دل کو یکسو کرنے کے جو طریقے نکالے ہیں، ان کی مشق  سے کسی کو غائبانہ چیزوں اور پوشیدہ چیزوں کا علم ہونے لگتا ہے، کسی کو انوارو کرامات نظر آتے ہیں، ان کا مقصد لطف اٹھانا، عجائبات دیکھنا اور کرشمہ دکھانا ہوتا ہے۔ اس میں وہ ایسا گرفتار ہوتے ہیں کہ مشاہدہ ذات و صفات اور جمال وجلال تک ان کی رسائی ہی نہیں ہوتی۔ وہ اصلی دولت سے محروم رہتے ہیں اور اپنے حال میں مست۔ لیکن اولیاء اللہ کی حالت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ان کا مقصد کشف و کرامات نہیں بلکہ مشاہدہ ذات و صفات ہوتا ہے۔ بلکہ وہ اس سے لطف اور اس کشف و کرامت اور عجائبات سے متنفر ہوتے ہیں اور بعض اوقات اس کو اپنی ترقی اور حصول مقصد کی راہ میں ایک” رکاوٹ” سمجھتے ہیں۔ انوار و مکاشفات کی مثال مجدد الف ثانی کے حوالہ سے دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سالک کو ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے۲۶۔ذکرو مکاشفات میں پڑکر اپنے مقصد سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ان تجلیات وانوار کی حیثیت ایسی ہے کہ جس طرح ظاہری مسافر کو راستہ میں طرح طرح کی چیزیں اور طرح طرح کے مناظر نظر آتے ہیں لیکن وہ ان کی طرف توجہ کئے بغیر یا ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر اپنی منزل مقصود کے خیال میں مستغرق رہتا ہے۔ اسی طرح  راہ سلوک  کے مسافر کو دوران سلوک میں مختلف قسم کی تجلیات نظر آتی ہیں، جو کبھی انعام کے طور پر ہوتی ہیں اور کبھی امتحان  کے طور پر۔۲۷

خلاصہ بحث یہ ہے کے مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ نے علمی و عملی طور پر فکر اسلامی کی بالادستی کی مساعی زندگی بھر فرمائی۔ تعلیم و تزکیہ کے میدان میں متوازن رویہ کے نتیجے میں وہ ندوۃالعلماء جیسی عظیم الشان تحریک برپا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔  نام و نمود اورشہرت و نمائش سے فاصلہ بنانے والے امام ربانی کو اپنے زمانہ نظامت ندوۃ العلماء لکھنومیں جب یہ احساس ہوا کہ اب مزید وہاں ان کے قیام سے مفید نتائج کے امکانات مدھم نظر آنے لگے توانتہاء دور اندیشی اور حزم و احتیاط سے مونگیر میں خانقاہ کی بزم سجاتے ہیں۔ جہاں سے لاکھوں انسانوں کی تہذیب و تزکیہ کا اہتمام کرتے ہیں۔  تہذیب اسلامی کی محافظت کو اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہوئے انہوں نے یورپ کی مشنری مہمات کے تاروپود بکھیر کر رکھ دیے۔ دوسری طرف مرزا صاحب کی قادیانیت کے تلبیسات واباطیل کے مقابلہ میں قرآن و سنت پر مبنی لٹریچر فراہم کرتے ہیں۔ مولانا محمد علی مونگیریؒ کی متنوع  الجہات شخصیت کا تقاضہ ہے کہ انہیں ریسرچ و تحقیق کا موضوع یونیورسٹیز اور جامعات میں بنایا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے افکارو نظریات اورتصنیف کردہ صالح لٹریچر، فکر اسلامی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ افسوس ہے کہ انیسویں -بیسویں صدی کی اس عظیم عبقری شخصیت کا شایان شان تعارف آج تک نہیں ہوسکا ہے۔

حواشی و تعلیقات

۱۔ تفصیل کے لئے رجوع کریں کتاب ر۱قم:  فکر اسلامی کا ارتقاء ہندستان کا خصوصی مطالعہ آئی اوایس،سینٹر فار عربک اینڈ اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی  ۲۰۱۶ ص ص ۱۲۸ -۱۳۲

۲۔تفصیل کے لئے رجوع کریں مقالہ راقم :شیخ احمد سرہندیؒ کے تجدیدی کارنامے، مشمولہ در فکر اسلامی کے فروغ میں شیخ احمد سرہندیؒ کی خدمات (سیمینار مقالات )مرتبین عبد العلی اور ظفرالاسلام، شعبہ اسلامک سٹڈیز اے ایم یو علی گڑھ ۲۰۰۵ص ص ۳۵۔۴۹، نیز دیکھیں کتاب راقم مذکور۔

۳۔تفصیل کے لئے رجوع کریں : تاریخ ندوۃالعلما ء،حصہ اول مرتبہ مولوی محمد اسحاق جلیس ندوی، دفتر نظامت ندوۃ العلماء لکھنؤ، ۱۹۸۳ کے متعلقہ ابواب، نیز دیکھیں : سیرت مولانا سید محمد علی مونگیری ؒبانی ندوۃالعلماء مرتبہ سید محمد الحسنی،

۱۹۶۴ باب چہارم و دیگرمباحث

۴۔دیکھیے مولانا کا خط مشمولہ در سیرت  مولانا سید محمد علی مونگیری ؒ،محولہ بالا،ص ص ۱۴۳۔۱۴۴

۵۔تفصیل کے لئے رجوع کریں : سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا۸۰۱۔۴۱۱

 ۶۔تفصیل کے لئے دیکھیں ,سیرت محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا صفحات۶۰۱

۷۔دیکھیے رسالہ ندوہ، فروری ۱۹۰۹ مزید دیکھیں Yusuf Husaini, Glympsis of Medieval Indian Culture, Bombay,1962 P.80

۸۔ ہندوستان کی تعلیمی تحریک پر راقم کی کتاب: تاریخ جامعۃالفلاح، ادارہ علمیہ جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ نومبر۲۰۱۲کے  باب اول کا مطالعہ مفید مطلب ہوگا نیزدیکھیں :تاریخ ندوۃالعلما حصہ اول محولہ بالا ص ص ۷۵۔۷۴

۹۔ دیکھیے مقدمہ از مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، سیرت مولانا سید محمد علی مونگیری ؒ،محولہ بالا ص ص ۲۰۔۲۱

۱۰۔ تفصیل کے لئے دیکھئے روداد سال اول بحوالہ سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا ص ۱۳۸

۱۱۔ دیکھئے سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا ص ۱۳۸

۱۲۔ تفصیل دیکھیے، تجویز دارالعلوم ص ص۳۱بحوالہ سیرت سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا ص ۱۴۸

۱۳۔تفصیل کے لئے رجوع کریں : سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا ص ص۱۴۷۔۱۵۲

۱۴۔ سیرت سید محمد علی مونگیری ؒ،محولہ بالا، ص  ۱۵۴

۱۵۔سیرت محمد علی مونگیری ؒ،محولہ بالا ص۱۵۵

۱۶۔سیرت محمد علی مونگیریؒ،محولہ بالا ص ۱۵۷

۱۷۔سیرت محمد علی مونگیری ؒ،محولہ بالا، ص ۱۵۷

۱۸۔سیرت محمد علی مونگیریؒ،محولہ بالا، ص ۱۵۵

۲۰۔علامہ شبلی سے اختلافات اور دیگر انقلابی  سرگرمیوں کے لئے ملاحظہ کریں، حیات عبد الحی، مرتبہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ندوۃ المصنفین،اردو بازار جامع مسجد،دہلی،۱۹۷۰ کا باب پنجم نیز دیکھیں : سیرت مولانا سید محمد علی مونگیری محولہ بالا ص ص۱۰۴،۲۷۲- ۲۸۸

۱۹۔ سیرت سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا ص ص۲۴۰ -۲۴۲

۲۱۔ردعیسائیت پر مولانا کی خدمات کے لئے رجوع کریں : سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کا باب دوم، مولانا منت اللہ

 رحمانی لکھتے ہیں کہ والد صاحب اس وقفہ مناظرہ میں سجدے میں گر گئے اور اس وقت تک سر نہیں اٹھا یا جب تک خوش خبری نہیں ملی۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ مناظرہ کرنے کا قرعہ فال مولانا مرتضی کے نام ہی نکلا تھا۔محولہ بالا، ص ۲۹۸

۲۲۔ سیرت سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا، ص۔ ۳۹

۲۳۔سیرت سید محمد علی مونگیریؒ،محولہ بالا ص ۲۹۸

۲۴۔سیرت سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا،ص ۳۰۲

۲۵۔سیرت محمد علی مونگیریؒ،محولہ بالا، ص۳۶۷

۲۶۔سیرت سید محمد علی مونگیریؒ،محولہ بالا ص ص۳۸۵-۳۸۶

۲۷۔ سیرت، سید محمد علی مونگیریؒ، محولہ بالا، ص۳۸۸

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button