فکرونظر

کیا کوئی اٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہے.؟

!!! لمحہء فکریہ

شاہ مدثر،عمرکھیڑ

(ایڈیٹر افکارِ نو،دہلی)

ملک تباہی کی طرف ہے لیکن بے شمار لوگ اب بھی خواب غفلت میں ہے !!

معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہے جو این آر سی مخالف تحریک کا حصّہ بننے سے جی چرا رہے ہیں۔۔۔

ملک برہمنیت کی آگ میں جل رہا ہے لیکن ان لوگوں میں ذرا سی قوت اور ذرا سی جرآت نہیں کہ اس آگ کو بجھانے والوں میں شامل ہوسکے!!!

خدا کی قسم بہترین موقع ہے ان لوگوں کے پاس کہ وہ اپنا نام آگ بجھانے والوں میں لکھوائے.

لیکن افسوس کہ۔۔۔۔

لاپرواہی،سستی اور کاہلی ان لوگوں کا مقدر بن چکی ہے!!!
ذرا سی بھی غیرت ان میں زندہ نہیں رہی!!!

اے غلامی و محکومی کی زندگی گزارنے والوں کیا تم اب موت سے ڈرتے ہو۔۔۔؟

کیا دنیا کی زندگی تمھارے دل میں اس قدر گھر کر چکی ہے کہ تمھیں دین اسلام کی، قوم و ملت کی اور اپنے آپ کی فکر نہیں رہی.؟؟؟

کیسے تم اس قدر مردہ بن سکتے ہو کہ تمہیں سڑکوں پر نکلی ہوئی اپنی ماؤں اور بہنوں کا خیال تک نہیں آتا۔؟؟؟

کیا تم میں اتنی جرآت بھی باقی نہیں کہ اپنے ان بھائیوں کا ساتھ دے سکو جو سخت سردیوں میں بھی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں !!!

کیا تم میں کوئی ایسا زندہ دل بھی اب باقی ہے جسے جامعیہ میں ہوئی درندگی پہ غیرت آسکے۔؟؟؟

کس کام کہ ہیں تمھارے یہ بازو کیوں اتنی جوانی پال رہے ہو جو دین اسلام کی حفاظت اور ملت کی دفاع کو کام نہ آسکیں .!!

کس کام کہ ہیں تمہارے وہ سیاسی عہدے جو دشمنوں کے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔؟؟؟

آخر کس لیے تم اتنی شان وشوکت اکھٹا کیے جا رہے ہو جو کسی انقلابی تحریک کا حصّہ نہ بن سکے!!!

کیا تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو اپنی زندگی راہ حق میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو.؟

کیا تم میں کوئی ہے جو حالات کے خطروں سے لڑنے کو تیار ہو..؟؟

کیا کوئی ہے جو موجودہ حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صدائے احتجاج بلند کریں .!!

کیا کوئی اسلامی انقلاب برپا کرنے کیلئے اپنا مستقبل داؤ پہ لگانے کو تیار ہے ..!!

کیا کوئی ملت اسلامیہ کی حفاظت کیلئے اپنی ہر چیز , ہر کام ہر عیش چھوڑنے کو تیار ہے ..!!

کیا کوئی دنیا کے تمام طاغوتوں, باطل حکومتوں اور تمام جھوٹے خداؤں کا صرف بحکم خدا انکار کرنے لئے تیار ہے ..!!

اگر آج بھی کسی کو اسکے ماں باپ ,اس کی بیوی اور بچے اس کا مال و متاع دین اسلام سے زیادہ عزیز ہے تو اللّٰہ کے غضب کا انتظار کریں …!!

آخر ہم کس منہ سے سامنا کریں گے خدا کا کہ جب ملک میں مؤمنوں کو ملک بدر کرنے کے آخری پیغامات مل رہے تھے،اور سب کچھ ہوتے ہوئے بھی تب ہم نے ان سے آنکھیں چرالیں تھیں؟

کیا قیامت کے دن ان مظلوموں کا ہاتھ ہمارے گریبانوں میں نا ہوگا کہ جو کمزور پاکر دبا دئیے گئے تھے مگر ہم ان کے حق میں آواز بھی نا اٹھا سکے .!!!

ہم سب اللّٰہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے اور پھر اس دن نہ کوئی حالت کا بہانہ ہوگا نہ کوئی عذر۔۔۔ !!!!

دیکھو۔۔۔
کچھ خول توڑو۔۔۔
تمہیں دین کی حرمت کا واسطہ اپنی بنائی ہوئی روایات پر اسلام اور ملت کی حفاظت کو ترجیح دو
اٹھو۔۔۔
دوڑو۔۔۔
نکلو۔۔۔
زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔۔

کیا کوئی اٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہے؟

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button