Sliderشخصیات

گرو نانک اور ان کی تعلیمات 

گرو نانک بچپن سے ہی روحانی طبیعت کے مالک تھے۔

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

اس سال کارتک ماہ کی پورنیما 12 نومبر کو گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ پرکاش پرو کے طور پر منائی گئی۔  گرو نانک بھارت کے ان صوفی سنتوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دنیا کو امن، محبت، خدمت خلق اور روحانیت کا درس دیا۔ انہوں نے مذہبی شدت پسندی کے ماحول میں مذہب کی نئی تعریف کی۔ جس میں سب کے جذبات کی عزت اور احترام شامل تھا۔ وہ سارے انسانوں کو خواہ مرد ہوں یا عورتیں رب کا بندہ مانتے تھے۔ ان کے نزدیک نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا، نہ کوئی ہندو ہے نہ مسلمان، سب ایک جیسے انسان ہیں۔ وہ مورتی پوجا، توہم پرستی، پاکھنڈ اور غلط رسم و رواج کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے لوگوں کو سچائی اور محبت کا سبق پڑھایا، اور تبلیغ حق کی خاطر ایک سنیاسی کی طرح گھر بار چھوڑ دیا۔ مذہبی خیر سگالی قائم کرنے کے لئے ان سبھی مقامات کا سفر کیا جن کے ساتھ لوگوں کی عقیدت وابستہ ہے۔ ان کے شاگردوں میں سبھی مذاہب کے لوگ شامل تھے۔ انہوں نے ہندو مذہب اور اسلام کی بنیادی و اہم تعلیمات کو یکجا کر ایک نیا پنتھ قائم کیا۔ اس کی بنیاد محبت اور برابری پر رکھی جو بعد میں سکھ مذہب کہلایا۔

گرو نانک نے ملک بھر پھیلے مقدس مقامات اور شخصیات سے ملاقات کی، وہ شری لنکا تک گئے۔ بھارت میں علم و محبت، برابری، یکجہتی اور روحانیت کا چراغ روشن کرنے کے بعد کئی ممالک کا سفر کیا۔ وہاں کے لوگوں کو ان کی تعلیمات نے بہت متاثر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ مدینہ منورہ کی زیارت کے بعد بغداد شریف میں چلہ کشی کی اور حلب کی زیارت کو گئے۔ یہ ان کی ایسی روایت ہے جو کسی اور ہستی میں نہیں ملتی۔ گرو جی کسی ایک کے نہیں بلکہ سب کے ہیں، ان کے لئے سب ایک سمان تھے۔ انہوں نے جن مقامات کا دورہ کیا وہ سبھی عقیدت کے مقام بن چکے ہیں۔ لداخ میں گوردوارہ پتھر صاحب ان کی آمد کا گواہ ہے۔ نانک 25 سال ملک و بیرون ملک لوگوں کو آپسی بھائی چارے، محبت اور برابری کا پیغام دینے کے بعد کرتار پور (پاکستان) میں ٹھہر گئے اور آخر وقت تک یہیں رہ کر تعلیم دی اور لوگوں کی زندگی روشن کی۔

دو دن قبل کرتار پور کوریڈور کھلنے کے بعد ہندوستانی زائرین کے لئے وہاں جانا آسان ہو گیا ہے۔ اس سے امید بندھی ہے کہ گرو نانک کے فیوض وبرکات سے بھارت کی فضا بدلے گی اور دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ گرو نانک اپنی بات بہت اچھے انداز اور آسان طریقہ سے سمجھاتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ گنگا کے پانی میں کھڑے ہو کر سورج کی سمت دیکھ کر پانی ڈال رہے تھے۔ نانک کے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی شانتی کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ گرو نانک بھی پانی میں کھڑے ہو کر دونوں ہاتھوں سے اپنے صوبہ پنجاب کی طرف منھ کرکے پانی ڈالنے لگے۔ لوگوں نے انہیں ٹوکا اور غلطی سدھارنے کے لئے کہا، تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ماں گنگا کا پانی سورگ میں آپ کے بزرگوں تک پہنچ سکتا ہے تو پنجاب میں میرے کھیتوں تک کیوں نہیں پہنچ سکتا، پنجاب تو سورگ سے پاس ہے۔

انہوں نے اپنے مشن کی شروعات دو دوستوں و مریدوں "بالا اور مردانہ ” کے ساتھ مل کر کی۔ بالا ہندو اور مردانہ مسلمان تھا۔ وہ ذات پات، چھوا چھوت اور مذہبی بھید بھاؤ کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے برابری اور خدمت خلق کے لئے لنگر کا سلسلہ شروع کیا۔ گرو کے لنگر میں بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب، ذات، مذہب، رنگ اور علاقہ کی تخصص کے بغیر سب زمین میں بیٹھ کر ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ کھانا بنانے اور پروسنے میں مدد کرتے ہیں۔ گرو نانک کا ماننا تھا کہ انسان کا پیٹ بھرنا انسانیت کی خدمت ہے۔ بھوکے انسان سے کسی بھلائی یا خدمت کی امید نہیں کی جا سکتی، رب کو خوش کرنے کی بات تو اس کے دماغ میں بھی نہیں آئے گی۔ گرو نانک کہتے تھے اپنی کمائی کا دسواں حصہ کمزوروں کی مدد میں خرچ کرو اور وقت کا دسواں حصہ رب کو خوش کرنے میں۔ پڑوسیوں سے اپنے برابر پیار کرو۔ لالچ کو چھوڑ کر صحیح طریقوں سے روزی کماؤ، محنت اور حلال کی روزی میں برکت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دولت کو جیب میں جگہ دینی چاہئے دل میں نہیں۔ فکر سے آزاد ہو کر کام کرنا چاہئے "نانک چنتا مت کرو، چنتا تسہی ہے۔ ” غرور انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا، اس لئے غرور نہیں کرنا چاہئے۔ شائستگی اور خدمت کے جذبہ کے ساتھ زندگی گزارو۔ دنیا کو جیتنے سے پہلے خود اپنے خیالوں اور کمیوں پر فتح حاصل کرو۔ گرو نانک کی یہی وہ تعلیمات ہیں جن کی وجہ سے علامہ اقبال نے کہا:

پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے 

ہند کو ایک مرد کامل نے جگایا خواب سے 

گرو نانک بچپن سے ہی روحانی طبیعت کے مالک تھے۔ وہ ہمیشہ غور و فکر کرتے رہتے تھے۔ سمجھ، فہم و فراست اور انسانی خدمت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ وہ جب 12 سال تھے ان کے والد نے انہیں بیس روپے دے کر اپنا کاروبار کرنے کو کہا تاکہ وہ کاروبار کے بارے میں کچھ جان سکیں۔ بابا نانک نے وہ بیس روپے غریبوں اور سنتوں کو کھانا کھلانے میں خرچ کر دیئے۔ جب والد نے ان سے پوچھا کہ تمہارے کاروبار کا کیا ہوا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ان پیسوں سے سچا سودا کیا۔ ماں باپ کی محبت میں بھی کہاں اتنی طاقت تھی کہ ان کے دل کو خدا سے ہٹا کر دنیا کے دھندوں میں لگا دے؟ جس جگہ گرو جی نے غریبوں کو کھانا کھلایا تھا اس جگہ "سچا سودا” نام کا گوردوارہ بنایا گیا ہے۔

بابا نانک نے سات سال کی عمر میں ہی پنجابی، ہندی، سنسکرت سیکھ لی تھی۔ وہ بہت ذہین تھے انہیں عربی فارسی پر بھی دسترس حاصل تھی۔ نانک کو پانچ سال کی عمر میں ان کے والد نے مولوی صاحب کے پاس پڑھنے کے لئے بھیجا، مولوی صاحب نے ان کے چہرے کے نور کو دیکھ کر گرو نانک کے والد سے کہا تھا کہ اسے میں کیا پڑھاؤں گا یہ تو خود دنیا والوں کو روشنی دینے آیا ہے۔ لیکن بابا نانک کے والد کے اصرار پر وہ پڑھانے کو تیار ہو گئے۔ مولوی صاحب نے ان کی پٹی پر اوم لکھا تو نانک نے اس کے آگے ایک لکھ دیا یعنی "خدا ایک ہے۔ ” خدا سے ان کی لگن بیس برس تک ان کے دل میں پرورش پاتی رہی پھر انہیں ہجوری نصیب ہوئی۔ ان پر حقیقت کا انکشاف ہوا۔ خدا کی روشنی ملنے کے بعد وہ کام دھندہ، گھر بار چھوڑ کر انسانوں کو سچائی، محبت اور انسانیت کا راستہ دکھانے میں لگ گئے۔ آخری زمانہ میں ان کے خیالات میں تبدیلی آئی اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہنے لگے۔

کچھ دانشوروں کا ماننا ہے کہ گرونانک 15 اپریل 1469 کو تلونڈی گاؤں میں کالو چند بیدی اور ماں ترپتا کے یہاں پیدا ہوئے تھے۔ والد نے آپ کا نام نانک رکھا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں آپ کی شادی ماتا سلکھنی سے ہوئی۔ ان سے آپ کے دو بیٹے بابا شری چند اور بابا لکشمی داس پیدا ہوئے۔ آپ نے نواب دولت خان لودھی کے یہاں اسٹور انچارج کے طور پر نوکری کی جو سلطانپور میں تھے۔ نواب صاحب ان کی للہیت اور فقیر منشی کی وجہ سے بہت عزت کیا کرتے تھے۔ 22 ستمبر1539 میں "جپوجی” کا ورد کرتے ہوئے 70 سال کی عمر میں آپ کی روح پرواز کر گئی۔ اسی جگہ گوردوارہ ڈیرہ بابا نانک بنایا گیا ہے۔ وہ سچے ہندوستانی، سرودھرم سنبھاؤ اور مذہبی رواداری کا نمونہ تھے۔ انہوں نے ایشور اور انسانوں کے درمیان ایک نیا رشتہ استوار کیا یعنی گرو اور شیشہ یا مرشد و مرید کا رشتہ۔ مرید ساری زندگی طالب علم بن کر سیکھتا رہتا ہے اور ایشور گرو بن کر اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ سیکھنے والا ہی سکھ ہے، گرو کی یہ تحریک مذہبی روایت بن گئی۔ جس بت پرستی، اندھ وشواس اور مذہبی پاکھنڈ جیسے اندھیرے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ گرو نانک دیو جی بھلے ہی آج ہمارے بیچ نہیں ہیں لیکن ان کی تعلیمات ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ جن میں آنے والی دنیا کے لئے پیغام محبت و انسانیت، خدمت اور یکجہتی موجود ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button