Sliderجہان خواتین

ہےانقلاب کی نقیب عورت

عائشہ صدیقہ عادل مدنی

جی آئی او اورنگ آباد وسط

تاریخ گواہ ہے کہ تقریباً انقلاب کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہی ہاتھ ہے تمام بڑی بڑی ترقی یافتہ شخصیت کے پیچھے بھی اک عورت ہی ہے ۔اس کا ثبوت یہ ہےکہ جب حضرت جبرعیل علیہ السلام پہلی وحی لےکر آے تو آپﷺ پرخوف اور دہشت طاری هوگیا تھا لیکن ان کا ساتھ دینے والی اور ان کا حوصلہ بڑ ھانےوالی حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا عورت تھی ۔ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاعورت تھی۔جنگِ بدر میں اپنے شیرخوار بچّے کو لےکرآپﷺ کی حفاضت کرنے والی اُمّ عمّارہ عورت تھی۔ جنھیں آپﷺ نے کہا تھا کہ میں جنگِ بدر میں جہاں دیکھتا ہوں وہاں ام عمارہ نظر آتی ہے ۔ حضرت عمر جیسی جوشیلی اور طاقتور شخصیت جس سے شیطان بھی خوف کھاتا تھا انھیں اسلام کی طرف راغب کرنے والی ان کی بہن حضرت فاطمہ عورت تھی ۔غزوہ خندق میں جب ایک منافق عورتوں اور بچّوں کی طرف آگیا تو اس منافق کی گردن جسم سے الگ کرنے والی حضرت صفیہؓ عورت تھی۔ آپ ﷺ کی احادیث سب سے زیادہ جن سے مروی ہے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا عورت تھی۔اسلام کی سب سے پہلی شہید ہونے والی حضرت سمیہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا عورت تھی ۔جب ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوا کے اپنے بچّے اور بیوی کو کسی صحرا میں چھوڑ آو تو اللہ کی حکم کی فرمانبرداری کرنے والی حضرت ہاجرہ علیہ السلام عورت تھی ۔ لڑکیوں کے لیے پہلا اسکول قائم کرنے والی فاطمہ شیخ اور ساوتری بائي پھلے عورتیں تھی ۔ جامعہ میں لاٹھی چارج پر طلباء کی حفاظت کرنے والی عائشہ اور لدیدہ عورتیں ہیں ۔دہلی کے شاہین باغ میں دستور کے لیے لڑنے والی عورتیں ہیں ۔ کیونکہ انقلاب کی نقیب عورت ہے ۔
جب ایک عورت بیٹی بنتی ہے تو اپنے باپ کی عزّت بن جاتی ہے ۔اور جب بہن بنتی ہے تو اپنے بھائی کی غیرت بن جاتی ہے ۔ اور پھر جب عورت بیوی بنتی ہے تو محبت بن جاتی ہے ۔ اور جب عورت ماں بنتی ہے تو ممتا کے لباس میں ملبوس ہو کر نسلوں کی پرورش میں لگ جاتی ہے ۔ کیونکہ انقلاب کے نقیب عورت ہے ۔
خود اللہ تعالی نے عورت کامقام بہت بلند کیا ہے ۔ جب عورت کو بیٹی کا شرف دیا تواس کے باپ کو رحمت اور جنت کی خوشخبری دی گی۔ اور جب یہی عورت بیوی بنی تو اپنے شوہر کے قلب کا سکون بنی ۔ اور پھر جب ماں کا روپ اختیا ر کیاتو جنّت اٹھا کر ماں کے قدموں تلے ڈال دی۔یہ اپنےکردار کو انجام دیتے ہوئے اُف تک نھیں کرتی پھر کیوں انہیں منحوس اور بدنصیب سمجھا جاتا ہے؟کیوں انہیں آگےبڑھنےکی اجازت نہیں دی جاتی ہے؟ کیوں انہیں انکےحقوق سےمحروم رکھاجاتاہے؟کیوں انکی پیدائش پرماتم اور زندہ درگورکیاجاتاہے؟کیوں بالغ ہونےسے پہلےہی انکی شادی کسی بوڑھے سے کردی جاتی ہے؟ کیوں شوہر کےمرنے پرانہیں انکے ہی شوہر کےساتھ جلادیا جاتا ہے؟کیوں انہیں ستایاجاتاہے؟کیوں انہیں حوس کا نشانہ بنایاجاتاہے؟کیوں انکی عزتوں کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے؟
ارےیہ لڑکیاں تو بہت بھولی ہوتی ہیں چنچل ہوتی ہیں؛خوش مزاج ہوتی ہیں ؛حساس ہوتی ہیں؛ معصوم ہوتی ہیں؛نرم مزاج ہوتی ہیں؛ یہی تونسلوں کو تیار کرنےوالی ہیں۔یہی تو جنت کی چابیاں ہیں۔انہی سےتو انقلابات کی ابتدا ہوئ ہیں ۔کیونکہ انقلاب کی نقیب عورت ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button