Sliderجہان خواتین

ہے انقلاب کی نقیب عورت!

عورت نصف انسانیت ہے باقی نصف انسانیت اس کی گود میں پلتی ہے۔

خان عرشیہ شکیل

(نالاسوپارہ)

 عورت نصف انسانیت ہے باقی نصف انسانیت اس کی گود میں پلتی ہے۔ جس طرح ستون کو دیکھ کر کسی عمارت کی مضبوطی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اسی طرح عورت کی حیثیت دیکھ کرقوم کی عظمت و سربلندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ معاشرے کا ستون اگر مضبوط ہو تو  اس پر قوم کی ترقی کی چھت ڈالی جا سکتی ہے۔

بے شک عورت  ہر روپ میں ایک عظیم کردار نبھاتی ہے تاریخ کے اوراق گواہ ہے کہ معاشرے کی تعمیر  میں عورتوں  کا رول بے حد اہم رہا۔

 عورتوں نے جس طرح بچوں کی پرورش، امور خانہ داری، رشتوں کی پاسداری جیسے فرائض کو حکمت وفراست سے انجام دیا نتیجتاً بڑے بڑے علماء محدث، سائنسداں، سپہ سالار، حکمران، سائنسداں، ڈاکٹرز انجینئر، ہزاروں جیالے جو اس کارخانے دنیا کو چلانے والےماہرین میسر آۓ  ان سب کے پیھچے  ماؤں کی انتھک محنت وپرورش کار فرماں رہی۔

 ہزاروں خواتین ایسی ہے جنہوں نے گھر کے ساتھ ساتھ سماج میں بھی بہت اہم رول ادا کیا ہے ہے

ہم چند عظیم خواتین کی زندگی پر روشنی ڈالیں گے

 فاطمہ الفہری: جس نے دنیا کی پہلی یونیورسٹی القروین مسجد کی بنیاد ڈالی۔ یہاں دنیا بھر سے سے طلباء آکر علم حاصل کرتے ہیں۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ستاروں کی معلومات، سائنس، علم ریاضی اور دیگر زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ 1200 سال گزر چکے لیکن آج بھی طلبا یہاں علم حاصل کر رہے ہیں۔

 توکل کرمان۔۔۔۔۔ یہ یمن کی صحافی ہے۔ آپ سیاستداں  اور حقوق انسانی کی کارکن رہی انہوں نے  Women journalist without  chain  گروپ قائم کیا۔ لوگ آپ کو "آئرن وومن "کے نام سے یاد کرتے ہیں سب سے کم عمر نوبل  انعام پانے والی خاتون میں آپ کا شمار ہوتا ہے ـ

 نعمات عبداللہ محمد خیر:سوڈان کی عبوری خود مختار کونسل نے  چیف جسٹس کے منصب کے لیےآپ کا تقرر کیا۔ آپ سوڈان کی پہلی خاتون چیف جسٹس بنی۔ عمر البشر کی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد خواتین کا ملک کی سیاسی تاریخ  میں انقلابی تحریک کو سپورٹ کرنے والی خواتین میں جسٹس نعمات خیر بھی شریک تھیں۔ انہوں نےقاہرہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ 1938 میں عدلیہ کے معاون کے طور پر کام شروع کیا۔ کئی برس تک فوجداری، شہری اور دیگر نوعیت کے عدالتوں میں کام کرتی رہی  پہلے سیکنڈگریڈ اور پھر فرسٹ گریٹ جج بن گئ۔ 2003 میں ہائی کورٹ جج مقرر ہوئیں اور 2015 میں سپریم کورٹ کی جج بنا دی گئ۔

  نسیمہ ہر ذوک۔:۔16 سال کی عمر میں  ایک مرض کی وجہ سے آپ کے جسم کا کمر کے نیچے  کا آدھا جسم مفلوج ہوگیا تھا۔ لیکن اس بلند حوصلہ عورت نے Helpers of the handi capped نامی تنظیم بنائی۔ اپاہجوں کو حوصلہ بخشا انہیں صرف پالا پوسا نہیں بلکہ لکھنے پڑھنے کے قابل بنایا ۔ کمپيوٹر ، مختلف  کھیل ںسکھانے۔آج  اپاہج  لوگ مختلف  کھیلوں  میں  حصہ لیتے ہیں۔  تیستا  ستلواد۔۔۔۔آپ نے journalist  against  communalism نامی تنظیم قائم کی۔ ممبئی فسادات کے بعد ایک فورم  citizen  for peace &justice قائم کیا۔ گجرات فسادات اور فرقہ پرستی پر کمیونزم کمیٹی  میں کئی مضامین اور رپورٹیں شائع کی۔ اور فرقہ پرست کو بے نقاب کیا۔

دیہی خواتین کا تذکرہ۔۔۔ڈوبا  گھنٹہ آندھراپردیش کے نیلور ضلع میں ایک چھوٹا سا دیہات ہے جہاں” سمیتا "نامی عورت نے  شرابی شوہر  سےتنگ آکر خودکشی کرلی تھی۔ اس کہانی کا اثر لے کر وہاں کی عورتوں نے جن کے شوہر شرابی تھے۔ شراب کے خلاف آواز اٹھائی۔ کمیٹیاں بنائی۔ شرابی مردوں سے مندر میں شراب چھوڑنے کی قسمیں لیں۔ خواتین کے گروپ نے کیروسین تیل، مرچی پاؤڈر، لاٹھیاں جیسے اسلحہ جات استعمال کرکے شراب کے اڈوں کنٹراکٹرز کے ٹھکانوں اور گوداموں پر حملے شروع کردیے۔ یہ تحریک تین ماہ کے اندر 800 دیہاتوں میں پھیل گئی۔ تیلگو دیشم کے سربراہ این ٹی راما راو نے صورتحال دیکھ کر شراب پر مکمل پابندی عائد تھی۔

 سیوایا اسوسیشن۔۔۔۔یہ گجر ات کے دیہاتوں میں غریب مزدور پیشہ ور اور چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والی خواتین کی تنظیم ہے ہے۔ "محترمہ ایلا بھٹ” نے یہ تنظیم 1972میں مزدور پیشہ خواتین کی مدد سے قائم کی تھی۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اور حکومت کے سربراہان اس کو دیکھنے کے لئے سیوا کے دفتر کا دورہ کرتے ہیں۔  حال ہی میں نیدرلینڈ کے وزیراعظم نے دورہ کیا۔ سیوا کا طریقہ بہت سادہ ہے وہ مزدوروں غریب تاجر عورتوں کے حقوق کے لیے لڑتی ہے۔ کو آپریٹیواداروں کے ذریعے ان کی سماجی اور معاشی حالت سدھارتی ہے۔ ان کے اعتماد کو بڑھاتی ہے۔ آج سیوا کے تقریبا (84) co operative  ادارے ہیں۔تقریباً  53 ڈیری کوآپریٹیو ہیں جو صارفین کودودھ فروخت کرتی ہیں اور بھاری  مافع کماتی ہے۔اس کے علاوہ

زولو جی پروفیسرNematology کے میدان  میںOnta کی جانب سے خصوصی  اعزاز  حاصل  کرنے والی ایشیا  کی پہلی خاتون  قدسیہ تحسین،  چوتھے انعام یافتہ عورتوں کے تحفظ کے تعلق سے  بنائے گئے ایپ کی ٹیم کا حصہ رہنے والی انصاری تزئین بانوناصر احمد، ایشیا کی پہلی اولین خاتون  ریلوے انجن ڈرائیور  مسز ممتاز مقصود  احمد قاضی، پہلی مسلم خاتون پائلٹ سارا حمیداحمد، ارم حبیب، عالیہ تبسم  حنا مسعود، کیرالہ کی پہلی با حجاب اور تین مرتبہ طاقتور خاتون کا خطاب جیتنے والی باڈی بلڈر مجیزیہ بانو، فٹبال  کوچ گل افشاں انصاری۔ ٹینس  ڈبلز دنیا کی سابق نمبر ون ثانیہ مرزا اور سیاسی دنیا کی مضبوط خواتین آنہجانی  اندرا گاندھی، جے للیتا، ممتا بنرجی،مایاوتی ایسی کئی خواتین نے جھنوں نے ثابت کر دیا کہ "ہے انقلاب کی نقیب عورت”۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button