Sliderسیرت رسولؐ

میرا پیمبرعظیم تر ہے ﷺ

 شازیہ عرش ماہ بنت نقیب خان

(عمرکھیڑ ،مہاراشٹر)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ ۞
اے محمدؐ، ہم نے تم کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا
(سورۃالأنبياء۔ ۱۰۷)
بقول شاعر:
سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا
سلام اس پر، جو امت کے لئے راتوں کو روتا تھا
سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے
سلام اس پر کہ جس کی ذات فخر آدمیت ہے
دورجاہلیت میں نورحق،تاریک ظلمت میں مثل روشن چراغ، مایوس دلوں کا غمگسار،وہ اعلیٰ درجہ کا نور ،جو نہ ساحرتھا نہ کذاب ،جو نہ مجنون تھا نہ شاعر۔ وہ انسان میں سے انسان کامل تھا اور یہ شان نبی اُمی،صادق و مصدق محمدﷺ کی تھی۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا۔ جو خاتم النبین ہے۔اللہ سبحانۂ و تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ۔
(لوگو) محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔
(سورہ الاحزاب ۔آیت نمبر۴۰)
خاتم النبین ہونے کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺکا ذکر خیر بعد کی نسلوں میں باقی اور محفوظ رکھا۔اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے۔
وَرَفَعۡنَا لَـكَ ذِكۡرَكَؕ ۔
اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا ۔(سورۃ الم نشرح۔۵)
اس آیت کے زمرے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دونوں جہاں میں ہر طرف محمد ﷺ کا ذکر بلندہے۔آپﷺ کی بہت ساری مثالیں موجود ہے۔جیسےنبوت ملنے کے قبل بھی آپ ﷺ نے تجارت کی تو اپنی صداقت، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سےعرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے سرفراز کیے گئے۔مقام محمود وہ مقام ہے جب ساری مخلوق آپﷺ کی تعریف کرے گی، شفاعت عظمی اور میدان محشر کے دیگر مواقف اس میں شامل ہیں۔نیز "وسیلہ” جنت کا ایک مخصوص مقام ہے جو اللہ کے نبیﷺ کے ساتھ خاص ہے(صحیح مسلم)۔
بقول شاعر:
ایک نام مصطفیٰ ہے جو بڑھ کر گھٹا نہیں
ورنہ ہر ایک عروج میں پنہاں زوال ہے
اس کے بالمقابل اللہ رب العزت نے نبی ﷺ کے دشمنوں کی ہی جڑ کاٹ دی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۔
تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔( سورۃ الكوثر۔۳)
محمد ﷺ نہ صرف قرآن کے مبلغ تھے بلکہ اس کے عملی نمونہ بھی تھے۔جوتمام امت مسلمہ کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے
لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيۡرًا (الاحزاب ٢١)
در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ۔
اس آیت کی نسبت سے سیرتِ سرورِ کائنات ﷺ کے زندگی کے چند نمایاں پہلو،بے مثال اخلاق اور عظیم الشان نقوش جو ہمارے لیے زاد سفر کی حیثیت رکھتے ہیں بطور تذکیر درج ذیل ہے۔ آپ ﷺ کی ذات میں فکر آخرت،دنیا سے بے رغبتی،دعوتی فکر،ملنساری ،بچوں سے شفیق،سخی و فیاض،رحمدل،مہمان نواز،یتیموں کے خیر خواہ،غریبوں پر مہربان، مظلوموں کے ساتھ انصاف،بے کسوں کا سہارا،دشمنوں کے حق میں دعائے خیر،ہمسایوں کی خبر گیری وغیرہ۔ آپ ﷺ سب سے بڑے بہادر، سب سے بڑے عاقل ودانا، عفو ودرگذر کے پیکر، سب سے زیادہ حیادار، امانت دار اور راست باز، سب سے زیادہ تکبر سے دور اور متواضع، سب سے زیادہ عہد کے پابند، چہرے پر ہمیشہ بشاشت، الغرض آپ بے نظیر صفات کاملہ سے آراستہ تھے۔ اپنی امت پر بے انتہا شفقت فرمانے والے اور ان کی بھرپور ہمدردی وخیرخواہی کرنے والے تھے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن پاک میں حضور نبی کریم ﷺ کے خلق عظیم کی عظمت یوں بیان فرمائی ہے
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ (سورہ قلم ۔۴)
اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو ۔
نبی کریمﷺ کے معمولات ِ زندگی کے متعلق حضرت عائشہؓ سے روایت ہے: ’’ آپ گھریلو کاموں میں اہل خانہ کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ مگر جب صدائے اذان بلند ہوتی، تو تمام کام چھوڑ کر مسجد تشریف لے جاتے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے حضور اکرم کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا توآپؓ نے فرمایا کہ "کان خلق القرآن”۔گویا آپ ﷺ قرآن کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔
نبوت کے بعد محمد ﷺ پر مشکلات کا لامتناہی سلسلہ جاری ہوگیاعزیز قرابت دار جو اب تک آپ ﷺ پر جان نچھاور کرتے تھے اب خود انہیں کے دشمنی پر اتر آئے ان آزمائش میں آپ ﷺ نے صبر واستقامت کی بے نظیر مثال پیش کی ۔دشمنانِ اسلام نے محمد ﷺ کو توحید کی راہ مصائب وآلام پیدا کیے، اذیتیں دی ،ستایا، جھٹلایا، بہتان لگایا، مجنون ودیوانہ کہا، ساحرو کاہن کہنے میں پیچھے نہ رہے۔ راستوں میں کانٹے بچھائے ،جسم مبارک پر غلاظت ڈالی، فانی ہو جانے والی چیزوں کی لالچ دی، جلا وطن اورقتل کی دھمکیاں دی، مقام طائف میں اوباش قسم کے نوجوانوں نے اس قدر پتھر مارے یہاں تک کہ آپ کے جوتیاں لہو سے سیراب ہوکر پیروں سے چسپاں ہوگئ۔
بقول شاعر:
وہ ابر لطف جس کے ساۓ کو گلشن ترستے تھے
یہاں طائف میں اس کے جسم پر پتھر برستے تھے
نیز آپ کے صحابہ کرام کو کفار مکہ نے ستایا انہیں ایسی سزا دی کہ ایک عام انسان یہ سوچ کر ہی اس کا دل پسیج کر رہ جائے۔
•حضرت مصعب بن عمیر مکہ کے ایک مالدار گھرانہ کے چشم و چراغ تھے اس قدر نازو نعم میں پرورش پائی لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی ماں اور خاندان کے دوسرے لوگوں نے آپ کو قید میں ڈال کر ایک عرصہ تک قید و بند کے مصائب نہایت صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہے اس قدر پرتکلف زندگی کے عادی نوجوان کو قید اور غریب الوطنی میں جس قدر مصائب میں زندگی گزارنی پڑی لیکن ان کے پائے استقلال میں کبھی ذرہ بھرلغزش نہ آئی۔
•حضرت ابو فکیہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اسلام کی دولت سے مالامال کیا۔ صفوان اور دوسرے کفار ان کو طرح طرح کی تکالیف دیتے تھے۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر زمین پر لٹا دیتے۔ اور اوپر وزنی پتھر رکھ دیتے تھے۔ تاکہ حرکت نہ کرسکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کا دماغ مختل ہوجاتا۔ سفاک ان کے پاؤں میں رسہ باندھتے اور گرم زمین پر گھسیٹتے ہوئے لیے پھرتے تھے مگر وہ نہایت صبر کے ساتھ ان کی سختیوں کو برداشت کرتے ۔
•حضرت زبیر بن عوام جب اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے تو آپ کے چچا نے کوشش کی کہ جبروتشدد کے ذریعہ ان کو ارتداد اختیار کرنے پر مجبور کیاجائے۔ چنانچہ وہ بدبخت آپکو ایک چٹائی میں لپیٹ کر ناک میں دھواں پہنچاتا تھا۔
نیز حضرت بلال ،حضرت عمار،حضرت خباب وغیرہ کو آزمائش کی بھٹی میں تپایا گیا۔لیکن ایمان کی حلاوت ان کے دلوں میں جاگزیں ہو چکی تھی جس بناء پر ان صحابہ کے پاۓ استقامت میں ذرا لغزش نہ آئی۔
کفار مکہ کی یہ تمام کوششیں صرف اس لیے تھی کہ کسی طرح حق کا قافلہ رک جائے، حق کی آواز دب جائے،لیکن اسلام اپنے قاعدے کے مطابق ابھرتا ہی گیا !۔۔۔۔
ان آزمائش کے متعلق خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ابتلاء وآزمائش میں جتنا مجھ کو ڈالاگیا کسی اور کو نہیں ڈالاگیا۔ اسی طرح آپ کے صحابہ پر جتنے مظالم ڈھائے گئے کسی اورامت میں نہیں ڈھائے گئے۔(ترمذی)
وہ معاشرہ جہاں آپ ﷺ نے توحید کی دعوت کا الم بلند کیا گویا شرک و بتوں کا گہوارہ تھا اور برائیاں اپنے عروج کو رسد کرچکی تھی۔ کفر، ضلالت ،جہالت، درندگی، حیوانیت، قتل وغارت گری، نہ عزت وعصمت محفوظ، نہ عورتوں کا کوئی مقام، نہ غریبوں کا‌کوئی خیر خواہ، شراب، بے حیائی، خود غرضی، مطلب پرستی، چوری، بدکاری،ظلم وستم، نا انصافی ، نفرت وعداوت وغیرہ غرض معاشرہ جہنم زار بن چکا تھا جب نبی ﷺنے صداۓ حق بلند کی تو یہ آواز نہیں تھی بلکہ وہ بجلی کا کڑکا ثابت ہوا۔
بقول شاعر-
وہ بجلی کا کڑکاتھایا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی
نئی اک لگن دل میں سب کے لگادی
اک آواز میں سوتی بستی جگادی
پڑا ہرطرف غل یہ پیغام حق سے
کہ گونج اٹھے دشت و جبل نامِ حق سے
نبی ﷺ کی غار حرا سے شروع ہونے والی تحریک ایک ایسے عظیم الشان انقلاب کا ذریعہ بنی جو محض ۲۳ سال میں عرب کا نقشہ بدلنے میں کامیاب و کامران ہوگئی ۔تاریخ گواہ ہے توحید کے دعوت کہ نتیجے میں خطۂ عرب ایک مثال بن گیا جہاں ظلم کا خاتمہ ہوا تو پوری دنیا کو یہاں سے انصاف کی نوید سنائی دینے لگی، سیکڑوں بتوں کے آگے جھکنے والی پیشانیاں وحدۂ لا شریک کہ آگے سجدہ ریز ہوگئ، جو عورتوں کو زندہ گور کرتے وہی اب ان محافظ بن گئے،عدل و انصاف ،صلہ رحمی،اخوت ،محبت،خیر خواہی وغیرہ نے ایک سماج کی تشکیل نو کی۔آپ ﷺ نے قلب وروح اور جسم وجان کی طہارت کی تعلیم دی اور طہارت کو نصف ایمان قرار دیا نیزصلوۃ و زکوٰۃ، صوم وحج اور دیگر بے مثال عبادات کی رہنمائی کی جس کے ذریعہ حقیقی سکون واطمینان اور سعادت ومسرت حاصل ہوتی ہے۔دین اللہ کی خاطر آپ ﷺ نے ہجرت کی جس میں محمد ﷺ نے دعوت اور عقیدہ کی خاطر ہر عزیز، مانوس و مرغوب شئے بے دریغ قربان کی جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ایک امی لقب نبی اور اس کےفداکاروں نے ایمان وتوحید کی تاریخ مرتب کرڈالی جہاں عدل وانصاف،مساوات،فتوحات ،حکمرانی کے مثالی اصول،فرض‌ منصبی کے لئے درکاراحساس ذمہ داری،عفت وپاکدامنی وغیرہ اخلاقی اقدار کو فروغ دیا ایسے انقلاب کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی جہاں فاتح قوم کا سردار فتح حاصل کر کے بھی گردن کو نیچے کرکے چلے اور اعلان عام کرے آج امان ہے جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جاۓ اسے بھی امن ہے
بقول شاعر:
جو اپنا دامن لہو میں بھر لے
مصیبتیں اپنی جان پر لے
جو تیغ زن سے لڑے نہتا
جو غالب آ کر بھی صلح کر لے
اسیر دشمن کی چاہ میں بھی
مخالفوں کی نگاہ میں بھی
امیں ہے صادق ہے معتبر ہے
میرا پیمبر عظیم تر ہے
اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمام کو اسوۂ محمد ﷺ پرعمل کرنے کی سعادت بخشے نیز روز محشر آپ کی شفاعت نصیب کریں۔
آمین یاذوالجلال والاکرام
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button