Sliderسیاست

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا  نے شہریت ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے سٹی زن شپ ( امینڈمنٹ ) ایکٹ کے خلاف ایک پٹیشن داخل کرکے درخواست کی ہے کہ عدالت عظمی اس قانون کو کالعدم قرار دے۔ یہ پٹیشن پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ اس پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا  نے شہریت ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
نئی دہلی، 25 دسمبر 2019

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے سٹی زن شپ ( امینڈمنٹ ) ایکٹ کے خلاف ایک پٹیشن داخل کرکے درخواست کی ہے کہ عدالت عظمی اس قانون کو کالعدم قرار دے۔ یہ پٹیشن پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ اس پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ

• عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے اس لئے کہ یہ قانوں ملک کے آئین، اس کی روح اور بنیادی حقوق سے راست متصادم اور امتیاز و تفریق پر مبنی ہے۔

• درخواست گزار کے مطابق یہ قانون اپنے سیکشن 2B میں ھندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو مذہب کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے اور مسلمانوں کو اس سے مستثنی کرتا ہے۔ لہذا یہ قانوں دستور ھند کی دفعہ 14 سے راست متصادم ہے۔

• درخواست گزار کا کہنا ہے کہ دستور کی دفعہ 15 کلاس کی بنیاد پر قانون سازی سے منع کرتا ہے۔ لہذا یہ قانوں دستور کی اس دفعہ سے بھی متصادم ہے۔ لہذا اسٹیٹ کسی کو بھی شہریت مذہب کی بنیاد پر نہیں دے سکتی۔

• درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آسام کے جو ہندو 31 اگست 2019کو این آر سی میں شامل نہیں ہوسکے وہ اس قانون کی دفعہ 6B سے دوبارہ شہری قرار دے دئے جائیں گے لیکن جو مسلمان این آر سی سے نکال دئے گئے ان کے لئے اس قانوں سے دوبارہ شہریت حاصل کرنے کا کوئی موقعہ نہیں ہوگا۔ لہذا یہ قانون ظالمانہ ، یکطرفہ اور امتیاز پر مبنی ہے۔

• درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سٹی زن شپ امینڈمنٹ ایکٹ آسام اکارڈ 1985 کے خلاف ہے۔ لہذا یہ قانون علاقائی سالمیت، شناخت اور کلچر کے بھی منافی ہے۔

• درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حکومت ہند نے ملک گیر سطح  پر این آر سی کرانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ اگر دستاویزات کی عدم دستیابی کی بناء پر جو لوگ این آر سی میں شامل ہونے سے رہ جائیں گے، وہ اگر ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی ہوں گے تو انھیں شہریت ترمیمی قانوں 2019 کے سیکشن 6Bکے تحت شہریت دے دی جائے گی جب کہ وہ اگر مسلمان ہوں گے تو غیر ملکی اور غیر شہری قرار دے دئے جائیں گے۔ لہذا یہ قانوں دستور کی دفعہ 14 اور 15 کے منافی ہے۔

• درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک ایک سیکولر ملک ہے جس میں کسی بھی مذہب یا مذہبی گروہ کو دوسرے مذہبی گروہ پر فوقیت اور ترجیح حاصل نہیں ہے۔ تمام مذاہب کا درجہ برابر اور یکسان ہے۔ لہذا یہ قانون غیر سیکولر ہے اور دستور ھند سے متصادم ہے۔

• درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ قانون اقوام متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس ( UDHR) کی دفعہ 15 کے خلاف ہے جو ہر شہری کی شہریت کا حق تسلیم کرتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ کسی کو بھی من مانے طریقہ سے شہریت سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اس کے مطابق ہر شخص کو اپنی شہریت تبدیل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی اس دستاویز پر دستخط سبط کئے ہیں۔

• درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ قانون دستور ہند کی دفعہ 51 کے  بھی منافی ہے جو تمام ممالک سے برابری اور عدل و احترام کی سطح پر تعلقات قائم کرنے کی بات کرتا ہے۔

مذکورہ بالا وجوہات اور دلائل کی بنیاد پر درخواست گزار عدالت عظمی سے اپیل کرتا ہے کہ چونکہ موجودہ شہریت ترمیمی قانون دستور ہند سے متصادم، ملک کی تکثیری حیثیت اور رواداری پر مبنی پالیسی کے خلاف ہے لہذا اسے مسترد کردیا جائے۔

جاری کردہ
میڈیا کوآرڈی نیٹر

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button