Sliderفکرونظر

کفیل اور کپل کا فرق

ایم.ایم. سلیم

آکولہ

ملک عزیز میں حالیہ دنوں میں کفیل اور کپل یہ دو نام ہر خاص و عام کی زبان پر ہے، اور ہر طرف اس کا چرچا بھی ہے۔کسی کے نامور ہونے میں دو چیزیں درکار ہوتی ہیں ایک تو اچھائی اور دوسری برائی۔ مذکورہ دونوں نام بھی چرچہ میں ہے تو ظاہر ہے یا تو اچھائی کی وجہ سے ہونگے یا برائی کی وجہ سے۔ہم نے اوپر میں جن دو ناموں کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے ایک تو اپنے اچھے کام کی وجہ سے چرچہ میں ہیں اور دوسرا اپنے برے کام کی وجہ سے مشہور ہے۔
غالباً پچھلے دو تین سالوں سے جو مسلسل سرخیوں میں رہنے والا جو نام ہے وہ ڈاکٹر کفیل خان کا ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب ستمبر 2017 میں اتر پردیش کے گورکھپور میں واقع بی. آر. ڈی. ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث کتنے ہی معصوم بچوں کو اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر کفیل گورکھ پور کے بی. آر. ڈی. ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹر تھے۔ لہٰذا انہوں نے انسانیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ذاتی خرچ سے آکسیجن کا انتظام کیا، بس یہی ان کا گناہ ہوگیا، تب سے ہی وہ سنگھی اور انسانیت دشمن حکومت کو ایک آنکھ نہیں بھا رہے ہیں اور آئے دن حکومت ان پر مظالم ڈھا رہی ہیں، اور یوں ان کی مشکلات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ پھر اس بات کا ہر طرف چرچہ بھی ہونے لگا کہ ایک ڈاکٹر نے اپنے ذاتی پیسوں سے آکسیجن کا انتظام کرکے بچوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تو ظاہر ہے اس میں حکومت کی نا اہلی کھل کر سامنے آگئی، پھر حکومت انہیں کیسے چھوڑ دیتی، اس کی سزا تو انہیں ملنی ہی تھی اس لئے حکومت نے انہیں وہاں سے برخاست کر دیا اور الٹا ان پر ہی لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ اور تقریباً آٹھ ماہ جیل میں گزارنے کے بعد انہیں اپریل 2018 میں رہائی نصیب ہوئی۔ لیکن ڈاکٹر کفیل اس الزام کو غلط قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گیس سپلائی کرنے والوں کے بل نہ ادا ہونے کی صورت میں آکسیجن کی کمی واقع ہوئی تھی، اورنتیجتاً بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اور حکومت اپنی اس نا اہلی کو چھپا رہی ہے۔ اور اس معاملے میں انہیں زبردستی گھسیٹا جا رہا ہے۔
اس کے بعد تو کفیل خان گویا ہیرو بن گئے،اسی اثناء میں بہار میں سیلاب آنے کی صورت میں ڈاکٹر کفیل نے وہاں مریضوں کے لئے مفت میڈیکل کیمپ لگائے جس سے سبھی سیلاب زدگان کو اور ساتھ ہی بہت سارے ایسے افراد کو فائدہ پہنچا جن کی ڈاکٹروں تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ یا پھر علاج کے لئے ان کے پاس معقول انتظام نہیں تھا۔ پھر دنیا نے وہ تصویر بھی دیکھی کہ کبھی کوئی گاڑی کو لٹک کر تو کبھی کیچڑ اور پانی میں لت پت ڈاکٹر کفیل مریضوں کی مدد کررہے ہیں، جس کی بناء پر وہ عوام کی آنکھوں کا تارا بن گئے اور حکومت کو کھٹکنے لگے۔ اب حالیہ دنوں میں ان پر یہ الزام لگا کر انہیں گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مظاہرے کے دوران اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔ حالانکہ اگر ان کے بیان کو سنا جائے تو اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ جس سے ان پر سنگین الزامات لگائے جائیں! لیکن اب تو حکومت نے حد ہی کردی ان پر اب این. ایس. اے. یعنی نیشنل سیکورٹی ایکٹ لگا دیا گیا ہے۔ یہ تو اب حکومت ہی بتائے کہ ان کے خلاف این. ایس. اے. لگانے کے پیچھے مقصد کیا ہے۔ انہوں نے آخر ایسا کونسا جرم کیا ہے؟
اب آئیے ہم دوسرے نام کا تذکرہ کرتے ہیں جو کپل مشرا کا ہے۔ کپل مشرا پہلے عآم آدمی اور بی جے پی کے ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں۔ اور ان کا شمار دہلی بی. جے. پی. کے لیڈروں میں ہوتا ہے۔ ان کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب انہوں نے اپنی زبان سے زہر اگلنا شروع کیا۔ کیونکہ وہ حالیہ دہلی اسمبلی کا الیکشن تو ہار چکے ہیں، تو ظاہر ہے کوئی کام ہی نہیں رہا تھا اس لئے اب یہی کام کرنا ہے۔ تو شروع ہوگئے۔ دہلی انتخابات کے دوران انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ آٹھ فروری کو دہلی کی سڑکوں پر ہندستان اور پاکستان کا مقابلہ ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے شاہین باغ میں شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہرہ  کو لےکر’منی پاکستان’ کا ذکر کیا تھا۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے سی. اے. اے. کی حمایت میں بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے دہلی پولس کو برسرعام متنبہ کیا تھا کہ اگر سی.اے. اے. کے خلاف مظاہرین کو راستہ سے نہیں ہٹایا گیا تو وہ لوگ کسی کی بھی نہیں سنیں گے، وہ مزید کہتے ہیں کہ’’جب تک امریکی صدر ٹرمپ ہندوستان میں ہیں، ہم علاقے کو امن کے ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم آپ (پولس) کی بھی نہیں سنیں گے۔‘‘۔ اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کا بیان انہوں نے پولس کی موجودگی میں دیا۔ جس کے سارے ریکارڈ اور ثبوت ساری دنیا کے سامنے موجود ہیں۔
اب ذرا ہم کفیل اور کپل کا فرق سمجھ لیتے ہیں۔ ڈاکٹر کفیل یہ صرف ایک ڈاکٹر کا نام نہیں ہے بلکہ تعصب، مذہبی منافرت کا شکار بنتا ایک بے قصور، اور سچا و ایماندار، مسلمان، اور ذمہ دار ہندوستان کا شہری ہے جو آئے دن حکومتی عتاب کا شکار ہورہا ہے، لیکن پھر بھی عزیمت کی مثال بنا ہوا ہے۔ اور اپنے محاذ پر ڈٹا ہوا ہے۔ چونکہ ڈاکٹر کفیل سب سے پہلے تو مسلمان ہیں۔ اور بات دراصل یہ ہے کہ اس ملک میں بٹوارے کے بعد سے ہی یہاں کے مسلمانوں کو شک کی نظروں سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ ان کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے اور ہمیشہ سے ان کے ساتھ دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔اگر ہم ڈاکٹر کفیل کا معاملہ دیکھے تو محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کفیل نے ایسا کوئی بھی کام نہیں کیا کہ جس کی بناء پر انہیں جیل میں ڈال دیا جائے اور ایف آئی آر بھی درج ہو، ان کی فیملی کو ستایا جائے، اور یہاں تک کہ ان پر این. ایس. اے.بھی لگا دیا جائے۔ جبکہ اگر ہم کپل مشرا کی حرکتوں پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے بیانات کس حد تک ملک کی سالمیت و جمہوریت کے لیے خطرناک ترین ہے۔کپل مشرا پولس کی موجودگی میں سر عام اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں پھر بھی ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، کیونکہ وہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولس ڈاکٹر کفیل کے بیان کو مذہبی منافرت پھیلانے کا سبب مانتی ہے حالانکہ ان کے بیان کے بعد ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا کہ جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ ان کا بیان حقیقت میں مذہبی منافرت پھیلانے والا ہو، جبکہ اس کے برعکس کپل مشرا کے بیان کے بعد تشدد بھڑک اٹھتا ہے، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ اب اسے پولس کی بے بسی، حکومت کی پشت پناہی، لاپرواہی، یا انصاف کا خون۔ کیا سمجھا جائے؟

کفیل اور کپل کا فرق یہ بھی ہے کہ اگر آپ کفیل ہے دم توڑتے بیمار بچوں کو بچاتے ہیں تو آپ مجرم ہے، اگر آپ کفیل ہے اور بے بس غریب سیلاب زدگان کی مدد کررہے ہیں تو آپ ملزم ہے، اگر آپ کفیل ہے اور سی.اے.اے. جیسے کالے قانون کی مخالفت میں بیان دیتے ہیں تو آپ دیش کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ لیکن اگر آپ کپل ہے اور اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں تو پہلے دیکھنا پڑے گا کہ یہ بیان اشتعال انگیزی کی صورت میں آتا ہے یا نہیں، اگر آپ کپل ہے اور پولس کے سامنے سر عام دھمکی دیتے ہیں تو آپ پر ایف. آئی. آر. داخل کرنے سے پہلے پولس کو شاید کسی حکم نامے کا انتظار کرنا ہوگا! اور یہ نئے ہندوستان کی تصویر ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے کمزوروں کو دبانا چاہتی ہے، جو کوئی اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے خاموش کرنا، کچلنا چاہتی ہے، اور دوسری طرف اپنے ہم نواؤں کو کھلے عام چھوٹ دے رہی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ ان کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button