Sliderسیاست

مہاراشٹر میں ارتھی، بنگال میں شرادھ اور دہلی میں ماتم

امیت شاہ نے چونکہ  مغربی بنگال کے انتخاب کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا دیا تھا اس لیے وہاں کے نتائج اہمیت کے حامل ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

مہاراشٹر میں  بی جے پی کی جس دن ارتھی اٹھی  اور شیوسینا کے وزیر اعلیٰ نے ہندوتوا کو دریا برد کرکے  کانگریس اور راشٹروادی کے تعاون سے حلف لیا  اسی دن مغربی بنگال کےاندربی جے پی کا بیڑہ غرق ہوگیا۔  وہاں پر ضمنی انتخاب  کی تینوں نشستوں پر اس کو منہ کی کھانی پڑی۔  ان تین مقامات پر  شکست فاش سے دوچار ہونے کی مختلف وجوہات سامنے آرہی ہیں لیکن سب سے اہم این آر سی کا تماشہ ہے۔ آج کل بیچارے امیت شاہ کی ساری شعبدہ بازی یکے بعد دیگرے ناکام ہورہی ہے۔ دفع 370  کا ہریانہ اور مہاراشٹر میں فائدہ نہیں ہوا۔ رام مندر اور این آر سی نے مغربی بنگال میں دم توڑ دیااتراکھنڈ  میں 3 ہزار کے فرق سے مرتے پڑتے ایک اسمبلی سیٹ ملی جو  ویسے بھی مل جاتی۔ پتھوڑا گڑھ میں  بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے سابق وزیر خزانہ پرکاش پنت کی اچانک کی  اہلیہ چندراپنت کو امیدوار بنادیا ہے اور لوگوں نےآنجہانی کی  ہمدردی میں ووٹ دے دیا ورنہ وہاں  بھی شکست فاش  سے دوچار ہونا پڑتا۔

امیت شاہ نے چونکہ  مغربی بنگال کے انتخاب کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا دیا تھا اس لیے وہاں کے نتائج اہمیت کے حامل ہیں۔  بنگال کی ہوڑہ لوک سبھا سے بی جے پی کے امیدواررنتی دیو سین گپتا تھے۔ انہوں  نے بی جے پی کی شکست کے لیے خوش فہمی اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مہاراشٹر میں بھی یہی ہوا۔ پارٹی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کھڑکپور اسمبلی حلقے سے 2016 میں جیت حاصل کی تھی۔ لوک سبھا انتخابات میں بھی وہاں پر  بی جے پی کو بڑی سبقت ملی تھی لیکن اس   ضمنی انتخاب میں وہ سیٹ بی جے پی گنوا چکی ہے۔ پارٹی کا صوبائی صدر اگر خود اپنی نشست بچا نہیں سکتا تو وہ پوری ریاست میں کیسے کامیابی حاصل کرے گا۔ دلیپ گھوش کی ریاستی صدارت اب خطرے میں ہے۔ انہوں  نے اپنی صفائی میں سارا الزام ٹی ایم سی پر مڈھ دیا۔ ان کے خیال میں  شکست کی وجہ  عوامی ناراضگی نہیں بلکہ  ترنمول کانگریس کی غنڈہ گردی،پولس کی ملی بھگت اور سیکورٹی کے پختہ انتظامات کا نہ ہونا ہے۔ سارے ہندوستان کو دہشت زدہ کرنے والی پارٹی کے ریاستی صدر کا خوفزدہ ہوجانا شرمناک نہیں تو اور کیا ہے؟

 ویسے دلیپ گھوش کا یہ اعتراف قابل ستائش  ہے کہ کالیا گنج اور کریم پور میں بی جے پی کو این آر سی کی وجہ سے شکست ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی  کہا کہ اس قدر خراب نتائج  کی امید نہیں تھی کیونکہ مکل رائے نے امیت شاہ کو تینوں نشستوں پر جیت کا یقین دلایا تھا۔ مکل رائے کے خوداعتمادی نے عارضی طور پر تو  امیت شاہ کو خوش کردیا مگر اس کے برعکس نتائج کو دیکھ کر اب  بی جے پی ماتم کررہی  ہے۔ اس ناکامی پر سب معقول تبصرہ  ترنمول کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے سابق رکن پارلیمان  انوہم ہزار نے اپنے فیس بک پر کیا ہے۔ بی جے پی کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ یہ شکست پارٹی میں آپسی چبقلش کا نتیجہ ہے۔ اس لیے بلا تاخیر آپسی اختلافات کو ختم کرکےبا صلاحیت اور مقبول لیڈروں کو سامنے لایا جانا چاہیئے۔ اس بیان کے  بین السطور میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ فی الحال بی جے پی کے اندر بے  صلاحیت اور غیر مقبول رہنما آپس میں لڑ رہے ہیں۔   یہ کھیل مہاراشٹر، بنگال اور دہلی ہر جگہ جاری و ساری ہے۔ اس کا ایک ثبوت ڈی ڈی سی اے کا حالیہ تنازع ہے۔

16 نومبر (2019)  کو مودی جی  کے منظورِ نظر  اور جنتا کی عدالت کے وکیل رجت شرما نے دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کی صدارت  سے اچانک استعفی دے کر سب کو چونکا دیا۔ ٹیلی ویژن کے پردے پر  اچھے اچھوں  کے چھکے چھڑانے والا صحافی کواس عہدے پر فائز ہونے کے بعد پسینہ  چھوٹ گیا۔ اپنے استعفیٰ میں شرما نے لکھا ” ڈی ڈی سی اے کے صدر کے طور پر اپنی مدت کے دوران مجھ پر اعتمادکرنے کے لئے میں  سب کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ میں  نے اپنےمختصر مدت کارمیں  اخلاص کے ساتھ ادارے کے مفاد میں ذمہ دارینبھانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے‘‘۔ یہ دعویٰ اگر درست ہے تو  اس اخلاص کے عوض ان کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑاکہ  ڈی ڈی سی اے میں ایمانداری اور شفافیت کے اصولوں کے ساتھ چلنا ممکن نہیں ہے، جس سے میں نے کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ ’نہ کھاوں گا نہ کھانے دوں گا‘ کا نعرۂ مستانہ لگانے والے مودی جی کے لیے ان کے ایک پرم بھکت کایہ  اعلان تازیانۂ عبرت  سے کم نہیں ہے۔

 رجت شرما کو کسی کانگریسی یا سماجوادی نے پریشان نہیں کیا۔ ڈی ڈی  سی اے میں پہلے بھی بی جے پی کے لوگ بھرے ہوئے تھے اب تو انہیں کا بول بالا ہے لیکن ان  لوگوں کے بارے میں شرما کہتے ہیں  کہ اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے انہیں  نہ صرف بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا بلکہ  کئی طرح کے ظلم و ستم بھی سہنے پڑے۔ مجھے منصفانہ اور شفاف طریقے سے اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح کے الزامات لگا کر بی جے پی کے سابق رہنما کیرتی آزاد کانگریس میں چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ  رجت شرما کو اپنی ذمہ داری کی ادائیگی سےروکنے والوں پر شاہ اور مودی  قابو کیوں نہیں پا سکے؟ ان کا نامزد کردہ  صدر کرکٹ کھلاڑیوں  کے مفاد اور فلاح و بہبود کے لیے سر گرم رہاتاہم دیگر ارکان ان سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنےپر مصر رہے۔ رجت چونکہ  کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوئے  اس لئے انہیں  اپنے عہدے سے  استعفی دے  کر کنارہ کش ہونا پڑا۔ ڈی ڈی سی اے کا پیسہ صرف کرکٹ کے فروغ  پر خرچ کرنے کی سعی نے انہیں  بن باس لینے  پر مجبور کردیا۔ وہ اگر خود بھی کھاتے اور دوسروں  کو بھی کھلاتے تو بات نہیں بگڑتی۔ رجت شرما اب صرف فیروز شاہ کوٹلہ میدان کے پویلین  کو ارون جیٹلی سے منسوب کرنے کے لیے یاد کیے جائیں گے۔

عصرِ جدید میں الکٹرانک  آلات پر انسانی زندگی  کا  انحصار بہت بڑھ گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تو یہ بھی  ہے کہ  اس دور کا انسان  اپنے موبائیل فون کا اسیر بن کر رہ گیا۔    تفریح کی دنیا میں یہ بات صد فیصد درست ہے۔ وہ کبھی وقت گزاری کے لیے موبائیل گیم کھیلتا ہے تو کبھی  واٹس ایپ پر مشاعرے پڑھتا ہے۔ یوٹیوب پر تو اسے  کیا نہیں ملتا۔ ٹیلی ویژن  کی سیاسی بحثوں سے لے کر جنگل کے خونخوار درندوں کی ڈاکیومنٹری تک سب کچھ موجود ہے۔ بھانت بھانت کی فلمیں اور طرح طرح کے کھیلوں کو دیکھ کر انسان اپنا دل بہلاتا رہتا ہے۔ یہ عجیب  اتفاق ہے کہ  فی الحال ہر شعبۂ حیات کی ویڈیوز میں  کہیں  نہ کہیں  سنگھ پریوار کی  سرپھٹول  ناظرین کی تفریح  کا سامان بن رہی ہے۔ ایودھیا سے لے کر  مہاراشٹر تک اور بنگال سے لے کر دہلی تک ہر جگہ ہندوتوادی ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔ رامائن ومہابھارت سیریل سے مشابہ  جنگ وجدال  اور سازشوں  کا جال  بی جے پی کے لیے وبالِ جان بن گیا ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button