Sliderسیاست

وزیر اعظم مودی کی ہر تقریر انتخابی کیوں ہوتی ہے؟

معمولی مسائل پر وہ خاص توجہ دیتے ہیں جبکہ اہم مسائل کا ذکر تک نہیں کرتے۔

رشید انصاری

        15اگست کو لال قلعہ سے وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ اپنی ہر تقریر کو انتخابی رنگ دینے کی مہم وزیر اعظم نے حسب روایت برقرار رکھی۔ 2014ء سے قبل نریندر مودی نے اپنے اور اپنے پارٹی کے لئے جو انتخابی مہم شروع کی تھی لگتا ہے کہ دو بار پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے باوجود اب بھی وہ مہم جاری ہے۔ وزیر اعظم کی ہر تقریر خواہ وہ کسی جلسہ عام میں عوام سے مخاطب ہو یا پارلیمان میں تقریر کریں ہر جگہ اِن کی تقاریر واضح طور پر انتخابی نظر آتی ہے۔ جس میں اپنے اور اپنے پارٹی کے کارناموں (نام نہاد) کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کئے جاتے ہیں اور وعدوں کے سبز باغ بتائے جاتے ہیں۔ یہی وزیر اعظم نے لال قلعہ والی تقریر میں کیا جو دعوئوں اور وعدوں سے سجی ہوئی تھی۔ یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر نے گزشتہ ایک سال میں اپنی کامیابیوں اور عوام کی خدمت کا ذکر کیا جاتا ہے اور آئندہ کے لئے منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم نے اس روایت پر کبھی عمل نہیں کیا۔ معمولی مسائل پر وہ خاص توجہ دیتے ہیں جبکہ اہم مسائل کا ذکر تک نہیں کرتے۔

        وزیر اعظم کے نزدیک طلاق ثلاثہ پر مسلم عوام کی بھاری اکثریت کی مرضی کے خلاف قانون پاس کرانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے حالانکہ مسلم عوام کی بہت بھاری اکثریت اس قانون کو نہ صرف ناپسند بلکہ دین میں مداخلت تصورکرتی ہے۔ ان مسلم اور غیر مسلم خواتین کو وزیر اعظم لائق توجہ نہیں سمجھتے جن کو ان کے شوہروں نے چھوڑ دیا ہے اور لاکھوں نہ سہی ہزاروں غیر مسلم و مسلم خواتین اپنے شوہروں کے اس ظلم کا شکار ہیں۔ ایسے شوہروں میں ملک کی بعض اہم ترین شخصیات بھی شامل ہیں۔ یہ مظلوم خواتین کس کسمپرسی میں زندگی گزار رہی ہیں اور اپنے بچوں کی تعلیم دلارہی ہیں یا حالات نے ان کو مجبور کردیا ہے کہ ان کے بچے تعلیم سے محروم رہیں۔ ملک کے اس اہم ترین مسئلہ پر وزیر اعظم کی توجہ لازماً ہونی چاہئے جبکہ اِن باتوں سے وزیر اعظم کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ اسی طرح خواتین کے اور بہت سارے مسائل ہیں جس سے وزیر اعظم کو واقف ہونا چاہئے لیکن ہمارے وزیر اعظم کی خواتین سے دلچسپی ان چند درجن مسلم خواتین کی حدتک ہے جنہوں نے طلاق ثلاثہ کو غیرقانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا اور وزیر اعظم نے ان پر خصوصی توجہ ضرور دی لیکن اس کا مقصد مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کا راستہ نکالنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسی لئے بعض غیر مسلم خواتین حلالہ اور مسلم مردوں کی ایک سے زائد شادی پر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ مسلمانوں میں یہ خوف عام ہے کہ اب ان کا پرسنل لا دستور میں دی گئی تیقنات کے باوجود غیر محفوظ ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم پرسنل لا خطرہ میں ہے اور کامن سیول کورڈ کا نفاذ بہت جلد ہوسکتا ہے۔ کامن سیول کورڈ کا نفاذ آر ایس ایس کا دیرینہ مطالبہ ہے اور اب اسے بھاجپا پورا کرسکتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمانوں میں اپنے سیول کورڈ کے عدم تحفظ کے تعلق سے جو خدشات پائے جاتے ہیں وزیر اعظم اِن خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے لیکن مسلمان خواتین سے ہمارے وزیر اعظم اور بھاجپا کی اور چند نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے قائدین کی تمام ترہمدردی صرف اور صرف طلاق ثلاثہ اور ایسے مسائل سے ہیں جن میں مداخلت امت مسلمہ کو شدید ناپسند ہے۔

        دستور کی دفعہ 370 کی منسوخی کی بات کو وزیر اعظم اپنا ایک عظیم کارنامہ سمجھتے ہیں۔ کانگریس اور دوسری جماعتوں پر طنز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فرمایا جو کام دوسری جماعتیں 70 سال تک نہ کرسکی وہ ہم نے 70 دن میں کردیا۔ اس کو وہ اپنی ہمت و جرأت کا کارنامہ بتاتے ہیں جبکہ سچ بات تو یہ ہے کہ کہ کانگریسی جماعتیں ہوں یا اس کی ہم نوا جماعتوں ہوں یا اٹل بہاری واجپائی کے دورِ وزارتِ عظمیٰ کا دور ہوسب کو اپنی مسلم دشمنی کی ہمت و جرأت دکھانے کا شوق نہیں تھا بلکہ اِن کو مسلمانوں کے جذبات کا احساس تھا۔ دستور کی دفعہ 370 کی تنسیخ کو بھی وزیر اعظم ایک عظیم کارنامہ سمجھتے ہیں۔ اپنی بھاری اکثریت کے زور پر لوک سبھا میں کوئی بھی بل بی جے پی کیلئے پاس کروانا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ رہا راجیہ سبھا کا سوال راجیہ سبھا میں بی جے پی کی تائید کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی۔ اپنے لئے تائید حاصل کرنے کے لئے بی جے پی کچھ بھی کرسکتی ہے۔ کسی بھی حدتک جاسکتی ہے جس کا ذکر اس موقع پر مناسب نہیں ہے۔ دفعہ 370 کی تنسیخ سے کشمیریوں میں یہ خوف بجاطور پر پایا جاتا ہے کہ اب اِن کی جائیدادوں اور صنعتوں کو وہ تحفظ حاصل نہیں رہے گا جوکہ دفعہ 370 کے تحت حاصل تھا۔ وزیر اعظم کشمیر کو لوٹنے والے چند خاندانوں کا ذکر کرکے کشمیر میں ہوئی لوٹ مار کو اِن خاندانوں سے منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ ان ہی خاندانوں میں سے ایک خاندان کے ساتھ بی جے پی نے حکومت بنائی تھی اور کسی بھی خاندان کی لوٹ مار پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اِن خاندانوں کی لوٹ مار کو ختم کرنے کا اعلان وزیراعظم بہت زور و شور سے کرتے ہیں لیکن اِس بات کا عوام کو تیقن نہیں دیتے کہ وزیر اعظم کے مجوزہ ان خاندانوں کے بعد عوام کو سرمایہ داروں (بشمول وزیراعظم کے خاص دوست اور ساتھی امبانی اور اڈانی) کی لوٹ مار سے محفوظ رکھا جائے گا۔

        وزیر اعظم نے ملک کے ایک اہم ترین مسئلہ بیروزگاری کا کوئی ذکر نہیں کیا جبکہ اِس وقت ملک میں جتنی زیادہ بیروزگاری ہے اتنی گزشتہ 45برسوں میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ حیرت ہے کہ اتنے اہم مسئلہ پر وزیر اعظم کی نظر نہیں ہے۔ اسی طرح تعلیم کا ذکر وزیر اعظم نے کیا لیکن ملک بھر کے دیہاتوں میں سرکاری اسکولوں میں جو برا حال ہے اور جس طرح وہاں معیاری تعلیم مفلوج ہے اس کا بھی کوئی ذکر وزیر اعظم نے نہیں کیا۔ ملک کو معاشی ترقی کے میدان میں آگے بڑھانے کے لئے وزیر اعظم نے بڑے خوشنما اعداد و شمار پیش کئے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس وقت ملک جس بدترین معاشی حالت سے گذر رہا ہے اس کے باوجود چند سال میں اتنی زبردست ترقی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ہمیشہ کی طرح اور بھی بہت سارے وعدے کر ڈالے (جو ان کی عادت ہے) اور عوام کی توجہ زمینی مسائل سے ہٹاکر خوشنما وعدوں کی طرف مبذول کروادی۔ دیکھا جائے تووزیر اعظم تقریر میں وہ بات نہیں کی جو یوم آزادی کی کسی بھی تقریب میں ایک مدبر اور عوام کی حقیقی معنی میں خدمت کرنے والے وزیر اعظم کی تقریر میں ہونی چاہئے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button