Sliderشخصیات

مولانا مودودی کا فیض جاری ہے

بیسویں صدی عیسوی میں جن شخصیات کے علمی کاموں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ان میں سر فہرست مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمہ اللہ (م1979 ء) کا نامِ گرامی شامل ہے

محمد رضی الاسلام ندوی

بیسویں صدی عیسوی میں جن شخصیات کے علمی کاموں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ان میں سر فہرست مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمہ اللہ (م1979 ء) کا نامِ گرامی شامل ہے _ ان کی متعدد کتابوں کا دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور کروڑوں انسانوں نے ان سے فیض اٹھایا ہے اور برابر اٹھا رہے ہیں _

مولانا مودودی نے قرآن مجید کا جو ترجمہ کیا ہے اور تفہیم القرآن کے نام سے اس کی جو تفسیر لکھی ہے اسے بھی بے انتہا مقبولیت ملی ہے اور متعدد پہلوؤں سے ان پر کام ہوا ہے ، مختلف زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے ہیں _ یہ ترجمے بہ آسانی نیٹ پر فراہم اور سہل الحصول ہیں _ اسی طرح ان کی آڈیو ریکارڈنگ بھی کروائی گئی ہے ، تاکہ انہیں پڑھنے کے ساتھ سنا بھی جا سکے اور ناخواندہ لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکیں _

مولانا مودودی کے عاشقین میں سے کراچی کے جناب فیاض عالم صاحب بھی ہیں _ انھوں نے کچھ عرصہ قبل مولانا کی کتاب ‘رسائل و مسائل’ کو سہل الحصول بنانے کے لیے اس کا ایپ تیار کیا تھا _ وہ تفہیم القرآن کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کروانے اور ان کی ایپ اور آڈیو تیار کروانے میں بھی لگے ہوئے ہیں _ انگریزی ، پشتو اور سندھی زبانوں میں مولانا کے ترجمۂ قرآن کی آڈیو ریکارڈنگ کرواچکے ہیں _

فیاض صاحب کو اب تفہیم القرآن کا بلوچی زبان میں ترجمہ کروانے کی سعادت حاصل ہوئی ہے _ ابتدائ چھ سورتوں کا ترجمہ مولانا عبدالحق خالد صاحب نے کیا تھا – باقی سورتوں کا ترجمہ کرنےکی خدمت معروف بلوچی عالم دین مولانا عبدالسلام عارف نے انجام دی ہے _ ان کا ارادہ اس ترجمہ کو آڈیو میں ریکارڈ کروانے کا بھی ہے _

بہت سے لوگ Islam360 نامی موبائل ایپ سے واقف ہوں گے _ اسے کراچی کے جناب زاہد حسین چیپا صاحب نے تیار کیا ہے _ چند دنوں قبل چیپا صاحب سے میرا رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ اس ایپ کو دنیا کے 177 ممالک میں 60 لاکھ سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہیں _ انھوں نے بتایا کہ اس میں میں نے اردو میں مولانا مودودی کے ترجمۂ قرآن و تفسیر کو شامل کررکھا ہے _ اب دیگر زبانوں ، خاص طور پر ہندی ، مراٹھی ، ملیالم ، تیلگو اور بنگالی کے تراجم کو بھی شامل کرنے کا ارادہ ہے _

یہ عظیم الشان کام صدقۂ جاریہ ہے _ قیامت تک اس سے فائدہ اٹھانے والوں کا ثواب مولانا مودودی کو ملتا رہے گا اور ان لوگوں کو بھی جو اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لیے مختلف تدابیر اختیار کررہے ہیں _

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button