Sliderقرآنیات

ہم قرآن کا حق کیسے ادا کرے؟

ڈاکٹر سماء شیخ ایوب

جالنہ مہاراشٹر
جی آئ او ۔ممبر

ہم قرآن کا حق کیسے ادا کرے؟
قرآن روح کی غذا ہے ۔
قرآن زندگی و موت کےامتحان کی کامیابی کا ذریعہ ہے ۔
قرآن قبر کا ساتھی ہے۔قرآن حشر کا سفارشی ہے۔قرآن دم نہ مارےگا جب تک جنت میں نا پہنچا دے۔عربی زبان قرآن و جنت کی زبان ہے ۔
اگر انسان ایک آیت سمجھ کر پڑھتا ہے تو اسے سو100 نفل نمازیں پڑھنے کا اجر ہے۔
قرآن سے تعلق ایسا ہو جیسے دو دوست باتیں کر رہے ہو۔
قرآن ہدایت و رہنمائی ہے انسانوں جنون کے لیے ۔قرآن انقلاب ہے انسانوں جنون کے لیے ۔قرآن ہماری مدد کرتا ہے اللہ رب العزت کی فرمابرداری کرنے کے لیے ۔
قرآن نفسانی شیطانیت سے روکنے کا ذریعہ ہے۔
قرآن سے تعلق جب تک مضبوط نہیں ہوسکتا جب تک ہم قرآن کو سمجھ نہ سکے ۔
امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” خبردار رہو ! جلد ہی فتنوں کا دروازہ کھلنے والاہے۔”
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس سے بچاو کس طرح ہو سکے گا ؟ فرمایا
” فتنوں سےبچانے والی کتاب صرف اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے”
یہ وہ کتاب ہے جس میں تم سے پہلےکے زمانے کی باتیں ہیں۔
تمہارے درمیان ہونے والے اختلافات کا حل بھی اس کتاب میں موجود ہے ۔
یہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی کتاب ہے۔کوئ ہنسی مذاق نہیں۔
جو سرکش اسے چھوڑدے گا، اللہ اسے پاش پاش کردے گا ۔
جو اسے چھوڑ کر کسی اور چیز کو ہدایت کا ذریعہ بنائے گا،اللہ اسے گمراہ کردے گا۔
یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ حکمتوں سےبھرپور یاددہانی ہے۔
یہی بلکل سیدھی راہ ہے۔
یہی وہ کتاب ہے جس میں لوگوں کی خواہشات ٹیڑھ نہیں پیدا کرسکتیں۔
نہ لوگوں کی زبانیں اسے گڈمڈ کر سکتی ہیں۔
یہ وہ کتاب ہے جس سے استفادہ کرنے والوں کا جی نہیں بھرتا۔باربار پڑھنے سے اسکے مضامین پرانے نہیں ہوتے ہیں۔
اس کے عجائبات کبھی ختم ہونے کا نام نہں لیتے۔
یہی وہ کتاب ہےجس کو سنتے ہی جن فورا بول اٹھے:
"ہم نے ایک عجیب پڑھی جانے والی چیز سنی ہے جو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے
تو ہم اس پر ایمان لے آئے ۔”(سورہ جن- 1،2)
جس نے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا۔
جس نے اس کی طرف لوگوں کو دعوت دی اس نے سیدھے راستے کی طرف دعوت دی۔(جامع ترمذی)
قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے ہمیں اللہ رب العزت سےدعاکرنی ہونگی کہ اللہ رب العزت آپکی ہدایت و رہنمائی کی توفیق عطا کیجے آمین ۔۔
ایمان
قرآن ایمان کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے ۔قرآن زندگی کے ہر لمحے کے لیے ہدایت و رہنمائی ہے ۔
قرآن نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے ، ایک حرف کے 10 دس نیکیاں ہے۔
قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہماری بہترین کامیابی کا ذریعہ ہے ۔
تدبر غور و فکر
” قرآن اللہ رب العزت کی حکمتوں کا خزانہ ہے” قرآن میں تدبر غور و فکر کرکے ان حکمتوں کو حاصل کرنا چاہیے ۔ قرآن میں کو اس طرح پڑھنا و سمجھنا چاہیے جیسے اللہ رب العزت ہم سے باتیں کر رہے ہیں ۔
قرآن کی ایک ایک آیت پر ہمیں سوچنا سمجھنا غور و فکر کر نا چاہیے کہ اللہ رب العزت ہمیں کیا ہدایت و رہنمائی کرہے ہیں۔
جب بھی قرآن کو پڑھے تو اپنے نفس کا تزکیہ کرنا چاہیے ۔ جب بھی قرآن کو پڑھے تو سوچنا چاہیے کہ یہ عمل ہمارے اندر صحیح ہے یا غلط ۔ اگر صحیح ہے تو اللہ رب العزت کا شکر اور اگر غلط ہو تو خود کو تبدیل کرنا چاہیے ۔ قرآن کی ایک ایک آیت میں اللہ رب العزت کی حکمت کو تلاش کرنا چاہیے ۔
عمل
قرآن پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے ۔قرآن پر غور و فکر کے بعد کی کیفیت عمل کی ہوتی ہے ۔جب ہم دل سے قرآن کی ہر بات کو قبول کر تےہیں تو عمل بھی کرتے ہیں ۔
قرآن پر عمل کرنے سے ہماری شخصیت میں انقلاب آتا ہے ۔ایک نئ شخصیت بیدار ہو تی ہے۔قرآن پر عمل کرنے سے ہمارے اندر مثبت شخصیت بیدار ہو تی ہے ۔
قرآن پر عمل کرنے سے ہماری زندگی و بعد موت ، دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔
قرآن پر عمل کرنے سے ہمارا اللہ رب العزت سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے ۔ ہم اپنی ساری امیدیں اللہ رب العزت سے رکھتے ہیں ہر حالت میں۔
قرآن پر عمل کرنے سے ہمارے اندر صبر جمیل کی کیفیت پیدا ہو تی ہے، جب ہم کوئی مشکل میں ہو تب بھی ہم اللہ رب العزت کا شکر بجالاتے ہے ۔ ہم ہر حال میں اللہ رب العزت کی حمد و ثناء شکر بجالاتے ہے ۔
تبلیغ
قرآن کی تبلیغ کرنا ہمارا فرض ہے ۔اگر ہم ایک کلمہ جانتے ہو تو دعوت دے نوع انسانوں کو۔
اگر ہم دعوت کا کام نہیں کرینگے تو کل آخرت میں وہی لوگ ہمیں پکڑ لیں گے اور کہے گے کہ تم نے ہمیں نہیں بتایا کہ ہمارا رب ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہے۔اسی لیے ایسا وقت آنے سے پہلے ہمیں تیار ہوجانا چاہیے اور دعوت کاکام شروع کر دینا چاہئے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک چلتے پھرتے قرآن کا نمونہ تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات ہر کام قرآن کے مطابق ہوتا تھا ۔ہمیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا چاہیے ۔دعوت کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن و سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔
ہمارا ایمان، کردار، عمل،غور وفکر تدبر دعوت یہ سب قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق ہونا چاہیے
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں یہ سب فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔یا رب العزت آپ کو راضی کرنے والے بنائے آمین یا رب العالمین

Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button