Uncategorizedسیرت رسولؐ

گستاخ رسالت کے ہاتھوں ملوکیت کی جغرافیائی تقسیم

شہاب مرزا

9595024421
یوں تو شریعت اسلامیہ میں گستاخ رسالت ﷺبے حد سنگین مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ شریعت کاایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گستاخ رسالت ﷺکسی کے لیے بھی کسی بھی حال میں قابل معافی جرم نہیں۔اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک بات واضح ہوجاتی ہیکہ جب جب بھی گستاخ رسالت ﷺ کو ان کے جرم کی قرارواقعی سزا نہیں دی گئی تب تب وہ ملعونوں نے اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان ملعونوں میں سب سے پہلا کردار مروان بن حکم کا ہےاورماضی قریب میں غلام احمد قادیانی اس کی تازہ مثال ہے۔
فتح مکہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے دور جاہلیت کے تمام دشمنوں کے لیے جو آج امن کے مطلوب ہیں ان تمام کے لیے معافی ناقابل قبول ہے ۔ اگر یہ بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر بھی امن کی بھیک مانگیںتو انہیں قتل کیا جائے ان میں سے ایک مروان بن حکم بھی تھا ۔ مروان بن حکم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلتے ہوئے انکی چال ڈھال کی اور چہرہ مبارک کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ اور نماز کے دوران بھی ہاتھ اور انگلیوں سے بُرے بُرے انداز بناتا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو یہ حرکتیں ہوئے پکڑا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے ہی رہو۔ اس لعنت کے نتیجے میں وہ اُسی حالت میں ویسا کا ویسا ہی رہ گیا اور تامرگ ایسا ہی رہا کہ اسکا منہ، چہرہ اور ہاتھ ہر وقت اس بری حالت میں ہلتے ہی رہتے تھے(صحیح روایت مسند احمد بن حنبل)۔ ایک دفعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مروان بن حکم کو اپنے امان میں لئےرسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اسے دیکھ کر آپ کے چہرہ انور پر شدید غصے کے آثار ظاہر ہوئے اس منظر کو دیکھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مروان بن حکم کو لے کر وہاں سے فوراً علیحدہ ہوئے یہ وہی مروان بن حکم ہے جس نے یزید کے سرمایہ دارانہ نظام کو قوت بخشی اور بعد میں اسلام کو ہائی جیک کرتے ہوئے اپنی حکومت قائم کی ۔اس کے بیٹے عبدالملک بن مروان نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے لے کر حضرت عبداللہ بن عمر تک بے شمار صحابہ کرام ؓکو شہید کیا۔ چنانچہ یہ وہی آل ہے جو یزید سے لے کر مروان بن حکم اور عبدالملک بن مروان سے لے کر تمام ہی بنو امیہ پر رحمتیں نچھاور کرنے کا اسلامی جرم کرتے ہیں اور آل رسولﷺ کے نام لیوا ترکی، ایران، الا خوان المسلمون سے لے کر علامہ یوسف القرضاوی تک تمام کو شیعہ اور عجمی قرار دیتے ہیں ۔
رحمت اللعالمین، سرور کائنات ،خاتم الرسل،سید الاولین و الآخرین، محسن انسانیت محمد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے فرانسیسی ٹیچر کے قتل کے بعد فرانسیسی صدر میکرون نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ٹیچر کا قتل اسلامی دہشت گردی ہے ‘‘ اس بیان کی دنیا بھر میں مذمت ہورہی ہے – کویت، جارڈن ،قطر ،بنگلہ دیش، لیبیا، سیریا اور ترکی میں فرانسیسی سامان کا احتجاجاً بائیکاٹ کیا جارہا ہے – اسلامی تعاون تنظیم OICنے فرانسیسی گستاخ رسولﷺ کے قتل کی مذمت کی ہے ۔ یاد رہے کہ OICیعنی آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریس کی قیادت کی باگ دوڑ مملکت سعودیہ کے یہودی نواز اوردشمن اسلام حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے ۔
بہر کیف گستاخ رسولﷺ کی شرعی حیثیت سے منہ پھیرنا بھی گستاخ رسالت سمجھا جاتا ہے اس زاویے سے دیکھا جائے تو غاصبین حرمین شریفین سعودی حکمرانوں نے آزادی اظہار رائے کے نام پر فرانسیسی گستاخ رسولﷺ اور قابل ستائش سچے پکے غازی کے ہاتھوں گستاخ رسولﷺ کے قتل کی مذمت ہے ۔ یہ وہی فرانس ہے جب بھارت میں CAA، NRC (شہریت ترمیمی بل)کی مذمت میں یورپی یونین نے بھارتی وزیراعظم کی مذمتی قرارداد منظور کیا تھا ا س وقت ظالموں کی حمایت میں اور رافیل سودے کا احسان چکانے کی خاطر اس ملعون ملک نے اس منظور شد ہ فیصلے میں ٹانگ اڑائی تھی اور جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے یورپی یونین میں حرکت لانے کی پہل کی تھی تو یہی وہ سعودی مملکت ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کو آدھے راستے سے واپس بھیجنے کی خاطر اپنا ہوائی جہاز عمران خان سے چھین لیا تھا – فرانس سے شائع ہونے والے رسالے ’’چارلی ہیبڈو ‘‘میں جب جب بھی اس انداز کے گستاخانہ خاکےشائع ہوتے رہے اس وقت سعودی عربیہ نے عالمی صحافت کو فروغ دینے کے نام پر اس گستاخ رسولﷺکو دینار اور درہم سے نہلایا ہے ۔
آج فرانس میں حق پسند مسلمانوں کے خلاف جو بھی ظالمانہ تشدد ڈھایا جارہا ہے اور اسلامی دہشت گردی کا نام دے کر مسلمانوں کی مساجد اور ان کے ایمان و اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، حتیٰ کے دنیا بھر میں اور خاص طور پر بھارت میں ہونے والے مسلم دشمن حملوں میں فرانس کی قیادت میں یورپی یونین کا بڑا اہم کردار ہے ۔ اس کے پیچھے مزید ایک سیاست کار فرما یہ ہے کہ یورپی یونین ترکی کی سب سے بڑی دشمن تنظیم سمجھی جاتی ہے ۔سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے ایسے بے شمار دستاویزات فراہم کیے ہے کہ ترکی، ایران، اخوان المسلمون اور ان کے ہم نوا ممالک روس، چین ،ملیشیا، اور پاکستان وغیرہ کے خاتمے کی غرض سے امریکی سرمایہ دارانہ استعماریت نام کے فرعون نے ہامان سعودی اور اپنے قارون اسرائیل کے ذریعے ترکی کا خاتمہ ٹھیک 97 سال پہلے کیا اور اب جا کر دنیا بھر کے حق پسندوں پر ظلم ڈھانے کی غرض سے پھر سے امریکی استعماریت سعودی ہی کے ذریعے اسرائیل جسے عرضِ مقدس فلسطین کے خون سے ہولی کھیلنے والے اسرائیل کے ذریعے اپنی صلیبی تشنگی کو مٹانے کیلئے کوشاں ہےاسکے نتیجے میں حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی سرزمین استنبول کے خاک میں اپنی ایمانی حلاوت دوبارہ تلاش نے والے ترکی فاتحین کی مخالفت اور اس کے دوست ملک چین، روس اور علامہ حسن البنا شہید کی اخوان المسلمین تنظیم کو اسلامی دہشت گردی کے نام پر روندنے کا پروگرام شرمندہ تعبیر کرنے جارہا ہے ۔ یہی خواب بی جے پی بھی پاپولر فرنٹ اور جماعت اسلامی ہندکو روندنے کا دیکھ رہی ہے جو شرمندہ تعبیر ہونا ناممکن ہے۔یہی سبب ہے کہ فرانسیسی گستاخ رسولﷺ کے قتل پر ڈھائے جانے والے مسلمانوں پر مظالم کی مذمت میں ترکی نے فرانس سے اپنے سفیر کو واپس بلا کر تعلقات منقطع کرنے کا فریضہ انجام دیا جبکہ اس کے برعکس سعودی اور خلیجی ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئےہیں – سعودی عرب کی ان پالیسیوں پر نکتہ چینی اور مخالفت پر سعودی شہزادی بسمہ بنت سعود کو بھی سعودی حکومت نے نہ بخشا اور تقریبا دیڑھ سال تک نظر بند رکھا اسکے علاوہ صحافی خاشقجی سعودی ولی عہد کی حالیہ اصلاحات اور ویژن 2030 کے تحت ملک کو جدید بنانے کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اتنے شواہد موجود ہیں کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اعلیٰ عہدوں پر فائز دیگر سعودی افسران کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے.
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button