اسلامیات

کہانی میں سبق

قلم از  : ڈاکٹر نکہت عروج (اکولہ)

ایک گھر میں چار بھائی رہتے تھے گھر جنگل سے بہت قریب تھا گھر کی چاروں طرف ایک ایک دروازہ تھا ۔ چاروں بھائی ضروریات جانتے تھے لیکن اکثر ایک دوسرے سے امید لگاتے تھے کہ وہ پورا کریں گے ۔ ایک دن ایک موذی جانور گھر میں آگیا ۔۔۔ مواقع بہت تھے کہ اپنی جان بچاسکتے یا کم از کم موذی جانور کو مار سکتے تھے لیکن وہ چاروں ایکدوسرے کو موردالزام ٹھہرانے لگے کہ تیری وجہ سے موذی گھر میں آگیا ہے اگر تم اپنا دروازہ بند رکھتے تو ایسا نہ ہوتا ۔۔۔۔ چاروں جانب سے صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی کے علاوہ کوئی اور آواز نہ آئی موذی جانور ایک ایک کو اِیذا پہنچاتا رہا لیکن کوئی بڑھ کر ترکیب نہ کرسکا ہوا یوں کہ چاروں مرگئے ۔۔۔۔ موذی جانور وہیں رہنے لگا ۔۔۔ قریب وجوار کے لوگ آتے وہ بھی چاروں بھائیوں کا ذکر کرتے اور ایک دوسرے کی غلطیوں کا ذکر کرتے اور چلے جاتے ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے انسانوں کا گھر موذی جانوروں کا گھر بن گیا ۔ ایک دن اس گھر کے قریب سے عقلمند لوگوں کا قافلہ آیا ۔۔۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ یہاں چاروں بھائی رہتے تھے ۔۔۔ لاب لاب لاب۔۔۔۔۔ پوری کہانی سنانے لگے ۔۔۔ ایک عقل مند نے کہا کاش ایذا پہنچانے والے کا گھر آنے سے پہلے چاروں ہوش کے ناخن لیتے یا پھر کم از کم ایذا پہنچانے والا آگیا تو ترکیب کرتے نہ کہ ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہراتے اگر وقت کی نزاکت نہیں سمجھوں گے تو موذی زندگی جینا محال کرتا ہی رہے گا ۔
ذہنی، فکری، علمی، عملی جسمانی روحانی و سماجی ایذا رسانی کرنے والے ہمیشہ آتے رہیں گے ۔ اگر ملت واحدہ Blame game نہ کھلیں بلکہ خود کو اور دوسروں کو بچانے کی فکر کریں تو کوئی موذی ہو یا ملعون ایذا نہیں پہنچا سکتا۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button