Sliderجہان خواتین

میرا آئیڈیل دن

فراست بیگم محمد افسر خان

جالنہ

موسم سرما اپنے شباب پر تھا۔ ہمارا اپنا گھر بھی کسی ہل اسٹیشن سے کم محسوس نہیں ہو رہا تھا۔سویٹر پہننے کے باوجود بھی سردی کافی محسوس ہو رہی تھی۔ ہمارے گھر کے تمام افراد جلدی جلدی اپنے بستروں میں دبک چکے تھے۔ گھر میں نو بجے ہی کرفیو جیسا ماحول ہو گیا تھا۔ میں بھی نماز عشاء ادا کر کے اپنے بستر پر لیٹ گئی اتفاق سے جلد ہی مجھے آنکھ لگ گئی۔
جلدی سونے کی وجہ سے میری آنکھ تہجد کے وقت کھل گئی۔ بستر میں لیٹے لیٹے میں سوچنے لگی کہ "آج رمضان جا کے پورے بیس دن ہو گئے ہیں اور تہجد کی نماز پڑھ کر بھی” اور مجھے اپنے مسائل یاد آنے لگے کہ اللہ تعالی سے یہ مانگنا ہے اور یہ مانگنا ہے، ساتھ ہی سردی کی شدت محسوس ہو رہی تھی جو ارادوں کو توڑ رہی تھی۔یہ ایک سرد رات تھی۔یکایک میں اپنے بستر سے اٹھی اور وضو کرنے لگ گئ پتہ نہیں کیوں مجھے ایڈونچر والے کاموں میں بڑا مزہ آتا ہے۔میں جو کہ گرمی کے موسم میں تہجد پڑھنے سے قاصر رہتی تھی۔آج اتنی سردی میں’ میں تہجد ادا کر رہی تھی۔ نماز کی ادائیگی کے دوران مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اپنی ذات سے کوئی بوجھ اتار رہی ہوں اور ساتھ ہی اپنے اندر بہت عاجزی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ تہجد کی ادائیگی کے بعد اللہ سے خوب دعائیں مانگی اور اللہ سے اپنے گناہوں کی توبہ بھی کی۔ فجر کی نماز کے بعد حفظ کرنے بیٹھ گئی۔ پتہ نہیں کیوں رمضان کے بعد مجھ میں اتنی سرد روی کیوں آگئی تھی کہ رمضان کے بعد میں نے چھوٹی سورتوں کا حفظ کرنا جیسے ترک ہی کر دیا تھا۔ امی کچن میں ابو اور بھائی جان کا ناشتہ بنا رہی تھی۔ میں بھی ابو اور بھائی جان کو ناشتہ دینے میں لگ گئی آج احساس ہوا کہ امی کیسے روزانہ اٹھ کر ان دونوں کے لئے ناشتہ بنایا کرتی ہے اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ میں خود کیسے آرام سے فجر کی نماز کے بعد سو جایا کرتی ہوں۔بہرحال،ابو اور بھائی جان کو رخصت کرنے کے بعد امی اور میں نے بھی ناشتہ کیا، ساتھ ہی اخبار کا مطالعہ بھی کیا۔ دھوپ نکل چکی تھی۔ میں چھت پر چلی گئی تاکہ پودوں کو پانی ڈال سکوں۔صبح کا منظر بہت ہی سہانا تھا۔ صبح کے پرلطف ماحول سے دل کو بہت سکون مل رہا تھا۔اس ماحول میں ایک کشش تھی۔قدرت کے نظاروں، صبح کی مہک، تازہ ہوا ،سورج کی روشنی، پرندوں کا چہچہانا طبیعت کو خوش کر رہا تھا۔ میرے دل سے اللہ کی حمد و ثنا اور شکر کے کلمات نکل رہے تھے اور ساتھ ہی ہماری سیاہ کاریوں اور اللہ کے دین سے نہ آشنائی کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو جا رہی ہورہے تھے۔
پودوں کو پانی دینے کے بعدمیں واپس نیچے چلی گئی۔ امی نے تھوڑی ورزش کی ترغیب دی۔ ہلکی پھلکی ورزش کرنے کے بعد میں گھر کی صفائی میں مشغول ہو گئی۔دل چاہ رہا تھا کہ جس طرح آج میرا چہرہ مسرت سے چمک رہا ہے،اسی طرح گھر کا کونا کونا چمکادوں۔ اس کے بعد میں نے اپنی قرآن فہمی کی کلاس کا ہوم ورک کھولا۔ ہوم ورک سے فارغ ہوکر امی کی مدد کے لئے کچن میں چلی گئی۔
ظہر کا وقت ہوگیا کھانے اور نماز سے فارغ ہوکر اپنی کلاس کا رخ کیا۔ آج تمام کام وقت پر ہو رہے تھے اور ہماری کلاس میں بھی پہلے پہنچنے والوں میں بھی ہم ہی تھے۔
میں نے آج کلاس میں خوب جوش و خروش سے حصہ لیا۔پتہ نہیں کیوں لیکن آج میرے اندر بہت سارے مثبت ا حساسات موجود تھے جو میری حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔
کلاس سے واپسی کے دوران را ستے میں ایک بزرگ خاتون نظر آئی، جو کہ مسجد کے پاس بیٹھی بہت پریشان معلوم ھور ہی تھی۔ لگ رہا تھا کہ اسے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ میرے ساتھ میری عیدی کے پیسے موجود تھے۔میں نے بنا ہچکچاہٹ کے اسے خیرات کر دیے۔جس کے بدلے میں اس نے مجھے بہت سی قیمتی دعاؤں سے نوازا ۔میں بہت خوش ہوئی۔
گھر پہنچنے کےبعد طبیعت میں تھکان محسوس رہی تھی۔ اس لئے سوچا کہ قیلولہ کیا جائے۔ تقریبا ایک گھنٹہ میں بہت سارےحسین خوابوں کو دیکھنے میں مشغول ہی تھی کہ اچانک کچھ آواز ہوئی اور میں اٹھ بیٹھی۔
"بیٹی ام ہانی، پریشان نہ ہو بلی تھی۔ اب جاچکی ہے”، امی نے کہا۔
امی برقعہ میں تھی۔ دریافت کرنے پر کہا کہ پھوپھو (جن کی طبیعت اکثر ناساز رہا کرتی ہے ان کی) عیادت کے لیے جا رہی ہے۔میرا بھی دل چاہا کہ میں بھی ہوآوں۔
چنانچہ،ہم عصر کے وقت واپس آئے۔ واپس آنے پر عصر کی نماز ہم دونوں نے ساتھ ہی ادا کیں۔ شام کی چائے امی جیسے ہی بنانے لگی تو میں نےاصرار کیاکہ آج چائے میرے ہاتھوں کی ہوگی۔ چنانچہ میں چائے بنا نے لگ گئ۔ جیسے کوئی بڑی مہم سرانجام دینی ہو!!
امی میرے یہ تمام کام دیکھ رہی تھی۔ اب جب ہم چائے پینے بیٹھے تو کہنے لگی، "بیٹی آج تمہارے چہرے پر کتنی خوشی نظر آ رہی ہے۔ ماشاء اللہ”۔
” جی امی۔ آج واقعی میں بہت خوش ہوں کیونکہ،آج میں نے کلاس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور آج بہت سے کام انجام دیے جو کہ اکثر کرنے سے رہ جاتے تھے اور آج الحمدللہ تہجد کی نماز بھی ہوئی۔”میں نے جواب میں کہا۔
"میری بیٹی جیتی رہو۔ اللہ تمہاری زندگی کو خوشیوں سے بھر دے۔ بیٹی، اسی طرح اپنا ہر دن گزارا کرو۔ زندگی میں خوشی اسی سے ہے۔”
اس کے بعد میں امی کی شام کے کھانے کے لئے مدد کرنے لگ گئی۔ امی بھی آج بڑی مطمئن نظر آ رہی تھی۔ امی کی مدد کے دوران خیال آیا کہ ہماری امی کتنا سارا کام اکیلی ہی کر لیتی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ مجھے بھی ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ آخر میرا بھی تو کچھ فرض بنتا ہے۔ بلکہ کچھ نہیں، بہت کچھ !!
٦بجنے والے تھے۔میں اپنی تجوید کی کلاس کیلئے نکل گئی جو کہ ہمارے بالکل ہی پا س میں تھی۔ واپس آکر مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد سب نے مل کر اکٹھا کھانا کھایا اور نماز عشاء ادا کیں۔ جس کے فوری بعد میں نے تفہیم القرآن کا مطالبہ تقریبا ایک گھنٹہ کیا۔ آج زیر مطالعہ سورہ ضحی تھی۔
"قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے۔تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔یقینا تمہارے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے ،اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟ اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی اور تمہیں نادار پایا اور پھر مال دار کردیا۔ لہذا یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو، اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔”
اس کے بعد میں نے اپنی کتاب ‘نیل کا مسافر’ (جو کہ پہلے سے ہی زیر مطالعہ تھی) اسے پڑھی۔ لیکن تقریبا آدھا گھنٹہ ہی پڑھ سکی کہ نیند کی کیفیت طاری ہونے لگی۔نیند کی شدت میں اضافہ ہونے لگا اور پلکیں ایک دوسرے سے گلے ملنے لگیں جیسےآج (عید کے ۲۰ دن کے بعد) ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دے رہی ہو۔
بہرحال، دس بجے میں اپنے بستر پر بڑے اطمینان کے ساتھ لیٹ گئ۔ مجھے خیال آیا کے آج کی نیند میں سکون یقینی ہیں!! میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اچانک مجھے سورہ ضحی کی آیت یاد آگئی۔ ‘قسم ہے روزے روشن کی اور رات کی جب کہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے۔ "یقینا آج کی رات میں بہت سکون ہے”۔ میری زبان سے یہ الفاظ بے ساختہ جاری ہوئے ۔پھر مجھے دن کا خیال آیا، آج کی جانے والی تمام سرگرمیاں یاد آئی۔ "الحمدللہ! آج کا دن بھی بہت روشن تھا۔ آج کے دن کے اختتام میں رمضان کے ایام جیسا لطف تھا۔” پھر میں نے اللہ کی عطا کی گئی نعمتوں کا شکر ادا کیا۔ اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کی اور یہ عزم کیا کہ ان شاء اللہ، اسی طرح میں آگے کے تمام دن گزاروں گی اور سونے کی دعا پڑھی اور انہیں خیالات میں کہیں گم تھی کہ پتہ نہیں کب نیند کی آغوش میں چلی گئی۔۔۔۔
Like
Comment
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button