اسلامیات

کلام اقبال سے مرد مومن کی تصویر

ممتاز بیگم

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا 

 

 ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
 کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان

اردو کے مشہور اور انقلابی شاعر ، شاعرِ مشرق ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یہ شعر جب بھی میں پڑھتی ہوں تو میرے ذہن کے دریچوں پر تاریخ اسلام کے وہ صفحات بکھر جاتے ہیں جن پر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت ،اُن کی شخصیت ، اُن کے اخلاق اور اُن کے اوصافِ حمیدہ اور اُن کا کردار رقم ہیں ۔

 اس شعر میں علامہ اقبال نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں ایک مومن کی شخصیت بیان کی ہے کہ مومن حقیقت میں وہ ہے جو اسم بامسمّٰی ہو۔ یعنی وہ محض نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ وہ اللہ تعالی کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنے والا اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت کرنے والا اور قرآن و حدیث کے سانچہ میں ڈھلا گیا پیکر ہو۔ اُس کی ذات سے اللہ کے دین کی اشاعت ہو۔ وہ ہمہ وقت ایک ہی آن بان اور شان سے رہتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کے احکامات کے مطابق قرآن کریم کے ابیان کردہ مومن اور اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ ہوتا ہے۔ پھر کیونکر نہ اس کا انداز شاہانہ ہوگا، پھر کیونکر نہ اس کا انداز دلبرانہ ہوگا۔

 یہاں علامہ اقبال نے مومن کی دو خصوصیات ایک کردار اور دوسرے گفتار کا ذکر کیا ہے

 آئيے پہلے ہم مومن کے کردار کا جائزہ لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان کے عمل سے اس کے کردار کا پتہ چلتا ہے۔ یعنی کہ مومن کا ہر ایک عمل اللہ کے حکم کے عین مطابق ہوتا ہے۔ وہ فرائض کو ذمہ داری اور سنتوں کو عقیدت کے ساتھ ادا کرنے والا ہوتا ہے۔ ہر دم احتساب کا خوف اس کے دل میں ہوتا ہے اور اللہ کے احکام کی حکم عدولی سے اس کا دل کانپتا ہے۔ شیطان کے راستے کی پیروی ہرگز نہیں کرتا۔ ولَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ اللہ کے احکامات کو جاننے کے لیے اللہ کی کتاب سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر زندگی گزارنے کے لیے حدیث کی روشنی حاصل کرتا ہے ۔ چنانچہ اس رہنمائ کے مطابق اور اس روشنی میں اپنی شخصیت کو بدلتا ہے۔

 اس بات پر اسکو یقین محکم ہوتا ہے کہ

گر اس (نبیﷺ) سے کچھ بھی اعقیدت ہے اُس کو اپنا وطیرہ بدلنا پڑے گا

 نفاق زبان و عمل سے گزر کر صداقت کے سانچے میں ڈھلنا پڑے گا۔

 وہ آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ آخرت کی تیاری دنیوی کامیابی کی ضامن ہے۔ چنانچہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس زندگی کو گزارتے ہوئے دنیوی اور اُخروی زندگی کی کامیابی کے لیے کوشاں اور دعاگو رہتا ہے۔ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

 وہ اللہ پر توکل کرتا ہے۔ وَ مَنْ یتَوَکلْ عَلَی اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

 وہ ہر گز بھی کسی غیر کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔ اور نہ کسی دوسرے سے امیدیں وابستہ رکھتا ہے۔ اور نہ کسی اور کے آگے سرجھکاتا ہے۔ اس کا سر صرف اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے۔

 جو مانگنا ہے خدا سے مانگو وہی بناتا ہے قسمتوں کو

 ہر ایک در پہ جبیں جھکا کر نصیب کو در بدر نہ کرنا

 وہ خود اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے ور اس کے ساتھ اللہ کے تمام بندوں کو اللہ کی پہچان کرانے اور اللہ سے جوڑنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ خیر امت کا کردار نبھاتے ہوئے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے۔

 تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ 

 اس کے معاملات عین حق پر ہوتے ہیں۔ وہ وعدہ کرتا ہے تو وفا کرتا ہے۔ عہد کرتا ہے تو ایفا کرتا ہے۔ جب فیصلہ کرتاہے تو حق پر کرتا ہے۔ روزی کمانے نکلے تو حلال کماتا ہے۔

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔

 وہ جب خرچ کرتا ہے تو تمام حقداروں کا خیال کرتا ہے۔ اسے اپنا حق لینے سے زیادہ اپنے فرائض ادا کرنے کی فکر لاحق رہتی ہے۔

اسے بے ایمانی دغا، دھوکہ وغیرہ سے سخت نفرت ہوتی ہے۔ ایمانداری، امانت داری اس کی پہچان ہوتی ہے۔ وہ ریا سے پاک ہوتا ہے اور خلوص نیت سے اللہ کی راہ میں اللہ کے بندوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے۔

 وہ اللہ ہی کے لئے اللہ کے بندوں سے محبت کرتا ہے

 خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

 میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

اُسکے دل میں کسی مومن کے لئے نہ کینہ ہوگا نہ بغض ہوگا نہ حسد ہوگا نہ بدگمانی

 وہ بے صبرا اور جلد باز نہیں ہوتا صبر و استقامت اس کی شخصیت کا خاصہ ہوتا ہے۔

  مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ بھی یاد آتی ہے ۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، جب اسے کوئی خیر پہنچتا ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اور اسے کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے۔ گویا وہ ہر حال میں اللہ سے راضی اور اللہ اس سے راضی

اس کے عزائم اور ارادے پختہ اور فولادکی طرح مضبوط ہوتے ہیں ۔ اُس کے حوصلے بلند ہوتے ہیں ۔ وہ بزدل اور پست ہمت اور کمزور نہیں ہوتا۔ وہ حق اور راستی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا رہنے والا ہوتا ہے اور باطل سے گھبرا کر کبھی اپنا راستہ نہیں بدلتا۔

 عزائم کو سینوں میں بیدار کردے نگاہ مسلماں کو تلوار کردے

 سب سے اہم بات کہ وہ مستقل اپنی تربیت تزکیہ اور اصلاح کی فکر میں رہتا ہے۔ وہ اپنا آج کل سے بہتر اور آنے والا کل آج سے کہیں زیادہ تابندہ و درخشاں بنانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

                                                                قَدْ أَفْلَحَ من زکٰ٘ھا

 یہ وہ کردار جس کا شاعر نے اس شعر میں تذکرہ کیا ہے۔

آئیے اب ہم اس کے گفتار پر ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔

 مومن کی گفتگو کا بھی ایک الگ ہی انداز ہے۔ صداقت، نرمی، بردباری، عاجزی و انکساری، اور سادگی وغیرہ اس کی گفتگو کا خاصہ ہوتا ہے۔ اس کی گفتگو میں جھوٹ، ریا، خودپسندی، غرور، تمسخر اور طنز وغیرہ کی ڈرا سی بھی جھلک نہیں ہوتی۔ اس طرح اگر ایک جملے میں بیان کریں تو مومن وہ ہوتا ہے جو "قالَ أسلمتُ ” کے مثل اللہ کے احکامات پر سرِتسلیم خم کرتے ہوئے اللہ سے قریب اور قریب تر ہوتے ہوئے اسے راضی کرنے کی تگ و دو اور سعی میں لگا رہتا ہے۔

قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو خُلقِ عظیم فرمایا گیا اور آپ کی سیرت مبارکہ کو ہمارے لیے اسوۂ حسنہ قراردیا گیا ہے

لقد کان لکم فی رسول اللہ أُسوۃُٗ حسنةُٗ

ایک بندۂ مومن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی إتباع ہی میں دنیوی اور اُخروی کامیابی حاصل ہوگی۔

اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے اس سلسلے کا ایک اور شعر جو اس کی عکاسی کرتا ہے ، عرض کرنا چاہوں گی کہ

  یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

 اللہ سے دعا ہے کہ مجھے اور آپ کو ایسا مومن بنائے جو دونوں جہانوں میں فلاح پانے والا ہو۔آمین۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button