Sliderسیاست

مہاراشٹر میں ونچت اگھاڑی کی محرومیت

ونچت اگھاڑی میں  ہر لحاظ سے ایم آئی ایم بڑا بھائی تھی مگر بھارتیہ ریپبلکن  پارٹی نے اس کا اسی طرح انکار کیا جیسا کہ شیوسینا نے بی جے پی کے ساتھ پچھلے اسمبلی انتخاب سے قبل کیا تھا۔

ڈاکٹر سلیم خان

بارش کےآگے آگے جیسے بادل چلتے ہیں اسی طرح انتخابات کے پیچھے پیچھے وزیراعظم  رواں دواں ہوتے ہیں۔ کسی صوبے میں ان کی  تشریف آوری  سے انتخابی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اس لیے کہ وہ الیکشن کا مہورت نکال کر قدم رنجا فرماتے ہیں۔ کسی زمانے میں مودی آفات ارضی و سماوی سے متاثرہ علاقوں   کا دورہ کرتے تھے،  مصیبت زدگان کی امداد کے لیے سرکاری خزانے کا منہ کھول دیتے تھے یا کم ازکم  ٹو یٹرپر اظہار تاسف  کردیتے تھے لیکن اب وہ دن لد گئے۔ پچھلے دنوں ملک بھر میں سیلاب آیا لیکن مودی جی غیر ملکی دوروں میں اور امیت شاہ کانگریس مکت بھارت کی دھن میں لگے رہے۔ ان دونوں کی زبان سے ہمدردی کے دو علامتی  بول بھی نہیں پھوٹے۔ ویسے اس کی ضرورت بھی کیا ہے جب لوگ مرتے پڑتے بھی ووٹ دے ہی دیتے ہیں تو ان کے مرنے تڑپنے  کی فکر کیوں کی جائے ؟ اگر ایسا نہ ہوتا وزیر اعظم ایک  قبل مہاراشٹر آکر سانگلی و کولہاپور کے علاقوں پر اپنے مخصوص ہوائی جہاز سے کم ازکم ایک طائرانہ نظر ہی ڈال لیتے۔ اس کے بعد کرناٹک نکل جاتے جہاں پر تین ضلعوں کے علاوہ ہر جگہ پانی ہی پانی تھا لیکن چونکہ یدوپاّ حکومت بنا  نے کے بعد  پانچ پانچ نائب وزرائے اعلیٰ کا بھی تقرر فرما چکے ہیں  اس لیے اب کسی ڈرامہ کی  چنداں ضرورت نہیں ہے۔

مہاراشٹر میں وزیر اعظم نے تو انتخابی بگل بجادیا مگر اس سے قبل ونچت اگھاڑی سے نکل کر اتحادا لمسلمین نے دھماکہ کردیا۔ ونچت اگھاڑی سے اس بار بڑی توقعات وابستہ تھیں کیونکہ اس صوبے میں مسلمانوں  کی آبادی ساڑھے گیا رہ فیصد ہے اور دلت ۹ فیصد ہیں۔ درج ذیل ذات کے یہ لوگ   دو مذاہب  یعنی ہندو اور بودھ مت  کے ماننے والوں میں منقسم ہیں ۔ بودھ مت کے ماننےوالے دلتوں کے دو بڑے رہنما ہیں ایک پرکاش امبیڈکر اور دوسرے مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے۔  اب اگر یہ مان لیا جائے کہ سارے بودھ دلت پرکاش امبیڈکر کے ساتھ ہیں تب بھی اس محروم اگھاڑی میں  ان کا تعداد پینتیس فیصد اور مسلمانوں کی پینسٹھ فیصد بنتی ہے۔  ایسے میں 288 میں سے 187 نشتیں مسلمانوں کو اور 101سیٹ دلتوں کو ملنی  چاہییں  لیکن پرکاش امبیڈکر  نے مجلس کو صرف 8 نشستوں کی پیشکش کردی۔  اس تضحیک آمیز سلوک  کے جواب میں اگر امتیاز جلیل نے اتحاد توڑنے کا اعلان کردیا تو کیا غلط کیا؟  پرکاش امبیڈکر پرانے سیاستداں ہونے کے سبب اپنے آپ کو بڑا رہنما سمجھتے ہوں گے لیکن انہیں یاد رکھنا  چاہیے کہ گزشتہ قومی انتخاب میں انہیں دو مقامات پر شکست فاش سے دوچار  ہونا پڑا جبکہ امتیاز جلیل نے  شاندار کامیابی درج کرائی۔

پرکاش امبیڈکر کو شکایت ہے کہ اکولہ میں   کانگریس نے ان کی حمایت نہیں کی۔ مسلمانوں نے انہیں  ووٹ دینے کے بجائے   کانگریس کے مسلم امیدوار کا ساتھ دیا لیکن اگر ووٹننگ پیٹرن پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ  بی جے پی کو 49 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے جبکہ کانگریس اور ونچت کے رائے دہندگان کی مجموعی تعداد 47 فیصد سے کم تھی۔ ایسے میں ہارنا تو ان کا مقدر تھا۔ انہیں ہرانے والے سنجے دھوترے کو بی جے پی نے مرکزمیں  وزارت سے نوازہ۔ اس بار پرکاش امبیڈکر نے اپنے روایتی حلقہ  اکولہ کے علاوہ   سولاپور جاکر سشیل کمار شندے کو ہرانے کا ارادہ کیا۔ اس مقصد میں انہیں کامیابی ہوئی  لیکن شندے کو ہرا کر بی جے پی کے امیدوار جئے سدھیشور سوامی  کامیاب ہوئے۔

 سولاپور میں  سدھیشور سوامی کو اڑتالیس  فیصد سے زیادہ ووٹ ملے لیکن ونچت اور کانگریس کے رائے دہندگان کو ملا لیں تو انچاس سے زیادہ ہوجاتے ہیں۔ ایک دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ پرکاش امبیڈکر کو تمام بلند بانگ دعووں کے باوجودسشیل کمار شندے سے نصف ووٹ تعداد میں  بھی ووٹ نہیں ملے۔ یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے کہ اکولہ میں پرکاش امبیڈکر کو جملہ 2 لاکھ اٹہترّ ہزار اور سولا پور میں ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار ووٹ ملے جبکہ اورنگ آباد میں امتیاز جلیل نے 3 لاکھ نوےّ ہزار ووٹ حاصل کیے اس لیے ونچت اگھاڑی میں  ہر لحاظ سے ایم آئی ایم بڑا بھائی تھی مگر بھارتیہ ریپبلکن  پارٹی نے اس کا اسی طرح انکار کیا جیسا کہ شیوسینا نے بی جے پی کے ساتھ پچھلے اسمبلی انتخاب سے قبل کیا تھا۔ اس کو ٹھوکر لگی تو عقل ٹھکانے آگئی۔ بہت ممکن ہے کہ اگلے انتخاب میں ونچت کو بھی اپنی محرومی کا احساس ہوجائے۔

آبادی کے لحاظ سے مہاراشٹر ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی ریاست ہے۔ رقبہ کے حوالے سےیہ  تیسرے نمبر پر ہے مگر جمہوریت میں تو  سر گنے جاتے ہیں اس لیے سیاسی اعتبار سے اس کو دوسرے مقام پر رہنا چاہیے۔ آر ایس ایس کا مرکز چونکہ ناگپور میں ہے اس لیے بی جے پی کے دورِ اقتدار میں تو اس کا پہلا نمبرہونا چاہیے لیکن مودی سرکار کی سب سے اہم پانچ  وزارتوں میں سے ایک بھی کبھی مہاراشٹر کے حصے میں نہیں آئی۔ وزیراعظم گجرات کے رہنے والے ہیں لیکن انہوں نے وارانسی سے انتخاب لڑا کر اترپردیش کے رکن پارلیمان ہونے کا اعزاز حاصل کیا اس لیے وہ سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے یعنی اقتدار کی خاطر  اپنی جنم بھومی کو تیاگ  کر یوپی کو اپنی کرم بھومی بنالیا۔ ابتداء میں وہ  اٹھتے بیٹھتے گجرات جاتے تھے لیکن اب تو صرف الیکشن کے وقت دوسرے صوبوں کی طرح اس کو بھی یاد فرمالیتے ہیں۔

وزیراعظم نے اپنی پہلی مدتِ کار میں دوسرے نمبر کی  وزارت داخلہ کا قلمدان  اترپردیش کے راجناتھ سنگھ کو سونپا مگر اس بار  گجرات کے امیت شاہ کو فائز کردیا۔ پچھلی مرتبہ گوا کے منوہر پریکر کو کچھ عرصے کے لیے وزیردفاع اورآندھرا کی  نرملا سیتا رامن کوآگے چل کر وہ اہم ذمہ داری سونپ دی  اس بار انہیں وزیر خزانہ بنادیا۔ مہاراشٹر کو تیسرا مقام بھی نہیں ملا۔ گجرات کے رکن پارلیمان  ارون جیٹلی پہلے وزیر خزانہ تھے اب گجرات سے ایون بالہ کے رکن جئے شنکر وزیر خارجہ  بنائے گئے۔   مدھیہ پردیش سے ایوان پارلیمان میں جانے والی سشما سوراج کو پچھلی بار وزیر خارجہ کی ذمہ داری دی گئی تھی اس بار پہلے تو ان کا ٹکٹ کٹا پھر وزارت گئی اور بالآخر وہ پرلوک سدھار گئیں۔  ان اہم وزارتوں  میں مہاراشٹر کا نام کہیں نہیں جھلکتا۔ ہنسراج اہیر کوراجناتھ سنگھ کی وزارت میں ریاستی وزیر  بنایا گیا تھا لیکن  اس بار وہ الیکشن کیا ہارے کہ ان کا بھی پتہ کٹ گیا۔

وزارتوں کو فہرست پر نظر ڈالیں تو تکنیکی اعتبار سے  دوسرے مگر حقیقت میں  پہلے  نمبر پر گجرات ہے  دوسرے پر اتر پردیش اور مہاراشٹر تو پانچویں پر  بھی نظر نہیں  آتا۔ کثیر آبادی والے اس صوبے کومودی جی نے پہلے ہی   ونچت ( محروم ) کررکھا ہے۔ بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری کے حصے میں سڑک اور پل بنانے  کا کام ہے لیکن اس سڑک پر بھی پی ایم او کی جانب سے آئے دن گڈھے کھودنے کا کام کیا جاتا ہے۔ سرکار پر   نتن گڈکری کی نت نئی تنقید کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کے درمیان کا پل کب ٹوٹ کر گرجائے گا؟ انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاوڈیکر سے الیکشن نہیں لڑایا جاتا اس لیے جیت نہیں سکتے۔ شیوسینا کے اروند ساونت کو بھاری صنعتوں کی  کابینی وزارت بھیک کے طور پر دی گئی ہے۔

ریپبلکن  پارٹی کے رام داس اٹھولے  دوسروں کی مانند جہاں تھے وہیں ریاستی وزیر کے طور پرمرکزمیں سماجی فلاح بہبود کی دیکھ ریکھ کرتے ہوئے وقتا! فوقتاً سرکار کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ دو نئے وزراءسنجے  دھوترے کو جاوڈیکر کی وزارت کا ریاستی وزیر بنایا گیا ہے۔ بی جے پی کے سابق صوبائی صدرراو صاحب دانوے کو بھی ریاستی وزارت پر اکتفاء کرنا پڑا۔ مہاراشٹر کے سیاسی بے وزنی کا اندازہ  اس سلوک  سے بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ بی جے پی  کے اس اہانت آمیزرویہ کے  باوجود کانگریس اور این سی پی سے ٹوٹ ٹوٹ کر اس میں جانے والے سیاسی رہنماوں کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے اور یہ عقدہ بھی کھل جاتا ہے کہ پچھلے 72 سالوں میں اس ریاست کا کوئی شخص وزیر اعظم کیوں نہیں بن سکا ؟ جبکہ گجرات کے دو اور کرناٹک و آندھرا تک کا ایک ایک سیاستداں وزارت عظمیٰ کی کرسی پر فائز ہوگیا؟ پانی پت کے میدان میں مراٹھوں کے شکست کی یہی وجہ بیان کی جاتی ہے اور ‘پانی پت ہونا’ مراٹھی زبان میں ایک ضرب المثل  بن چکا ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button