Sliderملی سرگرمیاں

ہم ‘بابری مسجد ملکیت اراضی معاملے’ میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں: سید سعادت اللہ حسینی، امیر جماعت اسلامی ہند

ہم فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں لیکن اسے قبول کرتے ہیں اور تمام لوگوں سے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔

ہم فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں لیکن اسے قبول کرتے ہیں اور تمام لوگوں سے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے آج صبح عدالت عالیہ کے ایودھیا فیصلے کے تناظر میں ملک کے تمام شہریوں سے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

امیر جماعت نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”ہمʼبابری مسجد ملکیت اراضی معاملے` سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں، فیصلے کے بعض نکات انتہائی اہم ہیں جو آئین کو مستحکم کرتے ہیں، اور جن سے یقیناً ملک میں امن اور لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ البتہ ہم فیصلے کے متعدد نکات سے متفق نہیں ہیں، خاص طور پر اس کے نتیجے سے۔

ہم ایک مہذب معاشرے میں رہتے ہیں جہاں قانون کو بالادستی حاصل ہے۔ ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ ہم عدالت عالیہ اور عدالتی عمل کے نتیجے میں ہونے والے فیصلے کا احترام کریں گے اور اسے قبول کریں گے۔ عدالت عالیہ کا فیصلہ ہمارے وکیلوں کے زیر غور ہے کہ آیا اس میں نظرثانی یا ترمیم کی پٹیشن داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے، نیز ہم اس سلسلے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے دیگر ارکان کے باہمی مشورے سے فیصلہ لیں گے۔

مختصراً یہ کہ ہم عدالت عالیہ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فیصلے کا احترام کریں، قانون کا احترام کریں اور امن و امان نیز فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔ اس فیصلے کی وجہ سے فرقہ وارانہ پولرائزیشن نہیں ہونی چاہیے۔ یہ فیصلہ نہ کسی فریق کی فتح ہے نہ شکست۔

Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button