Sliderفکرونظر

ہواؤں کا رخ بدلتا رہتا ہے

توصیف جعفر خان

کچھ سال پہلے کسی کام سے میں مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال گیا تھا اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد شہر گھومنے نکلا تو ہمارے ساتھی سے میں نے کہا یہاں کی کوئی مشہور جگہ لے چلیں انہوں نے کہا کہ بھوپال گیس اسٹریٹجی کی وجہ سے ہی بھوپال پوری دنیا میں مشہور ہے ویسے تو مشہور ہونے کے لیے دوسری کئی وجوہات ہوسکتی تھی لیکن افسوس 16 ہزار سے زائد افراد کی موت نے اس شہر کو ویران کر دیا تھا اور آج یہ ویرانی ہی اس شہر کی پہچان بن کر رہ گئی ہے. ہم نے آٹو پکڑا اور Union Carbide India Limited (UCIL) فیکٹری دیکھنے چلے گئے ہمارے رفیق نے پورا قصہ سنایا، واقعہ 3 دسمبر 1984 کی رات کا ہے اس فیکٹری سے Methyl Isocyanate (MIC) زہریلی گیس خارج ہونے کی وجہ اندر کام کرنے والے اور شفٹ ختم کرنے کے بعد باہر فٹ پاتھ پر بسنے والے لوگ بھی جو دراصل اسی فیکٹری میں مزدوری کرتے تھے موت کی گھاٹ چڑھ گئے دھیرے دھیرے گیس فضاء میں مل گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر میں پھیلنے لگی ہر طرف یہ خبر پھیل گئی کہ ہوا کے ذریعے لوگ مر رہے ہیں لیکن حقیقت کا کسی کو اندازہ نہیں تھا لوگ کچھ سمجھ نہیں پارہے تھے اور بس ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے کہ کہیں زہریلی ہوا انہیں نا مار دے…میں نے ان سے پوچھا آپ کہا بھاگے تھے؟؟
انہوں نے کہا کہ میں بھی پڑوسیوں کی طرح بھاگنے والا تھا امی کو ساتھ میں لینا تھا اس لیے پہلے گھر گیا اور امی کو گھبراہٹ میں پوری بات بتائی تو امی نے مجھے کہا کہ بیٹا ہوا کا رخ بدلتا رہتا ہے تو کہاں کہاں بھاگے گا؟ اور کتنی تیز رفتاری سے بھاگے گا؟ کیونکہ ہوا ہم سے زیادہ تیز رفتار سفر کرتی ہے! اس لئے یہی بیٹھ ہم کہیں بھی بھاگ جائیں گر موت ہوگی تو پیچھا کر کے ہی دم لے گی اور اگر موت نہیں ہے تو اس ہوا سے بھی جینے کے لئے آکسیجن مل ہی جائے گی…ہم وہیں بیٹھے رہیں کہیں نہیں گئے!
اور وہی ہوا جو پڑوسی بھاگ کر گئے تھے وہ کبھی واپس نہیں آئے اور ہم گھر پر رہ کر ہی آج تک جی رہے ہیں..!
آج نہ کوئی ایسا حادثہ پیش آیا ہے اور نہ ہی اس واقعہ کی کوئی برسی منائی جا رہی ہے میں آج یہ واقعہ اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ لوگ زہریلی ہواؤں سے بچنے کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا چاہتے ہیں انہیں ہمارے ساتھی کے والدہ کا جملہ یاد دلا دوں کہ زہر جب ہوا کے ساتھ مل جائے تو اس کا فوری کوئی حل نہیں نکل سکتا اور نہ ہی بھاگ جانے سے ہم ہوا کو ہرا سکتے ہیں.
آج ہمارے معاشرے میں نفرت کا زہر مل چکا ہے اسے کتنا ہی تیز بھاگ کر ہرانا مشکل ہے اور بھاگ کر جہاں کہیں بھی جاؤ گے وہاں اس زہر کا سامنا ہونا ہے تو پھر بھاگنا کیسا؟
ایسے وقت میں ضروری ہوگا کہ اس کا مقابلہ کیا جائے مقابلہ کرنا آسان ہے بجائے اس کے کہ اپنا سب کچھ ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، میں کسی پر ظلم کرنے کی بات نہیں کر رہا ہوں اور نہ ہی میں اس کی ترغیب دے رہا ہوں کہ کسی بھی راہ چلتے کو مارا جائے یہ تو ظلم ہوگا بلکہ جو ظلم کر رہا ہے اسے اسی انداز میں اور اتنی ہی مقدار میں سبق سکھایا جائے یہ لاکھ گنا بہتر عمل ہے بجائے اس کے کہ اپنے آپ کو ظالموں کے قدموں میں ڈال دیا جائے اور زندگی کی بھیک مانگی جائے.
پہلے تو نفرت کا زہر انہیں آپ کو زندہ چھوڑ دینے کی اجازت نہیں دیگا اور اگر انہوں نے زندہ چھوڑ بھی دیا تو بھیک میں ملی ہوئی زندگی کو کیسے جیو گے؟؟
اس لیے اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت میں لڑو، زندگی کی بھیک مت مانگو، ڈٹے رہو اپنے ہاتھوں سے اپنے جسم کے ہر عضو سے مقابلہ کرو یہاں تک کہ ظالموں کے سامنے زور دار آواز میں نعرے تکبیر بلند کرتے رہو ایسی ہمت پیدا کرو جو ان حالات میں ہاتھ اور پیر کو کانپنے نا دیں.
ظلم کے وڈیوز خوف کو پیدا کرنے کے لیے ہی آتے ہیں انہیں ایک دوسرے سے شیئر کرنے یا رو رو کر رحم کی التجا کرنے کی بجائے میدان میں نکل کر ڈٹنے والے بنیں، کوئی قیادت کر سکتا ہے تو قیادت کرے کوئی اچھی جوشیلی تقریر کر سکتا ہے تقریر کرے کوئی شعر اور ترانے سنا کر بستی کے جوانوں کا خون گرما سکتا ہے تو گرمائے جو جس انداز میں باطل کی نفرت کا جواب بن سکتا ہے بنیں لیکن ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھے، صبر، دعا اور خاموشی یہ حادثوں سے پہلے کے کام ہیں جب ظالم سر پر آجائے تو اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کا منہ توڑ جواب دینا واجب ہوجاتا ہے.
یہ امت جو خود کمزور اور مظلوموں کی طاقت اور آواز بنا کرتی ہے اس لیے ہم دوسروں کی مدد کا انتظار نہ کریں اپنی مدد آپ کریں، جس صورتحال کا بھی سامنا ہو اس میں بہتر حکمت عملی کے ساتھ شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کریں…لیکن مقابلہ کریں دیکھیں آپ کے اس مظاہرے سے دشمنوں کی صفوں میں کیسے بھونچال آتا ہے ورنہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے رہیں آپس میں ٹوٹتے بکھرتے رہیں بھاگتے رہیں جہاں بھاگو گے ایسی ہی فضاء سے پالا پڑے گا جہاں بھاگو گے نفرت، ڈر اور خوف سے دم گھٹتا رہے گا…ان ہواؤں سے مت ڈرو کیونکہ ہواؤں کا رخ بدلتا رہتا ہے اور اگر یہ نہ بدلے تو ہم اسے بدل سکتے ہیں!

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button