Sliderجہان خواتین

ہر بوند کو نہیں ملتا محافظ سیپ سا

صائمہ کوثر سیّد افتخار

 GIOیونٹ، پرلی

اے مسلمان بہن کیا !
کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ تم کون ہو؟تمہارا مقام کیا ہے؟تم کس کی امّتی ہو؟ کس کی عزّت ہو؟ اور کس امانت کی پاسبان ہو؟
اے بنتِ مسلم! تم ایک مسلم لڑکی ہو،مسلم ماں باپ کی بیٹی ہو،سرورِکائنات ﷺ کی امّتی ہو۔اے بہن ! تم ایک مسلم گھرانے کی
عزت ہو۔تمہارامقام …. بحیثیتِ بیٹی تم باعثِ رحمت،بحیثیتِ بیوی شوہر کی متاعِ کُل اور بحیثیتِ ماں تم اپنی اولاد کی جنّت ہو۔
کیا تم نے کبھی سوچا ! آج سے صدیوں پہلے تمہارا مقام و حیثیت کیا تھی؟
اے بہن ! یاد کرو وہ دور کہ جب تمہاری پیدائش کو باعثِ ننگ وعار سمجھا جاتا تھا،اور ذلّت و رسوائی سے بچنے کی خاطرتمہیں زندہ درگور کیا جاتا تھا۔
” جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اُس کے چہرے پر سیاہی اور کلونس چھا جاتی ہے اوروہ بس خون کا سا گھونٹ پی کررہ جاتا ہے۔لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے،سوچتا ہے کہ ذلّت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہے یا مٹّی میں دبا دے۔“ )سورة النحل:۸۵،۹۵(
اے بہن! دیکھ لواس آیت میں اپنے ماضی کا عکس کہ تمہاری کیا حیثیت تھی۔
کیا تم نے کبھی اپنی تاریخ سے پوچھا ،کہ دیگر مذاہب میں تمہارامقام کیا تھا؟
زمانے کے رسم ورواج نے کبھی تمہیں ذلّت سمجھ کر زندہ درگور کیا تو کبھی ستی کے نام پر شوہر کی چتا کے ساتھ زندہ نذرِ آتش کردیا۔دنیا کے تقریباََ تمام مذاہب کی نظر میں تم سر تا پا شر ہی شر ہو،گندگی کی پوٹلی اور بس کی گانٹھ ہو،برائی کا منبع اور بدی کا سر چشمہ ہو۔عیسائیت میں تمہیں ”Evil”(بدی ، برائی ، گناہگار اور شیطان) سمجھاجاتا ہے۔چونکہ”Evil”لفظ بنا ہی”Eve”(حوّا) سے ہے۔
اس سب کے باوجود کیا تم نے کبھی سوچا کہ کس نے تمہیں تمہاری صحیح حیثیت سے آگاہ کیا۔۔۔؟ کس نے تمہیں ذلّت ورسوائی کی پستیوں سے نکال کر اعلیٰ و ارفع مقام عطاءکیا۔۔۔؟ کس نے تمہیں بازار کی زینت سے گھر کی ملکہ بنا کر رکھا۔۔۔؟
اے میری بہن !
وہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے جس نے تمہیں تمہارے حقوق عطاءکیے ۔دنیا کے سردوگرم حالات سے محفوظ تمہیں گھر کی ملکہ اور اپنی عزّت بناکر رکھا۔ وہ اسلام ہی ہے جس نے تمہیں باعثِ زحمت نہیں بلکہ باعثِ رحمت سمجھا۔
کیا کبھی سوچا کہ دینِ اسلام نہ ہوتا تو تم آج کہاں ہوتی ….؟
اگر اسلام نہ ہوتا تو تم آج اپنے ماں باپ کے ساتھ خوش وخرم زندگی گزارنے کے بجائے منوں مٹّی تلے دفن ہوتی۔
اے میری بہن ! یہ اللہ ربّ العالمین کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے حضرت محمّدﷺ کو رحمت العالمین بنا کر مبعوث کیاتیرے رب سے تجھے زندہ مٹی میں تڑپتے دیکھا نہ گیا اور اس نے اپنے نبیﷺ اور اپنی کتاب(قرآن مجید)کے ذریعے تجھے زندہ درگور کرنے پر پابندی عائد کردی۔
لیکن افسوس صد افسوس !
کہ آج تم اپنا ماضی بھول کر بجائے اپنے رب کی اطاعت کے شیطان ملعون کی اطاعت کر رہی ہو۔اپنے اس مہربان رب کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کردنیا کی رنگینیوں میں گم ہو….ہر طرح سے شیطان کے مکروفریب میں گرفتار ہو۔ تم نے خود انجانے میں اپنے حقوق پامال کیے ۔
تمہیں کیا لگتا ہے؟
کیا زمانے نے صرف تمہیں زندہ درگور کرکے ،ستی کرکے یا کسی اور رسم کے تحت تمہاری قربانی دے کر تمہارے حقوق پامال کیئے،تمہارا استحصال کیا….؟
کیا حقیقتاً تم موجودہ دور میں اپنے حقوق پا رہی ہو….؟کیا تم موجودہ دورمیں آزادیءنسواں کے نام پرخود کی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہی ہو….؟
نہیں ۔۔۔! اے بہن۔۔۔! ہرگز نہیں!
تمہارا استحصال تو اب بھی ہو رہا ہے، لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
ذرا غور کرو۔۔۔
کیا آزادئ نسواں کے نام پر گھر کی چار دیواری سے نکل کر مردوں کے شانہ بہ شانہ مشقت کرنا،اپنے سینئر افسران کے اشاروں پر ناچنا (ان کا حکم ماننا ،ان کی ڈانٹ پھٹکار سننا) اور گھر کے باہر کی دیگر اذیّتوں کو برداشت کرنا ، کیا یہی تیری آزادی ہے۔۔۔؟کیا گھر کے ساتھ ساتھ باہر کی بھی ذمہ داریاں اٹھانا تمہارا شوق ہے۔۔۔؟کیا راہ چلتے لوگوں کی چھیڑخانیاں و اذیّتیں برداشت کرنا تمہارے لیے باعثِ سکون ہے۔۔۔؟
ہرگز نہیں!
اے میری بہن ! شوق کے نام پر تم نے خود اپنی ذمہ داریاں بڑھالی ہیں، ورنہ اسلام نے تو مرد کو قوّام بنایا ہے اور عورت کے نان و نفقے کی ذمہ داری بھی اسی کے سپرد کی ہے۔ تم ایک صنف نازک ہو۔تمہاری اٹھان ہی رب تعالیٰ نے ایسی کی ہے کہ تم باہر کی سختیوں کو نہیں جھیل سکتی۔۔! لہٰذا تمہاری اس فطرت کی بنا پر اسلام نے ہر طرح سے تمہاری حفاظت کا سامان مہیا کیا اور گھر کی چار دیواری اور پردے کو تمہارے لیے ایک مضبوط
قلعہ قرار دیا۔لیکن۔۔۔یہ محفوظ قلعہ تمہیں قید لگنے لگا ،کہ مغربیت نے اسے تمہارے سامنے تعلیم و ترقی کی راہ میں رکاوٹ بناکر پیش کیااورتمہاری ذات کے تعلق سے بحیثیتِ مظلوم قیدی کے تمہاری ذہن سازی کی۔ لہٰذا تم نے اسلام کی پکار سے ، اپنی فطرت کی آواز سے منہ موڑ کر مغربیت کو لبیک کہا اور خود اپنے ہی ہاتھوں اپنےمحافظ قلعے کی دیواروں کو مسمار کرتی اور اپنی حیاء و پاکیزگی کو پیروں تلے روندتی ہوئی سڑکوں پر نکل آئی۔تم نے پردے کو ترقی کی راہ میں ،اپنی صلاحیتوں سے استفادہ کی راہ میں رکاوٹ سمجھا اوران صحابیاتؓ کو بھول گئی جو پردے میں رہ کر تعلیمی اور دیگر خدمات انجام دیتی تھیں۔
کیا تم نے کبھی اس نام نہاد آزادی کے پندار سے نکل کر اس بات پر بھی غور کیا کہ مغربی تہذیب نے آزادئ نسواں کے نام پر تمہیں کیا کچھ دیا؟
کچھ نہیں۔۔۔۔بلکہ اس نے الٹا تم سے تمہارا فطری وصف چھین لیا اور تمہیں تمہاری فطرت کے خلاف استعمال کرکے طرح طرح سے تمہارا استحصال کیا۔
تمہیں پتا ہے ،تمہاری وہ کون سی خوبی ہے جسے ہر معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔؟
شرم و حیاء !
یہی تمہارا وہ فطری وصف ہے جسے مشرق میں "مشرقیت ” سے موسوم کیا جاتا ہے تو مغرب میں” Shy Girl” کا کردار اسی حوالے سے معتبر جانا جاتا ہے۔
اے بہن ! تم خود اپنی زندگی میں اس وصف کی اہمیت و مقام سے بخوبی واقف ہو۔
تاریخ گواہ ہے ! جب جب بھی زمانے نے تمہیں تمہاری فطرت کے خلاف چلاکر تمہارا استحصال کیا ،وہ زمانہ ،وہ دور اور وہ قوم زوال کا شکار ہوئی ؎
اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی نسوانیت زن کا نگہبان فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد
اے بہن! وہ اسلام ہی ہے جس نے تمہارے اس وصف کی اہمیت کو پہچانا اسے بخوبی سمجھا اور تمہیں پردے کی تاکید کی تاکہ تم زمانے کی ہوسناک نگاہوں سے محفوظ و مامون رہو۔یہ پردہ شیطان کے تیروں سے تمہاری حفاظت کرتا تھا ، اور تمہاری عفت و عصمت کاضامن تھالیکن۔۔۔! اس محفوظ قلعے میں تم اپنے آپ کو قفس کی پنچھی سمجھنے لگیں اور اس پُر فتن دنیا میں شرم وحیاء کے پردوں کو چاک کرتی ہوئی آزادانہ پرواز کرنے کیلئے پر تولنے لگیں۔اور بالآخر تم اس میں کامیاب ہوگئی اور اسلام کی تعلیمات کو ٹھوکر مار کر دنیا کی رنگینیوں میں الجھ کر رہ گئی۔
اے میری بہن،کیا تم نے کبھی تعلیم کے حقیقی مقصد کو سمجھا ۔۔؟
تعلیم تو انسان کا شعور بیدار کرتی ہے۔اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ لیکن تعجب ہے اس بات پر کہ تم جتنی زیادہ عصری تعلیم حاصل کررہی ہو اتنی ہی اخلاقی پستیوں میں گرتی چلی جارہی ہو۔اس کی وجہ یہی ہے کہ تم اصل مقصد کو بھول کر خرافات میں پڑگئی ہو ؎

حقیقت روایات میں کھو گئی
یہ امّت خرافات میں کھوگئی

حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم جتنی زیادہ تعلیم حاصل کرو اتنے زیادہ تمہارے اخلاق و کردار کا معیار بلند ہو۔لیکن افسوس۔۔۔۔۔
مغربی تہذیب اور انتخاب کی آزادی نے تمہیں گمراہ کردیا ۔اب تمہاری پسند،تمہاری رول ماڈل خدیجہؓ، عائشہؓ و فاطمہؓ نہیں بلکہ سیریلس اور فلموں کی ایکٹرس ہیں۔اور انہی ایکٹرس کی پسند ناپسند ہے۔تم وہی کرنا چاہتی ہو جو وہ کرتی ہیں،اور وہی پہناوا اور طور طریقہ اپنانا چاہتی ہو جیسے کہ ان کا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا تمہاری قدر و قیمت سے عار ی ہے۔تمہاری حیثیت ،تمہارا مقام لوگوں کی نظروں میں گر چکا ہے۔تمہارے اپنوں کا تم پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ایک ،صرف ایک تمہارے بگڑنے سے دنیا بھر میں بے حیائی اس قدر عام ہوچکی ہے ۔خاندانی انتشار،تناؤ،نسل کشی،اخلاقی گراوٹ ،خودکشی ، فراری شادیاں ، زنا بالجبر ، اور فحاشی و عریانیت وغیرہ جیسی مذموم حرکات صرف مغرب میں ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بھی عام ہوچکی ہیں اور یہ سب مغربی تہذیب اور انتخاب کی آزادی "Freedom of Choice” کے نام پر کیا جارہا ہے۔
اے میری بہن! ذرااپنی آنکھوں پر چڑھی ہوئی اس ماڈرن ازم اور لبرل ازم کی پٹّی کو نکال کر دیکھو ،مغرب کی چکاچوند سے مبرّا ہوکر سوچو۔۔۔کہ دینِ اسلام نے تمہیں کیا کچھ نہیں دیا ۔اس نے تمہیں تمہارا کھویا ہوا مقام واپس لوٹایا۔جو قدر و منزلت دینِ فطرت اسلام تمہیں عطا کرتا ہے اس کی نظیر دنیاکے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔ مغربیت میں تمہیں خودمختار بننے کے لیے گھر کی دہلیز عبور کرنا پڑتی ہے جبکہ اسلام نے تو تمہیں گھر کی سلطنت کی ملکہ قراردے کرحقِ وراثت کے نام پر تمہیں تمہارامستقل قانونی تشخص(Legal Status)عطاء کیا۔اور اس ذاتی ملکیت میں تصرف کا اختیار دیا۔
مساوات مرد و زن کےپرکشش پروپیگنڈہ نے نہ صرف یہ کہ تمہاری نسوانیت کو کچلا ،بلکہ تمہیں دوہری آزمائش میں مبتلا کردیا ہے۔ایک ملکہ ہونے کی حیثیت سے تمہاری سلطنت ،تمہارا دائرہ کار تو تمہارا اپنا گھر تھا ۔جہاں پر نہ صرف یہ کہ تمہیں تمہاری خوشی و مرضی کے مطابق جس طرح چاہو اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرکے اپنا گھر سنوارنے کا اختیار دیا گیا تھا ،بلکہ ایک اہم ذمہ داری”نسلِ نو کی تعلیم و تربیت”تمہارے سپرد کی تھی۔ لیکن افسوس کہ یہ ذمہ داری تو تمہیں بارِ گراں لگنے لگی۔یہ دنیا کی رنگینیاں ہی تمہیں اپنا سب کچھ لگنے لگیں اور تم اس کو بنانے میں اس قدر الجھ گئی کہ اپنی اس ذمہ داری اور اس کے متعلق آخرت میں جوابدہی کا احساس تمہارے ذہن سے محو ہوگیا۔
اے بہن ! نئی نسل کی آبیاری کرکے معاشرے کو صالح افراد مہیا کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اس پُرفتن دور میں اپنے آپ کی اورنسلِ نو کی حفاظت تجھ پر لازم ہے۔قوموں کی عظمت تم سے ہے کہ تم ہی نئی نسل کی معمار ہو۔تمہاری آغوش کی تربیت ہی قوم کا مستقبل تابناک یا تاریک کرے گی۔
اے بہن!ذرا سوچو…شیطان کے ان دلفریب ہتھکنڈوں میں پھنس کر اپنے مقصد کوپس پشت ڈالنا اور رب تعالیٰ کے عطاکردہ فرائض سے روگردانی کرنا کہاں کی عقلمندی..! تم توخوش قسمت ہو اس بوند کی مانند کہ جس کو آغوشِ صدف میسّر آجاتی ہے ، اور نتیجتاً وہ موتی بن کر نکلتی ہے۔ بالکل اسی طرح دین اسلام نے ایک سیپ کی مانند تمہیں مکمل تحفظ فراہم کیا ہے کیونکہ تم تو بیش بہاموتی سے بھی کئی زیادہ قیمتی ہو۔
لہٰذا اے مسلم بہن جاگ! اور اپنی حیثیت،اپنا مقام اور اپنی ذمہ داری کو پہچان!کہ آنے والی نسلوں کا مستقبل تجھ سے وابستہ ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button