Sliderاسلامی معاشرہ

میراث کی تقسیم

اسلام میں عورتوں کا حصہ مردوں کے نصف قرار دیا ہے۔

سمیہ نسیم جمکانی

(رٹیہلی Rattihalli ، ہاوری ڈسٹرکٹ )

اسلامی نظام زندگی میں میراث کی تقسیم ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ اس سے دولت نہ صرف   حقیقی  مستحقین تک پہنچتی ہے بلکہ ان خرابیوں کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے جو دولت اور جائیداد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس بات کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن میں نماز کی تفصیلات نہیں ملتی روزہ اور زکوۃ کے مسائل سے صرف نظر کیا گیا ہے ،حج جیسی عظیم الشان عبادت کی تفصیلات سے گریز کیا گیا ہے۔ ان تمام عبادتوں سے متعلق تفصیلی ہدایت حدیث میں ملتی ہیں۔ لیکن وراثت سے متعلق مکمل تفصیلات کا قرآن میں جگہ دینا اور رہتی دنیا تک محفوظ کر دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وراثت کی اسلامی تقسیم گھر ،خاندان ،اور معاشرے کو مستحکم ،متحد اور اسلامی معاشرہ بنا کر رکھنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وارثوں  کے حصے قرآن میں متعین کر دیے ہیں۔ ان حصوں میں کمی بیشی کرنا اور قانون وراثت کی  خلاف ورزی کرنا گناہ کبیرہ ہی نہیں بلکہ ہمیشہ دوزخ میں جانے کا ذریعہ ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ

  ِللِرّجٙالِ نٙصِیُبًُ ِممّاٙ تٙرٙکٙ الُوٰالِدٰانِ وٙالاٙقُرٙبُونٙ ولِلنِِّسٰاءِ نٙصِیُبًُ مِماّٙ تٙرٙکٙ الوٙالِدٙانِ وٙالاٙ قُرٙبُونٙ مِمّٙا قٙلاّٙ مِنُھُو اٙوُ کٙثُرٙا نٙصِیُبًٙا مٙفٙرُوضٙا (سورہ النساء ٧)

مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہوا۔ اور عورتوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے تو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔ خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت یہ  حصہ  اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔

میراث کا مسئلہ ہمارے معاشرے کا سنگین مسئلہ ہے۔ عام طور پر  اس میں لڑکیوں کو میراث سے محروم کیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو محروم کرکے جو میراث تقسیم ہوگی یا کسی بھی جائز  وارث کو محروم کرکے جو میراث تقسیم ہوگی وہ ناجائز اور حرام ہوگی۔ اللہ تبارک و تعالی نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ میراث کی تقسیم اس کی بتائی ہوئی تقسیم کے مطابق کی جائے اور جو لوگ اس تقسیم کے مطابق میراث تقسیم نہیں کرتے ان پر سخت وعید فرمائی گئی ہے۔

اللہ تعالی کا حکم ہے "اور جو اللہ  اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی  حدود سے تجاوز کرے گا اسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن سزا ہے "۔

مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ تفہیم القرآن میں اس کی تفصیل لکھتے ہیں کے ایک بڑی خوفناک آیت ہے۔ جس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے اللہ کے مقرر کیے ہوئے قانون وراثت کو تبدیل کرے یا ان دوسری قانونی حدوں کو توڑیں جو خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر مقرر کر دی ہیں۔ لیکن سخت افسوس کی بات ہے کہ اس قدر سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے یہودیوں کیسی جسارت  کے ساتھ خدا کے قانون کو بدلا ،اور اس کی حدوں کو توڑا ،اس قانون وراثت کے معاملے میں جو نافرمانیاں کیں گئی ہیں وہ خدا کے خلاف کھلی بغاوت کی حد تک پہنچتی ہیں۔ کہیں عورتوں کو میراث سے مستقل طور پر محروم کیا گیا ،کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ کہیں سرے سے تقسیم میں میراث ہی کے طریقے کو چھوڑ کر "مشترکہ خاندانی جائیداد "کا طریقہ اختیار کرلیا گیا ،کہیں عورتوں اور مردوں کا حصہ برابر کردیا گیا۔

اسلام میں عورتوں کا حصہ مردوں کے نصف قرار دیا ہے۔

قرآن فرماتا ہے "تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ "

بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ جائیداد برابر شرعی حکم کے مطابق تقسیم تو کرتے ہیں لیکن پھر بہنوں کو مختلف رسم و رواج سے اپنی حیثیت کا اثر ڈال کر مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے حصے سے کسی بھی بھائی کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ اس طرح جائیداد تو تقسیم ہوتی ہے لیکن عملً لڑکیوں کو  کو ان کا حصہ نہیں ملتا۔یہ بھی ناجائز ہے اور اللہ کے حکم کے استہزاء کے مترادف ہے۔ اللہ تعالی نے جس کا جو حصہ مقرر کیا ہے اس کو وہ ملنا چاہیے کسی بھی عنوان سے اس کو محروم کرنا ناجائز ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود وراثت کی تقسیم کے فن کو نصف علم قرار دیا ہے۔ "اے لوگو علم فرائض سیکھو کہ وہ نصف علم ہے "بدقسمتی سے ہم مسلمان جہاں دوسرےعلوم  میں پھچہھڑتےجا رہے ہیں  وہیں  علم فرائض کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کہ "سب سے پہلے جو علم میری امت سے اٹھایا جائے گا وہ علم فرائض ہے” کو سچ ثابت کر رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہماری اکثریت میراث کی تقسیم سے غافل ہے۔ اور ہم سب گناہ عظیم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ مسلمان صدیوں سے قانون وراثت کے معاملے میں حدود  اللہ کو پامال کرتے آرہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں صرف جاھل اور ان پڑھ طبقہ ھی  ملوث ہے بلکہ اچھے خاصے دیندار لوگ بھی اس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں ،مختلف حیلوں اور بہانوں سے ماں، بہن، بیٹی اور دوسرے حقداروں کو میراث سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ آج کل نماز ،روزہ ،زکوۃ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے لیکن بندوں کے حقوق سے غفلت برتی  جا رہی ہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالی سورہ نساء میں ارشاد فرماتے ہیں

"یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جواللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ،اللہ اسے ایسی باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ،اور ان میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا ،اسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ،اور اس کے لئے رسوا کن سزا ہے۔

اس لئے تمام امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ وراثت کی صحیح تقسیم کو اپنے معاشرے میں جاری کریں اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کرنے سے باز رہیں (آمین )

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button