Sliderمتفرقات

کیا ریگنگ ظلم نہیں ؟؟؟

   امت کے مسائل پر گھنٹوں تبصرہ کرنے والے ہمارے نوجوان کس دنیا پر فخر کرتے ہیں کہ جس کا بہترین  مشروب مکھی کا تھوک (شہد) ہے اور بہترین لباس کیڑے کا تھوک ( ریشم) ہے ۔ (شیخ سعدی شیرازی رح)

کیا ریگنگ ظلم نہیں؟؟؟

ایم۔ایم۔سلیم۔(آکولہ)

9975783737

       ریگنگ کا نام سنتے ہی پہلی مرتبہ کالج میں داخل ہونے والے. طلباء پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور انہیں ایک عجیب طرح کا ڈر اور خوف محسوس ہونے لگتا ہے کہ نہ جانے کالج کا پہلے دن کیسا ہوگا؟ کیا ہوگا؟ کن لوگوں سے سامنا ہوگا؟ کس طرح کے سینئرس ملیں گے؟ اساتذہ کیسے ہونگے؟ ہمارے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا ہوگا؟ وہ ہمارے ساتھ کس طرح  پیش آئیں گے؟ ہمیں ان کے ساتھ کس طرح رہنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ چند ایسے سوالات ہیں جو پہلی مرتبہ کالج میں داخل ہونے والے طلباء کے ذہن میں آنے لازمی ہیں ۔ حالانکہ  یہ طلباء ریگنگ  جیسے غیر انسانی عمل کے عملی تجربے سے بھلے ہی نہ گزرے ہوں لیکن انہوں نے اخبارات، ٹی وی، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے ریگنگ کو بہت  پہلے ہی جان لیا ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کے دل و دماغ پر ایک خوف سا طاری ہوتا ہے، لیکن اب انہیں یہاں عملی تجربے سے گزرنا ہوتا ہے۔ اور انھیں اس کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔

           آج کل ہر طرف ریگنگ کا مسئلہ درپیش ہے، اس میں کالج کے سینئر طلباء ملوث ہوتے ہیں۔ اس میں دوسرے مذاہب کے طلباء کے ساتھ ساتھ خاص طور پر وہ مسلم طلباء بھی ملوث ہوتے ہیں جنہیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ "تم میں سے کوئی منکر کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ کی طاقت سے بدل دے۔ اگر کوئی یہ طاقت اپنے اندر نہ رکھتا ہو تو وہ اپنی زبان سے کام لے۔ اور اگر کوئی اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو وہ اپنے دل میں اسے برا سمجھے۔ اور یہ ضعیف ترین ایمان ہے‘‘۔ (مسلم۔ عن ابی سعید الخدریؓ)

      ایک طرف تو ہمارے نوجوان امت کے مسائل پر گھنٹوں تبصرہ کرتے ہوئے نہیں تھکتے، اور دوسری طرف وہ نئے طلباء جو کالج میں داخلہ لیتے ہیں، جن کا کوئی نہیں ہوتا، وہ  بے سہارا ہوتے ہیں، سہارا ڈھونڈتے ہیں کہ شاید کوئی اپنا مل جائے، لیکن انہیں تو یہاں سزا ملتی ہے. یہاں تو سینئیرس اور جونیئرس کی بات ہوتی ہے کہ پہلے ہم یہاں کالج میں آئے ہیں اس لیے یہاں پر ہماری چلے گی ، ہم یہاں دو سال، تین سال سے پڑھائی کر رہے ہیں اس لیے اب آپ کو ہمارا حکم ماننا پڑے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

         امت کے مسائل پر گھنٹوں تبصرہ کرنے والے ہمارے نوجوان کس دنیا پر فخر کرتے ہیں کہ جس کا بہترین  مشروب مکھی کا تھوک (شہد) ہے اور بہترین لباس کیڑے کا تھوک ( ریشم) ہے ۔ (شیخ سعدی شیرازی رح)۔

 کیا امت مسلمہ کے ان نوجوانوں کو میرے آقا رحمت للعالمین کا وہ قول یاد نہیں کہ یہاں نہ کوئی گورا ہے اور نہ کوئی کالا ہے، یہاں نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت ہے اور نہ کسی عجمی کو عربی پر، پھر وہ کس اکڑ سے کہتا ہے کہ میں یہاں سینیئر ہوں، میں جیسا کہوں گا ویسا ہی کرنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

       جس چیز کو ہمیں کرنے سے روکا گیا اور دوسرے کو بھی کرنے سے روکنے کو کہا گیا آج ہم وہ خود دوسروں کے ساتھ مل کرکر رہے ہیں۔ کیا اسلام اس چیز کی اجازت دیتا ہے؟

 کالجوں میں ریگنگ کا مسئلہ دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اور اس کے نتائج بہت خطرناک طور پر منظر عام پر آرہے ہیں۔ حالانکہ اس پر قانون بھی بن چکا ہے, لیکن کبھی بھی عمل نہیں ہوتا۔ کیوں کہ ہوتا یہ ہے کہ نئے طلباء کالج انتظامیہ، اور سینئرس کے ڈر اور اپنے مستقبل کی فکر کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، لیکن اس کے نتائج بعد میں ظاہر ہوتے ہیں۔  کتنوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے کہ وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے سے پہلے ہی زندگی کو ختم کر دیتے ہیں۔ کوئی اپنی پڑھائی سے ناطہ توڑ لیتا ہے اور کوئی زندگی سے۔  جس کی مثال ہمارے سامنے پائل تڑوی کا معاملہ ہے۔ کہ کس طرح ایک ہونہار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طالبہ کو اسی ریگنگ کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہ ممبئی کے مشہور و معروف نائر اسپتال میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کی طالبہ تھی۔ پائل کا تعلق بھیل قبیلہ سے تھا، اور اس قبیلہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی وہ پہلی خاتون تھیں۔ نہ جانے اس کے کیا کیا خواب ہوں گے۔ جس طرح پائل کی جھنکار پر لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں اسی طرح اس پائل کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس کے ماں باپ بھی خوش ہوتے ہونگے۔ نہ جانے ان کے بھی کتنے خواب مٹی میں مل گئے ہوں گے ۔ ان کے گھر میں روحانی طور پر بجنے والی پائل کی جھنکار اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔ اسی طرح کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے کہ انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس میں ایم۔ اے۔ ہیومینیٹیز و ڈیولپمنٹ اسٹڈیز میں زیر تعلیم طالبہ فاطمہ لطیف اپنے ہاسٹل میں کمرے کی چھت سے مردہ لٹکی ہوئی پائی گئی۔ فاطمہ کی خودکشی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ فاطمہ بہت ہی ذہین اور اپنے کلاس کی ٹاپر طالبہ تھیں۔ لیکن وہ بھی ادارہ جاتی امتیازی سلوک کی زد میں آگئی۔ روہت ویمولا، پائل تڑوی، فاطمہ لطیف، ان لوگوں کی مبینہ خودکشی اور  جے۔ این۔ یو۔ کے طالب علم نجیب احمد کی پراسرار طور پر گمشدگی نے ملک میں اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ ہونے والے مذہبی، سماجی اور امتیازی سلوک کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کرکے رکھ دیا ہے۔

          فاطمہ اور پائل جن طلباء وطالبات کے درمیان زیر تعلیم تھیں وہ ایک غیر قوم کے بچے تھے، کہ جن کا نہ کوئی نصب العین ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل، اور نہ ہی انہیں کسی کے سامنے جوابدہ ہونا ہے، لیکن ہم مسلمان ہیں، ہمارا ایک مقصد اور نصب العین ہے، جس پر ہمیں زندگی گزارنی ہے۔ ہمیں تو کل قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے دنیا میں گزارے ہوئے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہوگا۔ پھر بھی ہم اس طرح کی غیر انسانی سلوک کرتے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ مہاراشٹر کے ایک مسلم میڈیکل کالج میں پہلے ہی دن اسی طرح کے رونما ہونے والے واقعہ سے دل برداشتہ ہو کر ایک فری سیٹ میں داخلہ حاصل کرنے والے طالب علم نے اس کالج سے اپنا داخلہ واپس لے لیا۔ ایک طرف ہم مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف ایسے ذہین افراد کا مستقبل اپنے ہی ہاتھوں سے خراب کر رہے ہیں ، اس کا جواب تو ان افراد کو آج نہیں تو کل دینا ہی ہوگا۔ اس کالج سے صرف ایک داخلہ ہی منقطع نہیں ہوا بلکہ مستقبل کا ایک ڈاکٹر کم ہوا ہے۔ کسی ماں  باپ کے مستقبل کی لاٹھی آج ہی ٹوٹ چکی ہے۔

           لیکن ہم آج اپنی جھوٹی شان و انا کی خاطر اسلام کے نجانے کتنے احکامات کو نظرانداز کر رہے ہیں جس کا ہمیں احساس تک نہیں؟ اور پھر ہم کس منہ سے اسلام اور مسلمانوں کے علمبردار بننے اور ان کے مسائل پر گھنٹوں تبصرہ کرنے لگتے ہیں؟ ہمیں ہماری سوچ کو بدلنا ہوگا یہاں نہ کوئی چھوٹا ہے اور نہ کوئی بڑا ہے۔ نہ کوئی گورا ہے نہ کوئی کالا ہے۔ یہاں سب برابر ہیں ۔

      میری ان تمام طلباء وطالبات سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس طرح کے فیصلے ہر گز نہ لیں۔ کیوں کہ آپ کسی کا مستقبل ہیں ۔ کسی کا سہارا ہے۔ صبر کیجئے۔ اللّٰہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں۔ وہ ضرور آپ کی مدد کرے گا۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button