اسلامیات

پھونکوں سے یہ چراغ بھجایا نہ جائے گا 

عبدالاحد ندوی

بلا شبہ امت اسلامیہ کا قرآن مجید کے بعد دوسرا علمی و بنیادی ماخذ ” احادیث نبویہ ﷺ ” ہے ، جو ایک ایسی صحیح میزان ہے جس میں ہر دور کے مصلحین و مجددین اس امت کے اعمال و عقائد ، رجحانات و خیالات کو تول سکتے ہیں ، اور امت کے طویل تاریخی و عالمی سفر میں پیش آنے والے تغیرات اور انحرافات سے واقف ہو سکتے ہیں ، اخلاق و اعمال میں کامل اعتدال و توازن اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا ، جب تک کہ قرآن و حدیث کو بیک وقت سامنے نہ رکھا جائے ، اس لئے کہ حدیث ہی نبی کریم ﷺ کی وفات سے پیدا ہونے والے اس خلا کو پر کر سکتی ہے ، اگر یہ حکیمانہ نبوی تعلیمات اور وہ احکام نہ ہوتے ، جن کا آپ نے امت کو  پابند بنایا تھا ، تو یہ امت افراط و تفریط کا شکار ہو کر رہ جاتی ، اور اس کا توازن برقرار نہ رہتا ، اور وہ عملی مثال موجود نہ رہتی ، جس کی اقتدا کرنے کی خدا تعالٰی نے اس فرمان میں ترغیب دی ہے :
لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة
در اصل سنت نبوی ﷺ اور حدیث رسول ﷺ ان تمام سیاسی افکار کی کھلی اور سخت تردید کرتی ہے ، جن پر مغربی تمدن کی عمارت کھڑی ہے ، اس لئے وہ لوگ جن کی نگاہوں کو مغربی تہذیب و تمدن خیرہ کر چکا ہے ، وہ اس مشکل سے اپنے آپ کو اس طرح نکالتے ہیں حدیث و سنت کا بالکلیہ یہ کہہ کر انکار کردیں کہ سنت نبوی کا اتباع مسلمانوں پر ضروری نہیں ، کیوں کہ اس کی بنیاد ان احادیث پر ہے جو ” عقل ” کے موافق اور قابل اعتبار نہیں ہیں ، اور اس مختصر عدالتی فیصلہ کے بعد ” انسانی عقل ” کی بنیاد پر قرآن کریم کی تعلیمات کی تحریف کرنا اور مغربی تہذیب و تمدن کی روح سے انھیں ہم آہنگ کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے .
جو لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ امت اسلامیہ کو اس حیات بخش ، اور ہدایت و قوت عطا کرنے والے صاف و شفاف سر چشمہ سے ( حدیث کے حجت ہونے ، اور اس کی قدر و منزلت میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے ذریعہ ) محروم کردیں ، اور اس پر سے امت کا اعتماد اٹھ جائے ، وہ اس عظیم نقصان سے شاید ناواقف ہیں ، جو اس امت کو پہنچا رہے ہیں ، وہ شاید نہیں جانتے کہ اپنی اس نا محمود کوشش سے وہ اس امت کو اپنی میراث سے محروم ، اپنے آغاز سے بے تعلق ، اپنی اصل سے سر گشتہ و حیران بنا رہے ہیں ، اور وہ معاملہ کر رہے ہیں جو یہودیت و مسیحیت کے دشمنوں نے ، یا انقلاب زمانہ نے ان مذاہب کے ساتھ کیا ، اگر وہ با ہوش و حواس یہ کام انجام دے رہے ہیں تو اس امت اور اس دین کا ان سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں ، کیوں کہ اس کے بعد نئے سرے سے پھر اس دینی ذوق کو وجود بخشنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہ جاتا ، وہ ذوق جو صحابہ کرام کا امتیاز تھا ، اور جو رسول الله ﷺ کی براہ راست صحبت ، یا اس حدیث پاک کے واسطے کے بغیر ( جو اس عہد کی سچی تصویر ، اس عہد کی کیفیات سے مملو ، اور اس کی عطر بیزیوں سے معطر ہے ) پیدا نہیں کیا جا سکتا .
 نوٹ : تفصیل کے لئے کتاب ” السنة و مكانتها في التشريع الإسلامي ” کا دوسرا باب ملاحظہ ہو ، جو مختلف ادوار میں سنت کے بارے میں کئے جانے والے شبہات کے بیان میں ہے ، ص ۱۲۳ – ۱۵۳ )
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button