Sliderجہان خواتین

ہر بوند کو نہیں ملتا محافظ سیپ سا

عایٔشہ آفریدی

جی آئی او اورنگ آباد وسط

* Hey Aish ! Look at this luxury dressing .
Oh wao ! Such a beautiful dress
And you know! She is my favourite heroine .
کتنی چارمنگ ہے یار!
اور ذرا اسکی تو دیکھوکتنی attractive ہوتی ہے ۔
(حسرت بھری نگاہوں سے فون کی screen پر موجود محترمہ کی تصویر کو دیکھتی ہوئی بولی جارہی تھی )
کیوں نہ اس بار کالج کے function میں

ایسی ہی ڈریس پہنی جائے؟
کیا کہتی ہو ۔
Nice idea Shehla
مزا آجائے گا سب دیکھتے رہ جائںگے ۔
Just imagine
دونوں سہیلیاں اس ڈریس میں بالکل اسی طرح کا میک اپ کر کے سینکڑوںstudentسے بھرے seminar hall میں ایک ساتھ entry کر رہی ہے اور سب کی نگاہیں یکایک ہمارا طواف کرنے لگیں اور۔۔۔۔اور ۔۔
(دونوں اپنے جذبات کو پوری طرح بے قابو کر بیٹھی اور تصوراتی دنیا کی سیر کر نے لگیں )
اف عیش کتنا حسین منظر ہوگا!
ہاں بالکل شہلا یاد گار movement ہو گا ۔
اچھا شہلا تم یہ ڈریس order کر دو تب تک میں اپنے نوٹس complete کرلیتی ہوں اور ہاں ساتھ ہی make up kit اور same جیولری بھی آرڈر کر دینا ۔
ہاں عیش تم اپنے نوٹس کمپلیٹ کرو میں یہ ڈریس جیولری اور میک اپ کٹ بھی آرڈر کر دیتی ہوں ۔
(شہلا لائبریری سے باہر چلی گئی اور عائشہ اپنے نوٹس مکمل کر کے دوبارہ اس محترمہ کا بغور مشاہدہ کر نے لگی۔تبھی اچانک چہرے کی ساری خوشی ایک ہیجان وخوف کا منظر پیش کر نے لگی۔)
"ائے اولاد آدم ‘ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ وہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ۔ اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے۔”
(سورہ الاعراف ۲۶)
"اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر نے والے ہیں۔”
(سورہ احزاب ۳۵)
” ائے نبی صل اللہ علیہ و
سلم ‘ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے ‘اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہے ۔”
” وہ عورتیں جنت کی خوشبو بھی نہیں پائگی جو خوشبو لگا کر بازار جاتی ہے جو کپڑے پہن کر بھی برہنہ نظر آتی ہیں باریک لباس پہنتی ہیں جس سے ان کی ساخت نمایاں ہوتی ہے
جب کہ جنت کی خوشبو میلوں کی دوری سے محسوس کی جائے گی ۔ (
اور نہ جانے کتنی ہی آیتیں ‘حدیثیں اور اقوال یکایک اس کے ذہن کو جھنجھوڑ نے لگے ۔ جیسے لائبریری میں موجود کتابیں یاد دہانی کروارہی ہے کہ جو سبق تم بھلا چکی ہو دراصل وہی تمہاری زینت خوبصورتی اور تمہارا لباس بھی ہے )
کیا یہ ڈریس میری سترپوشی کریگا؟
کیا یہ ڈریس مجھے موسم کی سختیوں سے بچائے گا؟
بحیثیت مسلمہ شریعت مجھےایسا لباس پہنے کی اجازت دیتی ہے؟
کیا جسم کی نمائش کرنے والا یہ مختصر سا لباس میرے کردار کی پاکیزگی کو سلامت رکھ پائے گا؟
نہیں
ہرگز نہیں۔۔۔۔
” جب عورت بالغ ہو جائے تو جائز نہیں کہ منہ اور ہاتھ کے سوا اسکے جسم کا کوئی حصہ نظر آئے ۔” رسول اللہ صلعم
(ابو داؤد )
” اپنے گھرو میں ٹک کر رہو اور سابقہ دور جاہلیت کی سی سج دھج دکھا تی نہ پھرو۔”
( سورہ احزاب ۳۳)
ایمان والی عورت کااصل زیور سونا چاندی نہیں بلکہ حیاء اور پردہ ہے ۔
(لائبریری میں موجود کتابیں اس سے سوال کیے جارہی ہے )
یہ محترمہ کون ہے؟
کیا یہ تمہاری رول ماڈل ہے؟
لیکن تم تو ایک دیندار گھرانے سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ تم تو پیدا ہی اسلام پر ہوئی ہوتو کیسے یہ تمہاری رول ماڈل ہو سکتی ہے؟
کیا تمہاری مائیں جو پوری امت کی مائیں ہے انکا یہی طریقہ رہا ہے؟
کیا تم وہ قیمتی موتی نہیں جس کا محافظ ایک خوبصورت سیپ ہے؟
(وہ فورا ہی پکارتی ہوئی باہر آگئی )
شہلا نہیں ۔۔۔
ہم ایسی ڈریس ہر گز نہیں پہنیں گی
ہم کسی بنا ایمان فحاشہ عورت کی پیروی کیسے کر سکتی ہیں؟
عیش تم یہ کیاکہہ رہی ہو ابھی تو تم کہہ رہی تھی کہ یہ تمہاری favourite ہیروئن ہے ۔are you ok baby
ہاں شہلا میں بالکل ٹھیک ہوں اور اب تم بھی سنبھل جائو
تم کہنا کیا چاہتے ہو سیدھی طرح بتاؤ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔
شہلا شریعت ہمیں ایسا لباس پہننے کی اجازت نہیں دیتی
یہ محض ایک رقاصہ اور گانے والی ہے جو لوگوں کے دلوں کو لبھاتی ہے جس کا مقدر جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کے سوا اور کچھ نہیں ۔۔۔۔
ارے یہ تو وہ بدنصیب خاتون ہے جس کو اسلام کی دولت بھی نہ ملی اور ہدایت بھی نہ مل سکی ۔
یہ وہ مظلوم عورت ہے جس کو اپنے حسن کو منوانے کے لیے نہ صرف پلاسٹک سرجری کروانی پڑتی ہے بلکہ پوری دنیا کے سامنے برہنگی کی مثال پیش کر نا ہو تی ہے ۔
جسے روپیہ کی خاطر اپنی عزت کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔
لیکن شہلا! ہم تو تو وہ خوش نصیب امیرذادیاں ہیں جو پیدائشی طور پر اسلام کی مال و دولت میں پلی بڑھی ہیں۔
ہم اس خاتون کی بیٹیاں ہیں جو اذل سے لے کر ابد تک حسن کی اعلی مثال ہے جس کا کوئی مقابل نہیں ۔
ہم اس ماں کی بیٹیاں ہیں جسکی پاکیزگی اور تقدیس کی گواہی خود اللہ رب العزت نے دی۔
جس کو دنیا کی سب عورتوں پر فضیلت دی گئی جسےدنیا کی تمام عورتوں کی سردار کہا گیا ۔
ہاں شہلا ہم اس باپ کی بیٹیاں ہیں جو اپنے تہ بند کے کھل جانے کے ڈر سے غش کھا جاتا ہے جس کی حیاء اور پاکیزگی کی مثال پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے ۔
ہم ان غیرتمند بھائیوں کی بہنیں ہیں جنہیں دنیا کی سب سے افضل اور معتبر کتاب حکم دیتی ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔
اور ہاں یہی تو وہ خواتین ہیں جو ایک مسلمہ کی
رول ماڈل بھی ہے اور ان کا غرور بھی ۔
ہاں مجھے زیب نہیں دیتا اس پر رونق فریبی تہذیب کا حصہ بننا
لیکن ۔۔۔۔۔
مجھ پر لازم ہے اس چادر کا اوڑھنا جسے کبھی اپنے حسن کو زمانے میں منوانے کی ضرورت نہ محسوس ہوئی

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button