ملی سرگرمیاں

کیمپس کنونشن

کیمپس کے طلبہ سماج کے اصل مسائل کے تعلق سے فکر مند ہوں 

ایس آئی او آف انڈیا دہلی زون کی جانب سے دعوت نگر ابوالفضل انکلیو، دہلی میں کیمپس کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ جناب آصف اقبال تنہا (اسٹوڈنٹ لیڈر جامعہ ملیہ اسلامیہ) کے استقبالیہ کلمات کے بعد صدر ایس آئی او دہلی جناب ابوالاعلیٰ سید سبحانی  نے ایس آئی او آف انڈیا کی سرگرمیوں کا تفصیلی تعارف کرایا۔ برادر نے کیمپس کے اندر ایس آئی او کی تعمیری جدوجہد اور تعلیمی اداروں کے ماحول کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں ایس آئی او کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس کے طلبہ سماج کے اصل مسائل کو حل کرنے کے تعلق سے فکر مند ہوں تو سماج میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔

جناب فواز شاہین (مرکزی سکریٹری ایس آئی او) نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ایس آئی او ہر طرح کے طلبہ کی تنظیم ہے۔ تنظیم نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کا ادراک کراتی ہے تاکہ وہ ملک و ملت کے لیے نفع بخش ثابت ہوسکیں۔ اس سیشن میں پہلا خطاب جناب عبدالرشید اگوان صاحب نے کیا۔ موصوف نے اس بات پر زور ڈالا کہ علم نافع کو کہیں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اور ایک مسلم طالب علم کو علوم کے سبھی ذرائع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اس سیشن کا دوسرا خطاب ”تقویٰ اور احسان۔ کیمپس کے تناظر میں“ کے عنوان کے تحت جناب عزیز محی الدین صاحب نے کیا۔ موصوف نے کہا کہ مومن کا اصل سرمایہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کا رویہ انسان کو کامیابی سے ہمکنار کراتا ہے۔

تیسرا خطاب جناب بشرالدین شرقی (سابق صدر تنظیم ایس آئی اوآف انڈیا) نے کیا۔ موصوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر مسلم طالب علم ایک لیڈر ہے اور وہ سماج کو تبدیل کرنے میں ایک مثبت رول ادا کرسکتا ہے۔ اس خطاب کے بعد ایک پینل ڈسکشن ہوا جس میں تحریک اسلامی اور اسٹوڈنٹ پالیٹکس کے موضوع پر مختلف یونیورسٹیوں کے نمائندہ طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔پروگرام کے دوسرے سیشن میں دہلی زون کے مختلف کیمپسس کے طلبہ لیڈرس نے اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹوں کے بعد سامعین نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور بعض تجاویز بھی پیش کیں۔

 اس کے بعد جناب شبیر سی کے (مرکزی سکریٹری ایس آئی او) نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس کی مختلف سرگرمیاں جیسے احتجاج، مارچ اور دیگر پروگرام ہمیں طلبہ سماج کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کیمپس میں درپیش مسائل کو حل کرنا اور طلبہ کی پریشانی کو سنجیدگی سے غوروفکر کا موضوع بنانا ہمارا دینی فریضہ ہے۔

 پروگرام کا اختتام برادر رمیض کے اختتامی کلمات سے ہوا۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button