Sliderسیاست

 وکاس اور وشواس کے بجائے مندی اور بیروزگاری کے 100 دن

مندی اور بیروزگاری نامی دو بیٹیاں  پیدا ہوگئیں  جو اب 100 دن کی ہوگئی ہیں۔ وہ دودھ مانگتی ہیں تو سرکار ان کو کشمیر کی لوری سناتی ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

2014 میں انتخاب جیتنے کے بعد مودی سرکار نے ہاف سنچری یعنی 50 واں دن بھی منایا تھا لیکن اب کی بار وہ کب آیا اور کہاں گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ اس مرتبہ  سنچری مکمل کرنے پر جشن منانے کا فیصلہ  کیا گیا لیکن اسی کے ساتھ  تنقید کا پٹارہ بھی  کھل گیا۔ آگے بڑھنے سے قبل  وزیر اعظم کی کناڈا میں دی ہوئی ریاضی کی تمثیلقابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا الف  اور ب کو تنہا مربع  کرکے جمع کیا جائے تو الف مربع جمع ب مربع(a2 +b2 ) بنتا ہے لیکن اگر ترتیب الٹ کر پہلے مربع  اور بعد میں جمع کرنے  کے بجائے پہلے جمع اور پھر مربع کیا جائے تو اضافی 2 الف ب نکل آتا ہے یعنی (a+b)2  کرنے سے (a2+b2+2ab) ہوجاتا ہے۔ سوشیل میڈیا میں اس منطق کا خوب مذاق اڑایا گیا لیکن اس کو دوبارہ ایک نئے تناظر میں دیکھیں۔

  2019کے نتائج سے قبل مودی جی سرکار میں اور شاہ جی پارٹی میں تھے۔ دونوں کو مربع کیا جاتا تھا توم مربع جمع ش مربع(m2+s2 ) بنتا تھا۔ اب کی بار شاہ جی سرکار کے اندر آگئے یعنی م جمع ش مربع2 (m+s )  ہوگئے۔  اس ساتھ کےبعد نتیجے میں  2 م ش کےاضافہ یعنی وکاس اور وشواس نامی جڑواں بیٹے کے جنم لینے کی کی امید تھی لیکن ہوا یہ کہ مندی اور بیروزگاری نامی دو بیٹیاں  پیدا ہوگئیں  جو اب 100 دن کی ہوگئی ہیں۔ وہ دودھ مانگتی ہیں تو سرکار ان کو کشمیر کی لوری سناتی ہے۔ وہ روتی بلکتی ہیں تو پاکستان کا شور مچایا جاتا ہےاور تھک کر سوجاتی ہیں تو انہیں خواب میں   چنداماما  کی سیر پر  روانہ کردیا جاتا ہے۔  100 دن کے پورا ہونے پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس دوران وہ ایک شب بھی چین سے نہیں سوئے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں بعید نہیں کہ شاہ جی نے جن لوگوں کی نیند حرام کررکھی ہے ان میں راجناتھ سنگھ کا نام بھی ہو۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب کون سی فائل کھل جائے اور اپنے آپ کو ہریش چندر ثابت کرنے کے چکرمیں مودی جی ان کی بلی چڑھا دیں۔

مودی سرکار کے دوبارہ بننے کے بعد پہلے100 دنوں میں جیٹلی جی کے وکاس اور سشماجی کے وشواس کا بھی سورگ باس ہوگیا۔ اس دوران قانونی، انتظامی اور معاشی سطح پر تین اہم اقدامات کیے گئے۔  سب سے پہلے جموں و  کشمیر کی دفع 370 کا خاتمہ کردیا  گیا۔ اس کے بعد سے وہاں پر کرفیو نافذ ہے۔ 35 دنوں سے مواصلات کا نظام معطل ہے۔ ذرائع ابلاغ پر پابندی لگی ہوئی  ہے۔ نہ تو عید منائی گئی اور نہ محرم کے جلوس نکلے۔ گویا جنت نظیر وادی کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ کشمیر کو ہندوستان کے دیگر صوبوں کےمساوی  کردیا جائے۔ اس کا مطلب ہے  بھی ہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں کو کشمیر کے برابر کردیا جائے۔ یعنی آج جو کچھ کشمیر میں ہورہا ہے کل پورے ملک میں کیا جائے ۔ یہ سرکار اگر  100 سے 1000 دن مکمل کرلیتی ہے تو بعید نہیں کہ  پورا  ملک ایک بہت بڑی  جیل میں بدل کررکھ دیا جائے اس لیے کہ مودی ہے تو ممکن ہے۔ کشمیر کو کانگریس نے بڑی چالاکی سے عالمی منظرنامہ سے ہٹا کر ہندو پاک کا باہمی مسئلہ بنادیا تھا اورہر بین الاقوامی پر اس کو زیر بحث آنے سےروک دیا جاتا تھا لیکن مرکزی سرکار کی ایک حماقت نے اپنے پہلے 100 دنوں میں  اسے سلگتا ہوا عالمی مسئلہ بنادیا  ہے۔

 اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل کے 42ویں عالمی سیشن میں  کشمیر پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہائی کمشنر میچیل بیچیلیٹ نے حکومت کی 100ویں دن گرہ پر کہا کہ ‘‘ میں نےہندوستان  سے مطالبہ کیا ہے کہ (کشمیر میں) موجودہ لاک ڈاؤن اور کرفیو میں نرمی لائی جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولتیں مل سکیں۔ حکومت ہند کے حالیہ اقدامات سے کشمیریوں کے انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں اس پرمجھے شدید تشویش ہے، انٹرنیٹ، مواصلاتی نظام اور لوگوں کے پرامن طریقے سے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد ہے اور مقامی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں’’۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیراعظم  کے بین لاقوامی دورے سے لوٹنے پر دعویٰ کیا جارہا تھا کہ مسئلہ ٔ کشمیر میں ساری دنیا ہندوستان کے ساتھ ہے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے  کشمیر میں زیر حراست لوگوں کو اپنے دفاع کا حق دینے کا مطالبہ کرنے کے بعد یہاں تک کہہ دیا کہ  ‘‘ایسی فیصلہ سازی میں کشمیریوں کی رائے لینا  اہم ہے کہ  جس سے ان کا مستقبل جڑا ہو’’۔ یہ بیان  توامورِ خارجہ کے میدان  میں بھی  سرکاری ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

ریاست آسام میں 19 لاکھ لوگوں کی شہریت کی معطلی پر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق  میچل بیچیلیٹ نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ ان لوگوں کو قید یا جلاوطن نہ کیا جائے اور ان کے لیے باقاعدہ لائحۂ عمل تیار کیا جائے تاکہ وہ  شہریت کی محرومی سے بچ سکیں۔ اقوام متحدہ میں جس دن  یہ بیان دیا گیا اسی روز وزیر داخلہ امیت شاہ نے آسام میں اعلان کیا کہ کسی درانداز کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان  سب کو نکال باہر کرنے کے لیے ملک بھر میں  این آر سی نافذ کیا جائے گا۔ یہ اس حکومت کا  پہلے 100 دنوں میں سب سے بڑا انتظامی کارنامہ  ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ  سنگھ پریوار اور ریاستی حکومت بھی  این آر سی کی حتمی فہرست سے مطمئن نہیں ہے۔ جن 19 لاکھ لوگوں کی شہریت پر اقوام متحدہ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ان میں سے 13 لاکھ ہندو ہیں۔ اس میں سے 11لاکھ بنگالی اور دولاکھ دیگر زبانیں  بولتے ہیں۔ ممتا بنرجی کے مطابق ان میں سے ایک لاکھ گورکھا ہیں۔ سوال یہ ہےکہ کیا  شاہ جی آسام  کے خلفشار کو  سارے ملک میں پھیلاکرعوام  کو پریشان کرنا چاہتے ہیں؟  آسام کی ۳کروڈ آبادی کی این آر سی پر سولہ سو کروڈ سرکار ی روپئے خرچ ہوگئے۔ عوام کے  خرچ ہوئے اس کا کوئی حساب نہیں اب  ملک کے ایک سو تیس کروڈ باشندوں پر کتنا خرچ  ہوگا اور اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

کشمیر کا فیصلہ  اگست کے اوائل میں ہوا  اور آسام کا معاملہ اواخر میں لیکن درمیان میں یوم آزادی کے دن وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مودی جی نے ملک کے باشندوں کو پانچ ٹریلین  ڈالر کی اکونومی کا خواب بیچنے کی کوشش کی۔ یہ خواب ایک ایسی صبح کو فروخت ہورہا تھا جب ہندوستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے  منہ کے بل گرا جارہا تھا اور ہنوز وہ سلسلہ جاری ہے۔ پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے قومی پیداوار کی شرح (جی ڈی پی ) میں کم از کم ۸ فیصد کا اضافہ لازم ہے۔ پی ایم اوکے اقتصادی مشیر اس کے سات سے کم ہونے کی پیشن گوئی کررہے تھے لیکن جب اس سہ ماہی کے اعدادو شمار آئےتو مایوسیوں کا شکار ماہرین اقتصادیا ت بھی شرمندہ ہوگئے اس لیے کہ وہ صرف ۵ فیصد تھے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ پانچ ٹریلین ڈالر کی اکونومی کا سفر 5 جی  ڈی پی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ دفع تین سترّ کا  ہٹانے کا جو کام سترّ دنوں میں نہیں ہوسکا وہ سترّ دنوں میں ہوگیا تو عالمی سطح پر ہندوستانی معیشت  پانچویں مقام سے سرک  کر ساتویں پر آگئی۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیےسرکار نے  عوام کی توجہ چدمبرم کی جانب مرکوز کرواکر ریزرو بنک  سے اپنے خرچ کے لیے ایک لاکھ 76 ہزار نکلوا لیے۔ اس  طرح ان 100 دنوں میں حکومت  نے سرکاری خزانہ پر ہاتھ صاف کرنے میں  جو کامیابی حاصل کی ہے  اس کے لیے وہ   بجا طور پرمبارکباد کی مستحق ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button