فکرونظر

ہمیں اس صبح کی تلاش ہے

شازیہ عرش ماہ بنت نقیب خان

(عمرکھیڑ ضلع ایوتمحل مہاراشٹر)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔۔
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح چاہنے والے ہیں۔خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے (سورہ بقرہ١١,١٢)

آدم علیہ السلام کی اولاد سب آپس میں بھائی بھائی ہیں،یہ ذات پات کی تفریق سمجھ سے بالاتر ہے،یہ ایک دوسرے پر فخر جتانا اس کے سوا کچھ نہیں کہ لوگوں نے اپنے پیدا کرنے والے رب العالمین کو بھلا دیا۔۔۔۔یہ کیا ہوگیا کہ غریبوں کے حق چھینے جا رہے ہیں،مظلوموں کو دبایا جارہے، ظلم کے خلاف آواز صرف مٹھی بھر افراد اٹھاتے ہیں،کیا ہوگیا کہ عہد کی پاسداری نہیں رہی ،سود کو معمول بنادیاگیا، محرم ونامحرم کی تمیز بھلا دی گئی،معاشرے میں والدین کے حق شناس نہیں رہے،اولاد کی تربیت کے لیے فکر مندی نہیں رہی، غرض کے برائیوں کا انبار اس وطن عزیز کا اساسہ بن چکا۔۔۔آج کسی گناہ کو گناہ نہیں سمجھا جاتا بس حکمت کی آڑ لے کر اور وقت کا تقاضا کہہ کر سب رب العالمین کی نافرمانیوں میں لگ گئے ہیں۔۔۔۔اس وطن عزیز کو تو وفا والوں کا خطاب ملا، یہ وطن عزیز ان کی میراث ہیں جو صحراؤں کا جگر چاک کرنے کا جذبہ اپنے اندر رکھتے تھے۔۔۔۔یہ وطن عزیز ان اندھیروں میں کیسے بھٹک سکتا ہیں،یہ وطن عزیز مغرب کے سانچوں میں کیسے ڈھل سکتا ہے؟۔۔۔ہمیں تو اس وطن عزیز کو ، اپنے اطراف کے ماحول کو خوشگوار بنانا ہے۔۔۔۔

بقول شاعر
چراغِ الفت جلا جلا کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا کو روشن بناتے جاؤ۔
مٹا کے شب کی مہیب ظلمت سحر کا نقشہ دکھاتے جاؤ۔

ترقیوں کے اس نام نہاد دور میں حکمرانوں کے جانب سے صرف وعدے کئے جاتے ہیں جو اس سے آگے نہیں بڑھتے ،خواب دکھائے جاتے ہیں کہ ہم چاند پر اپنا پرچم لہرائیں گے اور کچھ ہی دنوں بعد عوام کو گذشتہ٧٢ سال کے کاغذات میں الجھا دیا جاتا ہے۔۔۔

بقول شاعر

خواب سے بیدار ہو تا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

ہم ایک ایسی صبح کی تلاش میں ہیں جہاں کوئی مظلوم نہ ہو،جہاں کوئی ماں اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو انصاف کے لئے عدالتوں کے چکر لگاتی نہ پھرے۔۔۔۔جہاں کسی کو اپنی پہچان کی وجہ سے روہت،نجیب، پائل، فاطمہ کی طرح تاریخ نہ بننا پڑے،جہاں نربھیا کی طرح سالوں انصاف کا انتظار نہ کرنا پڑے،جہاں عدالتیں ثبوت اور گواہوں پر چلے نہ کے حکومتی فرمان اور اعتقاد پر۔۔۔۔۔۔۔ہم ایسی صبح چاہتے ہیں کہ جہاں امیر و غریب،کالا و گورا سب کے ساتھ انصاف ہو، نہ کہ کالے دھن کے نام پر غریبوں کو لائن میں اور امیروں کو دوسرے ملک بھاگنے کی کھلی چھوٹ دی جائے۔۔ہم چاہتے ہیں ذات پات کی تفریق ختم ہو،سودی نظام کا خاتمہ ہو، عہد اور وعدوں کو پورا کیا جائے،ملک کی ہر بیٹی کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے،ہم چاہتے ہیں مغربی تہذیب کی برائیاں ختم ہو،والدین کو عمر کے آخری ایام میں اولڈ ایج ہوم کے نام پر ذہنی اذیتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے،ہم چاہتے ہیں ایک ایسا جمہوری ملک جہاں ظلم کے خلاف آواز بلند ہو،قوانین کا نفاذ من مانے طریقے سے نہ ہو،پرامن احتجاج کرنے والوں پر غلط اور جارحانہ انداز نہ اپنائیں جاۓ، خواتین و مردوں پر جھوٹے مقدمات دائر نہ کئے جائیں، طلباء کو امتحان کے نام پر غلطیوں کے انبار والا پرچہ نہ تھما دیا جاۓ، یہ ہونہار طلبہ کے ساتھ سواۓ مذاق کے کچھ نہیں۔۔۔۔ابتدائی تعلیم کی اہمیت مٹائی جا رہی ہے اور عین نوجوانی میں ایسے امتحان دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔۔۔

ہم چاہتے ہیں کہ ظلم ختم ہو اور شرپسندوں کو سزا ملے،ہم سب کواپنے اپنے حقوق ملے، بڑھاپےکے عالم میں ان کی اولاد والدین کے لئے سہارابنے۔۔والدین کو اپنی اولاد کے مستقبل کے لئے فکر مند نہ ہو،ہم تاریک رات سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں مایوسیاں،خوف،جبر نےدلوں کو مسمار کررکھا ہے،آذاد ملک میں آذاد قلم و زبان کے ساتھ ترقیوں کا وہ سنہرا دور ہم چاہتے ہیں جہاں امیدوں کا سیلاب ہو، امن،سکون، اور ہر طرف خوشحالی ہو۔۔۔۔۔

بقول شاعر
ہے شوق سفر ایسا۔۔۔کہ مدت سے ہم نے
منزل بھی نہیں پائی اور رستہ بھی نہیں بدلا

اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم تمام کی حفاظت فرمائے اور ہم پر اپنی نظر کرم بنائے رکھے

آمین یارب ذوالجلال

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button