ادبشخصیات

ڈاکٹر جگناتھ مشرا: ایک عظیم خادمِ اردو

ڈاکٹر صاحب اکیڈمیشئن ہونے کے باوجود انتہائی فعال قسم کے انسان تھے اور اپنی روشنی سے انہوں نے ریاست ہی نہیں ایک دنیا کو بھی منور کیا۔

شاہد حبیب

ڈاکٹر جگناتھ مشرا (1937 – 2019) کی عزت و توقیر ہمارے دیار (بلوا بازار، سپول) کے لوگوں کے دلوں میں اس وجہ سے زیادہ تھی کہ للت نارائن مشرا (1922-1975) کے چھوٹے بھائی اور ان کی سیاسی و سماجی  وراثت کے امین تھے۔ میں بھی ان کی عزت اسی حوالے سے کرتا رہا لیکن جب بہار کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اردو کی تاریخ کو بھی ملا کر پڑھنے کا موقع ملا تو دل میں کسی بھی سیاسی رہنما کے مقابلے میں ان کی توقیر نے اتنی جگہ لے لی کہ ان کے بعد اولیت کا سہرا کسی اور کے سر نہیں بندھ سکتا۔  اخبارات کے ذریعے ان کی وفات کی خبر پڑھتے ہی ذہن ماضی کے اوراق پلٹنے لگا جہاں ان کی کچھ یادیں بکھر کر کہیں دب سی گئیں تھیں۔

3 جنوری 2013 کی دوپہر کو اخبارات پلٹتے ہوئے ایک اشتہار پر نظر ٹک گئی۔ 3 جنوری 1975 کو ہی سمستی پور ریلوے اسٹیشن پر اس وقت کے وزیرِ ریل للت نارائن مشرا کی بم بلاسٹ میں شہادت واقع ہوئی تھی، اسی دردناک دن کو یاد کرتے ہوئے  ڈاکٹر جگناتھ مشرا ہر سال 3 جنوری کو ایک خصوصی اجلاس منعقد کرتے تھے۔ اور اس بار یہ پروگرام ڈاکٹر جگناتھ مشرا کی قائم کردہ للت نارائن مشرا انسٹی ٹیوٹ آف اکانومک ڈیولپمینٹ اینڈ سوشل جسٹس، پٹنہ میں منعقد ہو رہا تھا۔ چونکہ للت نارائن مشرا کی ذات سے ہمارے دیار کے سبھی باشعور شخص کو ایک مسرت آمیز تعلقِ خاطر کا احساس ہوتا ہے۔ اس لئے یہ اشتہار پڑھتے ہی میں بھی اپنے ایک شاگرد کے ساتھ پٹنہ ہائی کورٹ کی طرف چل پڑا، جس سے متصل ہی یہ انسٹی ٹیوٹ قائم ہے۔ پہنچا تو پروگرام شروع ہو چکا تھا اور اسٹیج پر ڈاکٹر جگناتھ مشرا جلوہ افروز تھے۔ کئی قابل مقررین کے بعد جب صدارتی تقریر کے لیے ڈاکٹر جگناتھ مشرا کے سامنے مائک لایا گیا تو سارا مجمع گوش بر آواز ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے للت بابو کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ دن مجھے ایک نئی توانائی کا احساس کراتا ہے اور سماج کے لئے بہت کچھ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جس طرح میرے آدرش اور میرے بڑے بھائی للت بابو نے دیش کی سیوا کرتے ہوئے اپنی جان نچھاور کر دی تھی، میں سوچتا ہوں، اس طرح تو میں دیش کی سیوا کرنے کا اہل نہیں ہوں لیکن جیتے جی کچھ تو ان ہی کی طرح کا کرانتی کاری کام مجھے بھی کر جانا چاہیے”۔ اس کے بعد انہوں نے دیش اور ریاست کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی صورتحال پر بلیغ انداز میں گفتگو کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حالات اتنے خراب ہیں کہ اگر للت بابو کی طرح ہی مخلصانہ کام نہ کیا جائے تو دیش ان چنوتیوں کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ آگے چل کر انہوں نے نتیش کمار کو امید کی ایک کرن کے طور پر یاد کیا تھا۔ ان کی یہ باتیں سنتے ہوئے میں ان کے کارہائے نمایاں اور ان کے انکسار کے مابین تال میل بٹھاتے ہوئے کہیں کھو گیا تھا۔ ایک ایسا شخص جو تین تین بار (1975 سے 1990 تک ) ملک کی ایک بڑی ریاست کا وزیر اعلی رہ چکا ہو اور جس کے زیرِ اشراف 20 سے زائد تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہوں، وہ بار بار للت بابو کو اپنا آدرش کہتے نہیں تھکتا، آخر بڑا کسے مانا جائے! ظاہر ہے ایسے میں دونوں ہی شخصیتیں دل میں اپنی ایک خاص جگہ بنانے لگتی ہیں۔

پھر کچھ ہی مہینوں کے بعد گاندھی میدان، پٹنہ کے آئی ایم اے ہال میں مقتدر سیاسی رہنما طارق انور نے جب ایک صحافی کی طرف سے بات چھیڑنے کے بعد یہ کہا کہ "ہاں یہ صحیح ہے کہ دہلی سے پٹنہ آتے ہوئے فلائٹ میں ڈاکٹر جگناتھ مشرا نے یہ پوچھا تھا کہ طارق صاحب! ایسا کوئی فارمولا بتائیں کہ ریاست کی ترقی کی راہ آسان ہو اور اقلیتوں کے اعتماد کو بھی جیتا جائے تو میں نے کہا تھا کہ آپ اقلیتوں کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کر لیں اور اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنانے کا اعلان کر دیں۔ اس سے تعلیم کی راہ ہموار ہو گی جس سے ریاست کی ترقی بھی ہوگی اور اقلیتوں کا اعتماد بھی جیت لیجئے گا، بات کو سمجھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے طارق صاحب آپ بے فکر ہو جائیں، یہ کام اب ہو کر رہے گا۔ اور پھر انہوں نے پٹنہ پہنچتے ہی اپنی کابینہ کی پہلی میٹنگ میں ہی یہ ریزولیوشن پاس کروا لیا”۔ طارق انور صاحب کی زبانی ان کی اس روشن خیال پالیسی کے بارے میں جان کر دل میں ان کی مزید توقیر پیدا ہو گئی۔ ان کے ذریعے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعد بہار، جموں و کشمیر کو چھوڑ کر ملک کی پہلی ایسی ریاست بن گئی جہاں اردو کو یہ باوقار درجہ حاصل ہوا۔ بہار میں برہمنی نظریے کی ذات پات کی پالیٹکس کے بیچ اردو کو یہ درجہ ملنا کس قدر مشکل تھا، اس کا آج اندازہ لگانا آسان نہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب خود ایک برہمن خانوادے سے متعلق ہونے کے باوجود جس طرح سے اس زبان کو اس کا جائز حق دلانے کے لیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے رہے اور اردو کو یہ مقام دلوا کر ہی مانے، یہ انہی کے دل گردے کا کام تھا۔ ورنہ تو ان سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی ایسے بزعم خود مسلمانوں کے بہت سے خیر خواہ اقتدار میں آئے لیکن یہ کارنامہ سرانجام کوئی نہ دے سکے۔ بلکہ آگے چل کر اردو کو سرکاری دفتروں میں رائج کرنے کے کام سے ابھی بھی اربابِ اقتدار جی چراتے ہی نظر آتے ہیں۔ ان کو بہار کے وزارتِ اعلی کی کرسی محترم عبدالغفور صاحب سے ملی تھی۔ جو خدمت عبدالغفور سے متوقع تھی وہ انجام پارہی تھی جگناتھ مشرا نام کے ایک برہمن سے۔ سچ ہے اللہ پاک جس سے چاہے جو خدمت لے لے اور جسے چاہے عزت بخش دے۔ اور یہ عزت تو ڈاکٹر جگناتھ مشرا کے ہی سر لکھی تھی۔ بہار میں اردو کو یہ مقام حاصل ہوتے ہی( 19 ستمبر 1980) پورے ملک کی دیگر ریاستوں میں اردو کو اس کا جائز حق دلانے کی مہم تیز ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اترپردیش، آندھرا پردیش اور دہلی میں بھی اسے یہ مقام حاصل ہوا۔ گویا ڈاکٹر جگناتھ مشرا ہی سبیل بنے دیگر ریاستوں میں اردو کو اس کا حق دلانے کی راہ میں۔

بہار اردو اکادمی( سن تاسیس: 1972) کے بجٹ میں اضافے کے ساتھ ہی بہار سرکار میں اردو ڈائریکٹوریٹ کے قیام اور ضلع و تحصیل کے دفاتر میں اردو مترجمین کی تقرری اسی ایک فیصلے کے ثمرات تھے۔ گویا ڈاکٹر صاحب کے اس ایک اقدام نے اردو کے لاکھوں گھروں میں بالواسطہ اور بلا واسطہ چولہا جلانے کا سامان فراہم کیا۔ یہ ساری  فتوحات اپنی جگہ، لیکن اردو والوں کی ایک حسرت رہ ہی گئی جو ڈاکٹر صاحب کے جیتے جی پوری نہ ہو سکی، وہ اردو کو عملاََ سرکاری زبان بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسا کب دیکھیں گے، یہ شاید کوئی نہیں جانتا۔ اگر ڈاکٹر صاحب کو مزید کچھ دنوں تک وزارت اعلٰی کی کرسی پر رہنے کا موقع ملا ہوتا تو شاید یہ مرحلہ بھی طے ہوجاتا، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔

ڈاکٹر صاحب اکیڈمیشئن ہونے کے باوجود انتہائی فعال قسم کے انسان تھے اور اپنی روشنی سے انہوں نے ریاست ہی نہیں ایک دنیا کو بھی منور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آخر عمر تک کئی اداروں( بشمول للت نارائن مشرا متھلا یونیورسٹی دربھنگہ، للت نارائن مشرا انسٹی ٹیوٹ آف اکانومک ڈیولپمینٹ اینڈ سوشل جسٹس، پٹنہ اور للت نارائن مشرا کالج آف بزنس مینجمنٹ، مظفر پور) کی سربراہی کے فرائض انجام دیتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کے عمل کو بھی جاری رکھا۔ آج ان کی جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں( بلوا بازار، سپول) میں تجہیز و تکفین کے لیے لایا گیا۔ لیکن کاش وہ زندگی میں بھی آبائی گاؤں اور علاقے سے اسی طرح رابطہ استوار رکھتے تو شاید ان کے برادر بزرگ للت بابو کی طرح وہ بھی اپنے دیار کی بہت کچھ خدمت کر جاتے اور علاقے کے باشندے ان کو للت بابو کی طرح ہی( للت بابو نے وزیر ریل کی حیثیت سے علاقے میں ریلوے کا جال بچھا کر بےپناہ محبتیں حاصل کر رکھی ہیں ) ٹوٹ کر پیار دیتے۔ مگر ایسا کم ہی محسوس ہو رہا ہے۔ڈاکٹر صاحب کا نام بہار کے بدنامِ زمانہ چارہ گھوٹالے میں بھی آیا اور عدالت سے سزا بھی ہوئی لیکن دیار کے لوگوں کا احساس ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی خاندانی شرافت کا ناجائز فائدہ ان کے ارد گرد منڈرانے والے لوگوں نے اٹھایا۔ ورنہ اگر یہ بات درست ہوتی تو آج ای۔ڈی ان کے پاس سے بھی بےنامی جائدادیں ضبط کر رہی ہوتی یا پھر وہ ملک سے فرار ہو کر عیش کی زندگی گزار رہے ہوتے اور گمنامی کی موت مرتے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ انہیں وطن میں ہی عزت کی موت نصیب ہو رہی ہے۔ بھلے ہی ڈاکٹر صاحب کا نام اس بدنامِ زمانہ گھوٹالے میں گھسیٹا گیا لیکن اس ایک داغ کے باوجود یہ حقیقت تاریخ میں رقم ہو چکی ہے کہ ایک نان اردو اسپیکنگ وزیر اعلی نے وہ کر دکھایا جو اردو اسپیکنگ وزیر اعلی بھی نہ کر سکے تھے۔ اس لئے بجا طور پر ان کو ایک عظیم خادمِ اردو کہا گیا ہے۔

 (مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں ریسرچ اسکالر ہیں۔)

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button