جہان خواتین

میرا خاندان میری عظمت

بشری ثبات روشن

کانپور

گھر یا خاندان کا نکھرنا یا بکھرنا یقینا مکمل طور پر کسی عورت کے وجود، اسکی سوجھ بوجھ، اسکی قربانیوں، اور اس کے ہم سفر کے ساتھ بہتر تال میل اور تعلق پر منحصر ہے۔
نپولین کا وہ جملہ تو سب کو یاد ہو گا۔ ” کہ تم مجھے بہترین مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دینے کے لیے تیار ہوں ۔ ”
تو ماں ایک ایسا پلر ہے جو اس خاندان کو سنبھالے رہتی ہے۔ لہزا مرد نے اگر اپنے بچوں کی پرورش کے لیے ایک جاہل اور پھوہڑ عورت کا یا غیر مسلم عورت کا انتخاب کیا تو اس کے بچے دیندار، سگھڑ اور باصلاحیت ہونے امکانات صفر ہونگے، تو خاندان کی ابتداء شوہر بیوی کے رشتے سے ہوتی ہے دین کے سارے رشتوں نے شوہر اور بیوی کے تعلق سے جنم لیا ہے. عورت ماں، بیٹی اور بہن بعد میں بنی ہے لیکن اپنی اولیں شکل میں عورت پہلے بیوی تھی، اس طرح مرد باپ، بیٹا بھائی بعد میں بنا ہے مرد کا پہلا روپ شوہر کا تھا۔اس لئے بیوی کا تعلق جتنا اچھا ہوگا خاندان بھی اتنا ہی اچھا ہوگا اور خاندان میں جتنی اچھائیاں ہونگی معاشرہ بھی اتنا ہی اچھا ہوگا ۔
مضبوط خاندان مطلب خوشحال زندگی جس میں بچے بڑے سبھی کی ضروریات پوری ہوتی ہوں سب ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں ۔ جہاں آئے دن روٹی اور رہائش کا مسلہ نہ کھڑا رہتا ہو، فیملی کا ہر شخص آسودہ ہو۔
تو ہم اچھا خاندان کیسے بنا سکتے ہیں؟ خاندان کو کیسے جوڑ کر رکھ سکتے ہیں؟ خاندان کی نشونما کیسے کیسے کر سکتے ہیں ؟ اس پر نظر ڈالنے ضرورت ہے

 خاندان کا ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔

اپنے گھر اور خاندان کی دیگر تمام مصروفیتوں پر ترجیح دے ، ہمارے دین اسلام نے بھی اہل خانہ کا خیال رکھنے، ان پر خرچ کرنے، اچھا سلوک کرنے میں اپنے گھر اپنے خاندان اپنے پڑوس کو ترجیح دینے کی ترغیب دی ہے، اپ کے مال اور اپ کے اچھے سلوک کے سب سے زیادہ حقدار اپ کے قریبی لوگ ہیں۔

 ایک دوسر ے کی حوصلہ افزائی

اپنے بچوں، بہن بھائیوں کو لعن طعن کرنے کے بجائے انکی ہمت بندھائیں، ، ان کے کاموں کو بے وقعت کرنے کے بجائے اپنے بچوں اور دیگر اہل خانہ کے کاموں کی قدر کریں ، ان کے کاموں میں اگر کوئی خامی نظر آئے تو اسکی نشان دہی ضرور کریں، لیکن خوئے دل نوازی کے ساتھ، اللہ اپنے نبی محمد ص کی خصوصیات بیان کرتا ہے، کہ "اے نبی ہم نے تمکو نرم خوں بنایا ہے ” اپنے متعلقین کے کاموں کو گھٹیا ثابت کرنے سے منفی اور مجرمانہ رجحانات جنم لیتے ہیں ۔

 عزت نفس

اپنے خاندان کا ماحول خوشگوار بنائے رکھنے کے لیے ہمیں ایک اہم چیز جو چھوٹے بچوں کے معاملے میں ہم بھول جاتے ہیں یاد رکھنی چاہیئے ۔کہ عزت نفس کا خیال ہمیشہ رکھیں چھوٹے بچے ہوں یا بڑے ۔ انکے دوستوں کے سامنے یا گھر کے باہر ان کے ساتھ ناراضگی میں بھی احسن طریقے سے پیش آئیں یہ خاندانی اور اچھے لوگوں کی پہچان ہوتی ہے۔ اکثر والدین بچوں کو انکے دوستوں کے سامنے بھی ڈانٹ پھٹکار شروع کر دیتے ہیں. جسکا بچوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔
.
پتھر تب تک سلامت ہے جب تک وہ پہاڑ سے جڑا ہے
پتہ تب تک سلامت جب تک وہ پیڑ کی شاخ سے جڑا ہے

انسان تب تک سلامت ہے جب تک وہ خاندان سے جڑا ہے خاندان سے الگ ہوکر آزادی تو مل جاتی ہے لیکن تہزیب. چلی جاتی ہے۔
اپنے اہل خانہ کی روحانی فلاح اور تربیت کا اہتمام کریں ان میں اللہ خوفی، نیکی، اچھائی، انصاف مساوات، ہمدردی، خیر خواہی، شراکت، نرمی اور مفاہمت کی عادتیں پیدا کریں دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کی عادت ڈال لیں جب بہت سے آدمی کنبے کے صورت میں ساتھ رہتے ہیں تو اختلاف ہونا اور ایک دوسرے سے ایزا پہنچنا لازمی ہے دنیا میں مکمل عدل ہونا ناممکن ہے لہزا خاندان کو جوڑے رکھنے کا کام درگزر اور برداشت کے علاوہ کسی اور طریقے سے ممکن نہیں ہے
محمد ص نے فرمایا تم اپنے رحمی رشتوں سے جڑ کر رہو تو الله تمہیں ایسے راستوں سے رزق دے گا کہ جسکا تمہیں تصور بھی نہیں ہوگا، صلاحیت بھی رزق ہے پیشہ بھی رزق ہے . اچھا کاروبار بھی رزق ہے لہزا خاندان کی مضبوتی کو اہمیت دیں ۔ اس طرح مضبوط خاندان، مضبوط معاشرہ، مضبوط قوم ، مضبوط ملک تشکیل پا سکتا ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button