جہان کتب

ہندوستانی مسلمان (چیلنج’ امکانات اور لائحہ عمل)  مصنف ‘سید سعادت اللہ حسینی

حاصل مطالعہ

عرشیہ شکیل

نالاسوپارہ

تمام عالم اسلام میں مسلمانوں، اسلام اور اسلامی تحریکات باطل( اسلام مخالف ) طاقتوں کے نشانے پر ہے ۔
 آزادی کے بعد سےہی مسلم نسل کشی کی کوشش ہوتی رہی ہے۔آزادی کے فورا بعد سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ایکشن کرایا "مسلم بھارت چھوڑو”  بم دھماکوں  میں  مسلم  نوجوانوں  کی گرفتاریاں اور فسادات  وغیرہ سےمسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔
 حالیہ دور میں بی جی پی کھل کر مسلم دشمنی پر آگئی ہے ۔
اب شریعت پر حملہ ہو رہا ہے ۔ طلاق ثلاثہ حلالہ چار شادیاں وغیرہ موضوعات کو زیر بحث لاکر میڈیا ،سوشل میڈیا اور مختلف چینلز کے ذریعے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے پھیلائے جارہے ہیں سعادت اللہ حسینی صاحب نے اپنی کتاب ہندوستانی مسلمان چیلنج امکانات اور لائحہ عمل میں عالمی اور ملکی حالات کے پس منظر اور اس کی بنیادی اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔
 وطن عزیز کی موجودہ صورتحال پر اس تحریر میں مسلمانوں ہند کے لیے ایک زبردست پیغام عمل ہے اور آزمائشیں حالت میں مطلوبہ ردعمل کے سلسلے میں دس نکاتی لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے ۔
 آئیے ہم چھوٹے چھوٹے سوالات کے ذریعہ اس کتاب  کے موضوعات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
 عالمی سیاست کے میدان میں اسلاموفوبیا کے پیچھے کون سی وجوہات اور کونسی ذہنیت کارفرما ہے اسے ہم دو غیر ملکی  مصنفوں کے حوالے سے سمجھیں گے۔
 1۔۔۔ مغرب تیزی سے بوڑھا ہوتا جارہا ہے یورپ میں ہر پانچ میں سے ایک شخص کی عمر60 سال سے زیادہ ہے۔ یورپ کی  معیشت کو جوان خون عالم اسلام سے مل سکتا ہے ہے انہیں اندیشہ ہے کہ جب یہ جوان ہمارے ملک میں آئینگے تو اپنے ساتھ اسلام لائیں گے اور یہ چاہتے ہیں کہ یہ مہاجروں کی آمد کا سلسلہ جاری رہے لیکن اسلام کا اثر معاشرے پر نہ پڑے اس کے تناظر میں میں انہوں نے پالیسیاں بنائی ہیں۔
آنے والے مسلمان ان اسلام کا اثر معاشرے پر نہ ڈال سکے۔
 2)  مشرقی وسطی  اور اسلامی ممالک میں وہ طاقتیں اقتدار کے مراکز کے قریب نہ پہنچ پائے جن کو ڈھال بنا کر خریدنا ممکن نہ ہو اس حالت میں ان ممالک پر کنٹرول مشکل ہورہا ہے اس لیے خون خرابہ اور خانہ جنگی سے انہیں گزارا جائے اسے وہ تعمیری افراتفری Costructive chaos کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور  فرانسیسی  تجزیہ نگار  نے اپنی کتاب  The politics of chaos in the middle east   میں لکھا ہے کہ امریکہ کو القاعدہ کو چھوڑ کر حماس اور اخوان کا پیچھا کرنا چاہیے۔
 مغرب میں تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے ۔۔۔۔۔ اسلامی عقائد اخلاق ، روحانیت اور اسلام کا مضبوط عائلی نظام کی وجہ سے تمام مشرقی مذاہب اور  فلسفہ کے مقابل میں اسلام زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے دوسری طرف مغربی ممالک میں یہ احساس شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ مستحکم خاندان کے بغیر نہ پائیدار معاشرہ ممکن ہے نہ پرسکون انفرادی زندگی۔چنانچہ خاندانی قدروں  کا تحفظ امریکہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ملکوں میں جنرل الیکشن کا موضوع بن چکا ہے  آسٹریلیا میں ایک پوری سیاسی جماعت” فیملی فرسٹ پارٹی” اس نام سے کام کر رہی ہے  پیو فاونڈیشن کے حالیہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید اسلام مخالف پروپیگنڈے کے باوجود مغربی دنیا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے ۔
ڈیوڈ سیلبورن کی کتاب losing battle with Islam جس میں اس نے دس وجوہات  گنائی ہے جس کی وجہ سے اس کے خیال میں اسلام سے لڑائی جتنا اب امریکہ کے لیے ممکن نہیں ۔ فرنچ مصنفMichael  houelle becq کی کتاب Submission جس میں اس نے تصور کیا کہ فرانس میں  آئندہ سات سال بعد اسلام پسندوں کی حکومت ہوگی ان کتابوں میں جدید مغربی  پالیسی سازوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ حال میں سیلبورن نے اپنے ایک مضمون میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے اپنی تفصیلی بات چیت کا حوالہ دیا ہے جس میں اس کے بقول وزیر موصوف نے اس کی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اگر صورتحال اس طرح رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے عہد کی تاریخ اسلامی خلافت کی نگرانی میں لکھی جائے گی یہ وہ خوف ہے جس کے تحت بڑی بڑی طاقت اپنی پالیسیاں بنا رہی ہے ۔
  پالیسیوں کے نمایاں اجزاء
1)اسلام قابل نفرت بن جائے 2)مسلمانوں سے ایسے کام کرانا جس سے اسلامی خطوط کو ایسے جہنم میں بدل دینا کے لوگ اسلام اور مسلمان کے نام سے متوحش ہو جائیں۔
 3) مسلمانوں کو گروہوں میں بانٹ دینا
4)اسلامی تحریکات کو کمزور کرنا (اخوان، حماس، جماعت اسلامی  پاکستان )
5) مسلمانوں کا اسلام اور  محمد ﷺ سے  تعلق کمزور کرنا 6)اسلامی ممالک میں پٹھوں حکومتیں، فوج اور ڈیپ اسٹیٹ کو تقویت دینا مثلا داعش کا فتنہ
 نوٹ۔۔۔ڈیپ اسٹیٹ  تھیوری  کے تحت ریاست کے مفاد میں سول ملٹری، قیادت، تھنک ٹینکس اور میڈیا ہمیشہ ایک پیج پر نظر آتے ہیں)
 ریانڈکارپوریشن کی رپورٹ۔۔۔
 جس میں اہل اسلام کو سیکولر جدت پسندی، روایت پسند، بنیاد پرست گروہوں  میں تقسیم کیا گیا اور یہ تمام گروہ کو ساتھ لیکر  اسلام پسندوں کا مقابلہ کیا جائے۔
ایان ہیری علی نے اسلام میں مطلوبہ اصلاحات کے حوالے سے پانچ مطالبات پیش کیے ہیں۔
 1)  آخرت کو ترجیح دینا چھوڑ دے
2) شریعت کو اٹھا کر رکھ دیں 3)سیکولر قوانین کا احترام کرے
4)لوگوں  کو یہ بتانا چھوڑ  دے  کہ وہ کیا کھائے اور کیا پہنے 5)جہاد کا تصور چھوڑ دے
6)محمدﷺ  کی باتوں  کی نئی تعبیر ہو سکتی ہے اور ان باتوں پر تنقید کی جا سکتی ہے (نعوذ باللہ من ذالک )
نوٹ۔۔ تفریق بین اللہ والرسول پر کام ہو رہا ہے۔ حدیث اور سنت نبوی کی من مانی تاویلات نئے اصول اور فلسفے بیان کئے جارہے ہیں ۔
 ہندوستان کے حالات پر ایک نظر۔۔۔
 2022 میں ہندوستان آبادی کے لحاظ سے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا
2030میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہندوستان  میں  ہوگی اور یہ آبادی ورکنگ ایچ پاپولیشن ہوگی ۔
ہندوستان میں شدید فرقہ پرستی کی لہر ہے اب یہ گروہ میں نہیں بلکہ پورے نظام میں سرایت کرتی جارہی ہے۔ جسے ہم ادارہ جاتی فرقہ پرستی کہہ سکتے ہیں ۔فرقہ پرستی ذہنیت ملک کے سول سروس، پارلیمانی اور قانون ساز اداروں اور سکیورٹی کے اداروں، علم و دانش کے مراکز ،نظام تعلیم، میڈیا کی تجارتی اداروں حتی کہ این جیو اور سول سوسائٹی تک سرایت کر چکی ہے ۔
 مسلمانوں کی سماجی کمزوریاں
1)غربت
2) تعلیم و خواندگی کی کمی
3) دین سے دوری
4) صلاحیتوں کا فقدان
5) سیاسی بے وزنی میڈیا میں ان کی بےآوازی
6) مراکز حکومت میں ان کی انتہائی کمزور نمائندگی ان سب کے نتیجے میں سماج کے لیے ان کا وجود بجائے ایک اثاثہ کہ ایک بوجھ بن گیا ۔
آزمائشی حالات اور قوموں کاردعمل
 قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کہ سخت حالات کیوں آتے ہیں اور ان کا کیا حل ہے۔
 چار اہم اسباب۔۔۔۔
 اجتماعی غلطیاں اور گناہوں کی سزا کے طور پر
 سورہ شوریٰ آیت نمبر 30
” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر "
 تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے  اور بہت سے قصوروں کو وہ ایسے ہی درگزر کر جاتا ہے
 2)۔۔۔ نا شکری
 اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے ہے وہ امن و اطمینان سے زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت  رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمت کا کفران شروع کر دیا تو اللہ نے اس کے باشندوں کو ان کے کرتوت کا مزہ چکھایا تاکہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا جائے جائے سورہ نحل آیت نمبر 112
حالات کی سختی کا تیسرا اہم ترین سبب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کو ان کے ذریعے آزماتا ہے حالات کی سختی سے منافقین الگ ہو جاتے ہیں۔ کمزور ایمان والے اور نا پختہ کردار کے لوگ چھٹ جاتے ہیں ۔جنگ احد کے موقع  پر جو آیت نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا تھا کہ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سچے مومن کون ہے اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا ہے جو واقعی راستی کے گواہ ہیں ہیں۔
 چوتھی اہم بات بعض اوقات حالت کی سختی اللہ کی کسی بڑی مصلحت اور کسی پوشیدہ اسکیم کا حصہ ہوتی ہے جن کو ہم مصیبت سب سمجھتے ہیں وہ عظیم کامیابی کا زینہ ہوتی ہے ۔ مثلا یوسف علیہ سلام کا واقعہ
  سورہ یوسف آیت نمبر 10
 واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے۔
 تین طرح کے ردعمل ۔۔۔
 آزمائشی دور میں تین طرح کے ردعمل سامنے آتے ہیں
 1) خوف شکست خوردگی خودسپردگی مکمل پسپائی پھر درعمل مصلحت حالات سے مطابقت اجتہاد کی وغیرہ جیسے خوشنما ناموں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔
 انتہا پسندی اندھی جذباتیت   فکری وہ فقہی جمود اندیشے  وغیرہ
 ارتجاعیت یا لچک۔۔ اگر آپ کو دبایا جائے تو اسپرین کی طرح زیادہ قوت کے ساتھ بانس بیک کریں گے اور یہ عوام کو جگانا ہے ایک طرح سے فیڈبیک فراہم کرتا ہے سخت خطرہ آدمی کی قوتوں  کو اچانک بڑھا دیتا ہے۔ تاریخ عالم کے مشہور تجزیہ نگار پروفیسر ٹائن بی  نے تہذیبوں کے عروج کا محرک ہی یہ قرار دیا ہے کہ سخت حالات اور چیلنج ایک چھوٹے گروہوں کی تخلیقی قوتوں کو بیدار کرتے ہیں اور وہ نئے منفرد آئیڈیاز کے ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔چنانچہ  یورش تاتار نےصنم خانوں  سے کعبے کو پاسباں فراہم کیے ییں۔
 مسلمان اور سماجی قوت ۔۔سماجی  قوت قوموں کا تشخص باقی رکھتی ہے ۔
سماجی قوت کے اجزاء
نظریاتی قوت
 اخلاقی قوت
 اجتماعی رویے کی طاقت
 یعنی انسانی اوصاف
  نافعیت ۔۔
مسلمان اور ان کی قیادتوں کے لئے دس نکاتی پروگرام
 مثبت طرز فکر ۔۔۔۔ اللہ پر توکل کرکے  کاموں  کو انجام دینا۔وسوسے  سے پرہیز۔
 جذباتیت سے گریز ۔۔حکمت اور بصيرت  کے ساتھ فیصلہ  لیے۔نمائشی کام اور تقاریر سے پرہیز
اپنا چارج  خود لیں۔۔۔ہر میدان میں  آگے آئیں۔
 اختلافات کے باوجود اتحاد و اتفاق  سے کام کرے۔
ملک کی اکثریت سے کمیونیکیشن ۔۔۔ٹی وی مباحث خبارات کے کالموں اور عالمی محفلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔ سوشل میڈیا پر صحت مند مباحثہ
 اسلام کی عملی شہادت۔۔۔ امت اسلام کی تعلیمات کو سماج میں نافذ کرے۔ جیسے وراثت  کا حق دینا ،اسلامی طریقے پر شادیاں ،طلاق، خلع کے معاملات حل کرنا ،سود کا خاتمہ کرنا پاکی و صفائی وغیرہ
  سول سوسائٹی کا استحکام ۔۔۔مشترکہ  پلیٹ  فارم کے ذریعے  فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنا
قوم اور ملک کے لۓ  اثاثہ بنے۔
قیادت اور دنشوری کی جدید کاری
اعلی درجہ کی صلاحیتوں کا فروغ ۔۔۔سول سروس ، قانون ،سماجیات،معاشیات ،
جرنلزم ان سب میدانوں  میں  بلند پایہ صلاحيتں پیدا کرنا۔
کوشیش  کی ہوں  کہ اہم پوانٹس  خلاصہ کا حصہ بنے۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button