Sliderسیرت رسولؐ

وما ارسلنک الا رحمتہ للعلمین

میسرہ عامر

ناندیڑ۔
بقول قران مجید محممد ساری انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گے ہیں ۔اسکے با المقابل پچھلے انبیا مخصوص علاقے کے لئے مخصوص قوم کے لئے مبعوث کے گے تھے ۔ضروری نہیں کے ہم اس آیت کو بغیر سمجھے بغیر غور و فکر کے مان لیں ۔۔کیونکہ قران خود اس بات کی دعوت دیتا ہے کے —–
افلا یتد برون القران
کیا یہ لوگ قران میں غور نہیں کرتے !!!
آئے ثبوت اکھٹا کرتے ہیں محمّد ساری انسانیت کے لئے رحمت اور ideal بنا کر بھیجے گے ہیں ۔کسی انسان کو ساری دنیا کا leader یا انسانیت کا ہمدرد اسی وقت کہ سکتے ہیں جب اسنے ساری تنگ و دو صرف اپنے گھر کے افراد پڑوسی ، رشتے دار محلے والے ملک و قوم کی ترقی کے لئے نہ کی ہو بلکہ اس کا مرکز ساری دنیا رہی ہو ۔
دوسری اہم ترین چیز اس کا اس ساری جدوجہد میں اپنا نجی ذاتی فائدہ پوشیدہ نہ ہونا ہی ریاکاری کا شبہ ہو بلکہ خالصتآ انسانیت کی فلاح اور انسانیت کا درد ہو ۔وہ اپنی کوشش میں دوسروں سے جو امید رکھتا ہوں پہلے اس کی اپنی زندگی میں موجود ہوں کیونکہ قرآن خود صاف الفاظ میں کہتا ہے ۔
"تم وہ بات کہتے کیوں ہو جس پر عمل نہیں کرتے "۔
اس شخص کی زندگی سرتاپا انسانیت کے لیے رحمت ہو جس نے اپنی ذات کے ساتھ کبھی کسی سے بدلہ نہ لیا ہو جس نے صرف معافی کا شیوا اختیار کیا ہو بلکہ اس سے آگے بڑھ کر احسان کا معاملہ بھی ہو ۔
یہ تھیں چند expectations اس شخص سےجسے ساری دنیا کے لئے رحمت اور آئیڈیل بنایا جائے۔آیۓ ہم چیدہ چیدہ نکات کے تحت محمد کی زندگی دیکھتے ہیں ۔
مندرجہ بالاexpectations کی سب سے پہلی چیز ہے ساری انسانیت کی فلاح کا احساس یا عام الفاظ میں احساس ذمہ داری کہہ سکتے ہیں ۔اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ذمہ داری کے تئںیں احساس ایک نہیں ہزاروں واقعات کے ذریعے ہم دیکھ سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری انسانیت کا غم اتنا زیادہ دامن گیر تھا کہ بیشتر رات کا حصہ آپ اپنے رب کے حضور کھڑے ہو کر گزارتے اور اپنی امت کی ہدایت کے لئے دعا کرتے رہتے ۔یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا ۔خود خالق کائنات کے اس فعل سے آپ کے دل کی حالت ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ
” اگر یہ ایمان( ہدایت )نہ لائیں گے تو کیا آپ غم کے مارے اپنی جان دے دیں گے ؟”
کتنا پیار بھرا سوال ہے یہ !!
ایک دوسرا واقعہ دیکھتے ہیں ایک مرتبہ اپنی ذمہ داری ادا کر کے تھکے ماندے اپنے گھر لوٹ کر بس لیٹےہی ہیں کہ قافلے کے گزرنے کی آواز سن کر اٹھ بیٹھتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں ۔ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ آپ ابھی تشریف لائے ہیں تھوڑی دیر آرام فرما لیجئے ۔
کتنا زبردست احساس ذمہ داری والا جواب ہے کہ —–
"اگر یہ قافلہ یہاں سے گزر جائے اور میں آرام کرتا رہوں تو قیامت کے دن اپنے رب کے حضور کیا ہر پیش کروں گا "۔۔
ہر لمحہ یہ فکر دامن گیر رہتی کہ کس طرح غروب ہوتی ہوئی انسانیت کو وقت پر پہنچا دوں۔ عفو و درگزر کی بے شمار مثالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں ملتی ہیں ۔واقعہ طائف کیا ہے ؟سراپا احسان تصور سے بالاتر واقعہ ۔طائف کے وہ لوگ جنہوں نے نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا انکار کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی کے لیے اوباش قسم کے بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑا دیے کہ پتھر مارے اور ہر طرح کی ایذا دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے اٹھاتے اور پھر نشانہ لگا کر پتھر مارتے ۔پوری طرح خون میں نہائے ہوئے جب ایک جگہ تھک کر بیٹھے زخموں سے چور چور اپنے رب سے التجا کر رہے ہیں رحمت خداوندی جوش میں آگئی جبرائیل علیہ السلام پہاڑوں کے فرشتوں کے ساتھ تشریف لائے ۔فرشتے نے درخواست کی کہ لبوں کو جنبش دیجئے پوری بستی کو پیس کر رکھ دوں ۔جو جواب ملتا ہے اسے وقت نے اپنے دامن میں محفوظ کرلیا۔ رہتی دنیا تک زمانہ یہ جواب اوروں سے سننے کے لیے تڑپتا رہے گا ۔لیکن ناامیدی اس کا دامن نہ چھوڑے گی۔ بجا طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بدلہ لے سکتے تھے لیکن امن کے اس پیکر نے صرف اتنا کہا
"ہو سکتا ہے ان کی آنے والی نسلیں ایمان لائیں گی "۔
دنیا میں اگر انسان سب سے زیادہ محبت کرتا ہے تو وہ ہے اس کے والدین ان سے ایک لمحہ کے لیے بھی الگ ہونا اسے گوارا نہیں ہوتا لیکن حضرت زید رضی اللہ کے الفاظ تاریخ دہرانے سے قاصر ہے ۔ایک معصوم بچہ صرف اس لیے اپنے والدین کے پاس جانا نہیں چاہتا کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سے زیادہ عزیز ہے کیوں ؟کیا کوئی جادو کیا گیا تھا جی ہاں وہ جادو ہی تو تھا جو دلوں کو موہ لیتا تھا غلطی ہونے کے باوجود کبھی کسی غلام کو نہیں مارا نہ بدکلامی کی نہ ہی کسی انسان کا دل دکھایا ۔اسی کا تو نتیجہ تھا کہ بات کرنے سے پہلے آواز آتی تھی۔ "آپ پر میرے ماں باپ قربان حکم دیجیے”۔اسی کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوگئے تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں خود اپنے دانت توڑ ڈالے ۔اسی ہی کا نتیجہ تھا کہ شوہر ،بھائی، بچے کی فکر نہیں پوچھاجا رہا ہے کہ”میرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس حال میں ہے ” ۔اسی ہی کا نتیجہ تھا کہ مقتل پر کھڑے کہہ رہے ہیں کہ یہ بھی مجھے گوارا نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کاٹاچبھے اور میں اپنے گھر آرام سے رہوں۔ اسی ہی کا نتیجہ تھا کہ وہی عمر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے ننگی تلوار لئے نکلا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال پر بے قابو ہو کر کہہ رہے ہیں کہ "جس کسی نے یہ کہا کہ محمد زندہ نہیں ہیں میں اس کا سر قلم کر ڈالوں گا”۔
کیا یہ الف لیلہ کی داستانیں ہے جو راقم الحروف نے بیان کی ہیں؟؟ جی نہیں!! یہ وہ حقائق ہیں جنہیں تاریخ دہرا نہ سکیں گی ۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی تھی ۔
ظالم سے لیا ظلم کا بدلہ نہ کسی وقت
مارا بھی تو اخلاق کی تلوار سے مارا
شاید اسی لیے غیرمسلم writerاپنی مشہور زمانہ کتابHundreds میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سرفہرست رکھتا ہے .
رحمت کے اسی پیکر نے اپنی ذات کے لئے کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ اپنے عزیز ترین چچا کا کلیجہ چبانے والی کو بھی معاف کر دیا۔ اپنے آبائی وطن سے شہر بدر کر دینے والوں کو طاقت اور قدرت رکھنے کے باوجود یہ کہا کہ
” جاؤ میں بھی تمہیں اس طرح معاف کرتا ہوں جس طرح یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو معاف کیا تھا”۔
اللہ تعالی ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اپنی زندگی میں اپنانے والا اور تمام باتوں پر عمل کرنے والا بنائے ۔
آمین ۔۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button